دستورِ جماعت

جماعت اسلامی کی تنظیم، اسلام کے شورائی اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ اصول اگرچہ مستقل ہیں لیکن ان کے تحت تشکیل پانے والے اداروں اور تنظیمی ڈھانچوں میں حالات کے مطابق تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے دستور میں بھی توسیع جماعت کے ساتھ ساتھ تبدیلی اور ترمیم و اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس طرح دستور جماعت جن ارتقائی مراحل سے گزرا ہے، اس کی مختصر تاریخ اس دستور کے آخر میں ضمیمہ نمبر 5 میں ملاحظہ فرمائی جاسکتی ہے۔ نیز دستور کی بعض دفعات کے متعلق تعبیرات اور توضیحات کو بھی ضمیمہ نمبر 4 میں درج کر دیا گیا ہے، تاکہ آئندہ ان دفعات کا مفہوم متعین کرنے میں کوئی دقت محسوس نہ ہو۔
دستور جماعت کی موجودہ اشاعت میں ۲۷ دسمبر ۲۰۱۹ء تک ہونے والی ترامیم شامل ہیں۔
دسمبر ۲۰۱۹ء  قیّم جماعت اسلامی پاکستان

نام:

دفعہ۱:اس جماعت کا نام ’’جماعت اسلامی پاکستان‘‘ اور اس دستور کا نام ’’دستور جماعت اسلامی پاکستان‘‘ ہوگا۔

تاریخ نفاذ:

دفعہ ۲: یہ دستور یکم جون ۱۹۵۷ء مطابق ۲ ذی القعدہ ۱۳۷۶ھ سے نافذ العمل ہوگا۔ ۱؎

عقیدہ:

دفعہ۳: جماعت اسلامی پاکستان کا بنیادی عقیدہ لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ہو گا۔ یعنی یہ کہ صرف اللہ ہی ایک الہٰ ہے، اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

تشریح: اس عقیدے کے پہلے جزو یعنی اللہ کے واحد الہٰ ہونے اور کسی دوسرے کے الہٰ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمان اور جو کچھ زمین اورآسمان میں ہے، سب کا خالق، پروردگار، مالک اور تکوینی و تشریعی حاکم صرف اللہ ہے، ان میں سے کسی حیثیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔

اس حقیقت کو جاننے اور تسلیم کرنے سے لازم آتا ہے کہ:

(۱) انسان اللہ کے سوا کسی کو ولی و کار ساز، حاجت روا اور مشکل کشا، فریاد رس اور حامی و ناصر نہ سمجھے، کیونکہ کسی دوسرے کے پاس کوئی اقتدار ہی نہیں ہے۔

(۲) اللہ کے سوا کسی کو نفع و نقصان پہنچانے والا نہ سمجھے، کسی سے تقویٰ اور خوف نہ کرے، کسی پر توکل نہ کرے، کسی سے امیدیں وابستہ نہ کرے کیونکہ تمام اختیارات کا مالک وہی اکیلا ہے۔

(۳) اللہ کے سوا کسی سے دعا نہ مانگے، کسی کی پناہ نہ ڈھونڈے، کسی کو مدد کے لیے نہ پکارے۔ کسی کو خدائی انتظامات میں ایسا دخیل اور زور آور بھی نہ سمجھے کہ اس کی سفارش قضائے الٰہی کو ٹال سکتی ہو، کیونکہ اللہ کی سلطنت میں سب بے اختیار رعیت ہیں، خواہ فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء۔

(۴) اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہ جھکائے، کسی کی پرستش نہ کرے، کسی کو نذر نہ دے اور کسی کے ساتھ وہ معاملہ نہ کرے جو مشرکین اپنے معبودوں کے ساتھ کرتے رہے ہیں، کیونکہ تنہا ایک اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے۔

(۵) اللہ کے سوا کسی کو بادشاہ، مالک الملک اور مقتدر اعلیٰ تسلیم نہ کرے، کسی کو بہ ا ختیارِ خود حکم دینے اور منع کرنے کا مجاز نہ سمجھے، کسی کو مستقل بالذات شارع اور قانون ساز نہ مانے اور ان تمام اطاعتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دے جو اللہ کی اطاعت کے تحت اور اس کے قانون کی پابندی میں نہ ہوں، کیونکہ اپنے ملک کا ایک ہی جائز مالک اور اپنی خلق کا ایک ہی جائز حاکم اللہ ہے۔ اس کے سوا کسی کو مالکیت اور حاکمیت کا حق نہیں پہنچتا۔

نیز اس عقیدے کو قبول کرنے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ:

(۶) انسان اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جائے، اپنی خواہشاتِ نفس کی بندگی چھوڑ دے اور اللہ کا بندہ بن کر رہے جس کو اس نے الہٰ تسلیم کیا ہے۔

(۷) اپنے آپ کو کسی چیز کا مالک و مختار نہ سمجھے، بلکہ ہر چیز حتیٰ کہ اپنی جان، اپنے اعضاء اور اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو بھی اللہ کی مِلک اور اس کی طرف سے امانت سمجھے۔

(۸) اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذمہ دار اور جواب دہ سمجھے اور اپنی قوتوں کے استعمال اور اپنے برتاؤ اور تصرفات میں ہمیشہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھے کہ اسے قیامت کے روز اللہ کو ان سب چیزوں کا حساب دینا ہے۔

(۹) اپنی پسند کا معیار اللہ کی پسند کو اور اپنی ناپسندیدگی کا معیار اللہ کی ناپسندیدگی کو بنائے۔

(۱۰) اللہ کی رضا اور اس کے قرب کو اپنی تمام سعی و جہد کا مقصود اور اپنی پوری زندگی کا محور ٹھہرائے۔

(۱۱) اپنے لیے اخلاق میں، برتائو میں، معاشرت اور تمدن میں، معیشت اور سیاست میں، غرض زندگی کے ہر معاملے میں صرف اللہ کی ہدایت کو ہدایت تسلیم کرے اور ہر اس طریقے اور ضابطے کو رد کردے جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہو۔

اس عقیدے کے دوسرے جزو یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سلطان کائنات کی طرف سے روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کو جس آخری نبیؐ کے ذریعے سے مستند ہدایت نامہ اور ضابطہ قانون بھیجا گیا اور جس کو اس ضابطے کے مطابق کام کرکے ایک مکمل نمونہ قائم کردینے پر مامور کیا گیا، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

اس امر واقعی کو جاننے اور تسلیم کرنے سے لازم آتا ہے کہ:

(۱)انسان ہر اس تعلیم اور ہر اس ہدایت کو بے چون و چرا قبول کرے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔

(۲) اس کو کسی حکم کی تعمیل پر آمادہ کرنے کے لیے اور کسی طریقے کی پیروی سے روک دینے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہو کہ اس چیز کا حکم یا اس چیز کی ممانعت رسولؐ اللہ سے ثابت ہے۔ اس کے سوا کسی دوسری دلیل پر اس کی اطاعت موقوف نہ ہو۔

(۳) رسولؐ اللہ کے سوا کسی کی مستقل بالذات پیشوائی و رہنمائی تسلیم نہ کرے۔ دوسرے انسانوں کی پیروی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے تحت ہو، نہ کہ ان سے آزاد۔

(۴) اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت کو حجت اور سند اور مرجع قرار دے، جو خیال یا عقیدہ یا طریقہ کتاب و سنت کے مطابق ہو اسے اختیار کرے، جو اس کے خلاف ہو اُسے ترک کردے، اور جو مسئلہ بھی حل طلب ہو اُسے حل کرنے کے لیے اسی سرچشمۂ ہدایت کی طرف رجوع کرے۔

(۵) تمام عصبیتیں اپنے دل سے نکال دے خواہ وہ شخصی ہوں یا خاندانی، یا قبائلی و نسلی، یا قومی و وطنی، یا فرقی و گروہی۔ کسی کی محبت یا عقیدت میں ایسا گرفتار نہ ہو کہ رسولؐ اللہ کے لائے ہوئے حق کی محبت و عقیدت پر وہ غالب آجائے یا اس کی مدّ مقابل بن جائے۔

(۶) رسولؐ اللہ کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے، کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو، ہر ایک کو اللہ کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجے میں ہو، اس کو اسی درجے میں رکھے۔

(۷) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے کسی دوسرے انسان کا یہ منصب تسلیم نہ کرے کہ اس کو ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا فیصلہ ہو۔

نصبُ العین: دفعہ۴: جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامتِ دین (حکومتِ الہٰیہ یا اسلامی نظام زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضائے الہٰی اور فلاح اخروی کا حصول ہوگا۔

تشریح: ’’الدین‘‘، ’’حکومتِ الہٰیہ‘‘ اور ’’اسلامی نظام زندگی‘‘ تینوں اس جماعت کی اصطلاح میں ہم معنی الفاظ ہیں۔ قرآن مجید نے اپنے جس مفہوم کو بیان کرنے کے لیے ’’اقامتِ دین‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اسی مفہوم کو یہ جماعت اپنی زبان میں ’’حکومتِ الٰہیہ‘‘ یا ’’اسلامی نظامِ زندگی‘‘ کے قیام سے ادا کرتی ہے۔ ان تینوں کا مطلب اس کے نزدیک ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ انسانی زندگی کے جس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے اس میں وہ برضا و رغبت اسی طرح اللہ کی تشریعی حکومت تسلیم کرے جس طرح دائرۂ جبر میں کائنات کا ذرہ ذرہ چار و ناچار اس کی تکوینی حکومت تسلیم کر رہا ہے۔ اللہ کی اس تشریعی حکومت کے آگے سر جھکانے سے جو طریقِ زندگی رونما ہوتا ہے وہی ’’الدین‘‘ ہے، وہی ’’حکومت الہٰیہ‘‘ ہے اور وہی ’’اسلامی نظام زندگی‘‘ ہے۔ اقامتِ دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے بلکہ پورے دین کی اقامت ہے خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، نماز، روزہ اور حج و زکوٰۃ سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیر ضروری نہیں ہے۔ پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیہ و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصّے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہر مومن کو اسے بطور خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہل ایمان کو مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اگرچہ مومن کا اصل مقصد رضائے الہٰی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصبُ العین اقامتِ دین اور حقیقی نصبُ العین وہ رضائے الہٰی ہے جو اقامتِ دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہو گی۔

طریق کار:

دفعہ۵: جماعت کا مستقل طریق کار یہ ہو گا کہ:

(۱)وہ کسی امر کا فیصلہ کرنے یا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ دیکھے گی کہ اللہ اور رسولؐ کی ہدایت کیا ہے؟ دوسری ساری باتوں کو ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیشِ نظر رکھے گی جہاں تک اسلام میں اس کی گنجائش ہوگی۔

(۲)اپنے مقصد اور نصبُ الّعین کے حصول کے لیے جماعت کبھی ایسے ذرائع اور طریقوں کو استعمال نہیں کرے گی جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فساد فی الارض رونما ہو۔

(۳)جماعت اپنے پیشِ نظر اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی۔ یعنی یہ کہ تبلیغ و تلقین اور اشاعتِ افکار کے ذریعے سے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور رائے عامہ کو ان تغیرات کے لیے ہموار کیا جائے جو جماعت کے پیش نظر ہیں۔

(۴)جماعت اپنے نصبُ الّعین کے حصول کی جدوجہد خفیہ تحریکوں کے طرز پر نہیں کرے گی بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی۔

شرائطِ رکنیت:

دفعہ۶: ہر عاقل و بالغ شخص (خواہ وہ عورت ہو یا مرد اور خواہ وہ کسی ذات، برادری یا نسل سے تعلق رکھتا ہو) اس جماعت کا رکن بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ:

(۱) جماعت کے عقیدے کو اس کی تشریح کے ساتھ سمجھ لینے کے بعد شہادت دے کہ یہی اس کا عقیدہ ہے۔

(۲) جماعت کے نصبُ الّعین کو اس کی تشریح کے ساتھ سمجھ لینے کے بعد اقرار کرے کہ یہی اس کا اپنا نصبُ الّعین ہے۔

(۳) اس دستور کا مطالعہ کرنے کے بعد عہد کرے کہ وہ اس کے مطابق جماعت کے نظم کی پابندی کرے گا۔

(۴) فرائض شرعی کا پابند ہو اور کبائر سے اجتناب کرتا ہو۔

(۵) کوئی ایسا ذریعہ معاش نہ رکھتا ہو جو معصیت فاحشہ کی تعریف میں آتا ہو، مثلاً سود، شراب، زنا، رقص و سرود، شہادتِ زور، رشوت، خیانت، قمار وغیرہ۔

(۶) اگر اس کے قبضے میں ایسا مال (یا جائیداد) ہو جو حرام طریقے سے آیا ہو، یا جس میں حق داروں کے تلف کردہ حقوق شامل ہوں، تو اس سے دست بردار ہو جائے اور اہلِ حقوق کو ان کے حق پہنچا دے۔

تشریح: یہ عمل صرف اس صورت میں کرنا ہوگا جب کہ حق دار بھی معلوم ہوں اور وہ مال بھی معلوم و متعین ہو جس میں ان کا حق تلف ہوا ہے۔ بصورت دیگر توبہ اور آئندہ کے لیے طرزِ عمل کی اصلاح کافی ہوگی۔

(۷) کسی ایسی جماعت یا ادارے سے تعلق نہ رکھتا ہو، جس کے اصول اور مقاصد جماعت اسلامی کے عقیدے و نصب العین اور طریقِ کار کے خلاف ہوں۔

(۸) نظمِ جماعت اس کے بارے میں مطمئن ہو جائے کہ وہ جماعت کی رکنیت کا اہل ہے۔

طریق داخلہ:

دفعہ۷: مذکورہ بالا شرائط کے مطابق جماعت میں داخلے کا طریقہ یہ ہو گا کہ امیدوار رکنیت، امیر جماعت یا اس کے مقرر کیے ہوئے کسی مجاز شخص کے سامنے اس بات کا اقرار کرے کہ:

اولاً، اس نے جماعت کے عقیدے کو اس کی تشریح کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور سمجھنے کے بعد اب پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ شہادت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ، لاشریک کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسولؐ ہیں۔

ثانیاً، اس نے جماعت کے نصب الّعین کو اس کی تشریح کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور وہ اسے سمجھنے کے بعد اقرار کرتا ہے کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنا، اس کی زندگی کا نصب الّعین ہے اور اسی نصب الّعین کے حصول کی سعی کے لیے وہ خالصۃً لِلّٰہ جماعت اسلامی میں داخل ہو رہا ہے اور اس کام میں اس کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور فلاح اخروی کے سوا اورکوئی مقصد نہیں ہے۔

ثالثاً، اس نے دستور جماعت کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور وہ عہد کرتا ہے کہ اس دستور کے مطابق وہ نظامِ جماعت کا پوری طرح پابند رہے گا۔

فرائض رکنیت:

دفعہ۸: داخلہ جماعت کے بعد جو تغیرات ہر رکن کو بتدریج اپنی زندگی میں کرنے ہوں گے وہ یہ ہیں:

(۱) دین کا کم از کم اتنا علم حاصل کر لینا کہ اسلام اور جاہلیت(غیر اسلام) کا فرق معلوم ہو اور حدوداللہ سے واقفیت ہو جائے۔

(۲) تمام معاملات میں اپنے نقطۂ نظر، خیال اور عمل کو کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا، اپنی زندگی کے مقصد، اپنی پسند اور قدر کے معیار اور اپنی وفاداریوں کے محور کو تبدیل کر کے رضائے الہٰی کے موافق بنانا اور اپنی خود سری اور نفس پرستی کے بُت کو توڑ کر تابعِ امرِ ربّ بن جانا۔

(۳) ان تمام رسومِ جاہلیت سے اپنی زندگی کو پاک کرنا جو کتاب اللہ اور سنت رسولؐ اللہ کے خلاف ہوں اور اپنے ظاہر و باطن کو احکامِ شریعت کے مطابق بنانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا۔

(۴) ان تعصبات اور دلچسپیوں سے اپنے قلب کو، ان مشاغل اور جھگڑوں اور بحثوں سے اپنی زندگی کو پاک کرنا جن کی بنا نفسانیت یا دنیا پرستی پر ہو اور جن کی کوئی اور اہمیت دین میں نہ ہو۔

(۵) فساق و فجار اور اللہ سے غافل لوگوں سے موالات اور مؤدّت کے تعلقات منقطع کرنا اور صالحین سے ربط قائم کرنا۔

(۶) اپنے معاملات کو راستی، عدل، خدا ترسی اور بے لاگ حق پرستی پر قائم کرنا۔

(۷) اپنی دوڑ دھوپ اور سعی و جہد کو اقامتِ دین کے نصبُ الّعین پر مرتکز کر دینا اور اپنی زندگی کی حقیقی ضرورتوں کے سوا ان تمام مصروفیتوں سے دست کش ہو جانا جو اس نصبُ الّعین کی طرف نہ لے جاتی ہوں۔

تشریح: ضروری نہیں کہ یہ تغیرات تمام اشخاص میں کمال درجے پر ہوں، مگر ہر شخص کو اس باب میں اپنی تکمیل کی کوشش کرنی ہو گی۔ کیونکہ انھی تغیرات کے اعتبار سے ناقص یا کامل ہونے پر ’’جماعت اسلامی‘‘ میں ہر آدمی کے مرتبے کا تعین ہو گا۔

دفعہ ۹: ہر رکنِ جماعت کے لیے لازم ہوگا کہ اپنے حلقہ تعارف میں اور جہاں تک وہ پہنچ سکے، بندگانِ خدا کے سامنے بالعموم جماعت کے عقیدے اور نصب العین (جس کی تشریح دفعہ۳‘۴ میں کی گئی ہے) کو پیش کرے، جو لوگ اس عقیدے اور نصب العین کو قبول کرلیں انھیں اقامت دین کے لیے منظم جدوجہد کرنے پر آمادہ کرے اور جو لوگ جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہوں، انھیں جماعت اسلامی کے نظام میں شامل ہونے کی دعوت دے۔

تشریح: اگر کوئی شخص جماعت اسلامی کے نصب العین، طریق کار، پروگرام اور نظام جماعت سے اتفاق کا اظہار کرنے کے باوجود کسی وجہ سے رکنیت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار نہ ہو تو اس کو جماعت کے حلقہ متفقین میں شامل ہونے کی ترغیب دی جائے تاکہ جس حد تک بھی اس کے لیے ممکن ہو وہ اقامت دین کی سعی میں جماعت کے ساتھ تعاون کرے۔

رکن خواتین کے فرائض:

دفعہ ۱۰: جو عورتیں جماعت اسلامی میں داخل ہوں، ان پر اپنے دائرہ عمل میں دفعہ ۸، ۹ کے تمام اجزاء کا اطلاق ہوگا، نیز رکن جماعت ہونے کی حیثیت سے ایک عورت کے فرائض حسب ذیل ہوں گے۔

(۱) اپنے خاندان اور اپنے حلقہ تعارف میں جماعت کے عقیدے و نصب العین کی دعوت پہنچائے۔

(۲) اپنے شوہر، والدین، بھائی، بہنوں اور خاندان کے دوسرے افراد کو بھی اس کی تبلیغ کرے۔

(۳) اپنے بچوں کے دلوں میں نورِ ایمان پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

(۴) اگر اس کا شوہر یا بیٹے یا باپ اور بھائی جماعت میں داخل ہوں تو اپنی صابرانہ رفاقت سے ان کی ہمت افزائی کرے اور جماعت کے نصبُ الّعین کی خدمت میں حتی الامکان ان کا ہاتھ بٹائے اور نزولِ مصائب کی صورت میں صبر و ثبات سے کام لے۔

(۵) اگر اس کا شوہر یا اس کے سرپرست جاہلیت میں مبتلا ہوں، حرام کماتے ہوں یا معاصی کا ارتکاب کرتے ہوں توصبر کے ساتھ ان کی اصلاح کے لیے ساعی رہے، ان کی حرام کمائی اور ان کی ضلالتوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے اور ان کے ایسے احکام ماننے سے انکار کر دے جومعصیتِ خدا و رسولؐ کے مترادف ہوں

نظام جماعت  کی نوعیت:

دفعہ ۱۱: جماعت اسلامی پاکستان کا نظام شورائی ہوگا اور تنظیمی لحاظ سے مرکزی اور مختلف علاقائی نظاموں پر مشتمل ہوگا۔

تشریح: نظام کے شورائی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس جماعت میں امیر اور اہل شوریٰ کا عزل و نصب، ارکانِ جماعت کی رائے سے ہوگا اور جماعت کے سارے کام اسلامی احکام کے مطابق مشورے سے چلائے جائیں گے۔

جماعت میں فرقِ مراتب کا معیار:

دفعہ۱۲: اس جماعت میں آدمی کے درجہ و مرتبہ کا تعین اس کے حسب و نسب اور علمی اسناد اور مادی حالات کے لحاظ سے نہ ہوگا بلکہ اس تعلق کے لحاظ سے ہو گا جو وہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کے دین کے ساتھ رکھتا ہو اور جماعت کو اُس کے اس تعلق کا ثبوت اُس کی ان نفسی، جسمانی اور مادی قربانیوں سے ملے گا، جو وہ اللہ کے دین کی راہ میں کرے گا۔

تشریح: اس دفعہ کا مقصود ارکان جماعت کے سامنے وہ اصولی معیار پیش کرنا ہے جس کے لحاظ سے وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو جانچیں اور پرکھیں اور یہ رائے قائم کریں کہ اس جماعت کے نظام میں کس قسم کے لوگوں کو آگے اور کس قسم کے لوگوں کو پیچھے رہنا چاہیے۔ جہاں تک رکنیت کے حقوق کا تعلق ہے، اس میں تمام ارکانِ جماعت مساوی ہیں، لیکن جہاں تک اخلاقی فضل و شرف کا اور نظامِ جماعت میں رہنمائی و پیش روی اور ذمہ دارانہ مناصب کے استحقاق کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ کسی کی خاندانی وجاہت، یا شہرت و ناموری، یا دولت و ثروت، یا علمی اسناد کی بناء پر نہ ہو گا بلکہ اس بنیاد پر ہو گا کہ کون اللہ اور رسولؐ کے احکام کا زیادہ پابند ہے، دین کے فہم اور اس کے مطابق عمل میں زیادہ بڑھا ہوا ہے، تحریک اسلامی کے کام کو چلانے کی زیادہ اہلیت رکھتا ہے اور اس جماعت کے نصب العین کی خاطر وقت، محنت، اور مال کی بے دریغ قربانی کرنے والا ہے۔

جو لوگ دفعہ۶ کے مطابق رکنیت کی لازمی شرطیں پوری کر دیں، مگر نہ تو دفعہ ۸ کے مطابق اپنی تکمیل کی کوئی خاص کوشش کریں، نہ جماعت کے کاموں میں کسی خاص سرگرمی کا اظہار کریں اور نہ اپنی حیثیت کے مطابق مال، وقت اور قوت اس نصب العین کی راہ میں صرف کریں جس کے لیے یہ جماعت جدوجہد کر رہی ہے، وہ رکن جماعت تو رہ سکتے ہیں مگر اس کے اہل نہیں ہو سکتے کہ اس جماعت کے نظام میں ان کو پیش روی کا مقام دیا جائے یا ذمہ داری کے مناصب سونپے جائیں۔ ایسے کسی شخص کو اگر اس کی دوسری حیثیات کا لحاظ کرکے یہ مرتبہ دیا جائے گا تو وہ اس دستور کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

امرائے جماعت کے اوصاف:

دفعہ ۱۳: امیر (خواہ وہ مرکزی ہو یا ماتحت) کے انتخاب و تقرر میں حسب ذیل اوصاف کو مدنظر رکھا جائے گا

یہ کہ نہ وہ امارت کا خود امیدوار ہو اور نہ اس سے کوئی ایسی بات ظہور میں آئی ہو جو یہ پتا دیتی ہو کہ وہ امارت کا خود

(۱)خواہشمند یا اس کے لیے کوشاں ہے۔

(2) یہ کہ ارکان جماعت اس کے تقویٰ، علم کتاب و سنت، امانت و دیانت، دینی بصیرت، تحریک اسلامی کے فہم، اصابت رائے، تدبر، قوت فیصلہ، اللہ کی راہ میں ثبات و استقامت اور نظم جماعت کو چلانے کی اہلیت پر اعتماد رکھتے ہوں۔

(3) یہ کہ صوبے و حلقے کی امارت کی صورت میں کم از کم دو سال سے اور علاقائی یا ضلعی امارت کی صورت میں کم از کم ایک سال سے جماعت کارکن ہو، الاّ یہ کہ امیر جماعت اس کو اس شرط سے مستثنیٰ کرنے کی ضرورت سمجھے۔

مجالس شوریٰ کے ارکان کے اوصاف

دفعہ ۱۴: مجلسِ شوریٰ (خواہ وہ مرکزی ہو یا ماتحت) کی رکنیت کے لیے کسی شخص کے انتخاب میں حسب ذیل اوصاف کو مدّنظر رکھا جائے گا۔

(1) یہ کہ نہ وہ مجلس کی رکنیت کا خود امیدوار ہو اور نہ اس سے کوئی ایسی بات ظہور میں آئی ہو جو یہ پتا دیتی ہو کہ وہ رکنیت کا خواہش مند یا اس کے لیے کوشاں ہے۔

(2) یہ کہ وہ علم و تقویٰ، امانت و دیانت، فہم و بصیرت، اللہ کی راہ میں ثبات و استقامت اور دعوت کے سلسلے میں خدمات کے لحاظ سے قابل اعتماد اور عام ارکان سے ممتاز ہو۔

مرکزی نظام کے اجزائے ترکیبی:

دفعہ ۱۵: جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی نظام حسبِ ذیل اجزا پر مشتمل ہوگا

1 جماعت اسلامی پاکستان کے ارکان کا اجتماع عام( دفعہ۱۶)

(2)امیر جماعت (دفعہ ۱۷) اور اس کے مقرر کردہ نائب امراء (اگر کوئی ہوں) (دفعہ۱۹- ۴- ج)

(3) مرکزی مجلس شوریٰ (دفعہ ۲۱)

(4) مرکزی مجلس عاملہ (دفعہ۱۹-۴- ا،۳۴)

(5) قیّم جماعت (دفعہ ۳۵)

(6) مرکزی شعبوں کے ناظمین (دفعہ۱۹-۴-ح،۳۷)

(7) الیکشن کمیشن (دفعہ ۳۷۔ ا)

(8) الیکشن ٹریبونل (دفعہ ۳۷۔ب)

ارکان کا اجتماعِ عام (General Assembly)

تعریف، طریق انعقاد اور حیثیت:

دفعہ۱۶:(۱) جماعت اسلامی پاکستان کے تمام امور میں آخری اختیارات اس کے ارکان کے اجتماع عام کو حاصل ہوں گے۔

(۲) جماعت کے ارکان کا اجتماعِ عام جماعت کی ضروریات کے پیش نظر مرکزی مجلسِ شوریٰ یا امیر جماعت جب ضرورت سمجھیں طلب کرسکتے ہیں اور اگر جماعت کے دو یا زائد صوبوں یا تنظیمی حلقوں میں سے پانچ یا زائد حلقوں کی مجالس شوریٰ باقاعدہ قرار داد پاس کر کے اس کا مطالبہ کریں، تو ضروری ہوگا کہ ایک معقول مدت کے اندر اجتماع منعقد کیا جائے۔

(۳) اجتماع عام کی تعریف میں ایسا اجتماع بھی آسکتا ہے جس میں تمام ارکان کو شریک ہونے کی دعوت نہ دی جائے بلکہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کی تجویز کے مطابق ہر تنظیمی صوبے، حلقے یا ضلعے سے ارکان جماعت کے منتخب کردہ مندوبین طلب کیے جائیں۔

۲- امیر جماعت اسلامی پاکستان (Ameer-e-Jamaat-e-Islami Pakistan)

حیثیت، تقرر اور میعاد:

دفعہ۱۷:(۱) جماعت اسلامی پاکستان کا ایک امیر ہوگا، جس کی حیثیت ’’امیر المؤمنین‘‘ (بہ اصطلاحِ معروف) کی نہ ہوگی، بلکہ صرف اس جماعت کے امیر کی ہوگی۔ جماعت کے ارکان اس کی اطاعت فی المعروف کے پابند ہوں گے۔

(۲) جماعت کی دعوت اپنے عقیدے اور نصبُ العین کی طرف ہوگی، نہ کہ اپنے امیر کی شخصیت اور امارت کی طرف۔

(۳) امیر جماعت کا تقرر ارکانِ جماعت بلاواسطہ انتخاب کے ذریعے سے کریں گے اور اس انتخاب میں آراء کی مجرّد اکثریت فیصلہ کن ہوگی۔

(۳ ا) امیر جماعت کی مدت امارت ختم ہونے سے کم از کم تین مہینے پہلے انتخابی کمیشن انتخابِ امارت کے عمل کا آغاز کرے گا۔

(۴) امیر جماعت کا انتخاب بیک وقت پانچ سال کے لیے ہوگا اور ارکانِ جماعت چاہیں تو ایک ہی شخص کو بار بار منتخب کرسکیں گے۔

(۵) ضروری ہوگا کہ ایک امیر کی مدت ختم ہونے سے پہلے امارت کا نیا انتخاب ہو جائے۔ لیکن اگر کسی وجہ سے ایسا نہ ہوسکے تو نئے امیر کے منتخب ہو کر اس ذمہ داری کو سنبھالنے تک پہلا امیر اس منصب پر فائز رہے گا۔ مگر یہ مدت تین ماہ سے زیادہ دراز نہ ہوسکے گی۔

(۶) اگر کسی وقت امارت کا منصب امیر کے استعفیٰ، معزولی یا کسی اور وجہ سے خالی ہو جائے اور ارکانِ جماعت سے نئے امیر کا فوری انتخاب کروانا ممکن نہ ہو تو جماعت کی مرکزی مجلسِ شوریٰ عارضی طور پر ایک امیر کا انتخاب کرے گی۔ اس انتخاب میں ارکانِ شوریٰ کی مجرّد اکثریت فیصلہ کن ہوگی۔ یہ عارضی انتظام زیادہ سے زیادہ چھ مہینے کے لیے ہوگا اور اس مدت کے گزرنے سے پہلے ضروری ہوگا کہ ارکان جماعت سے نئے امیر کا انتخاب کرا لیا جائے۔

(۷) اگر کسی وقت امیر جماعت کے لیے عارضی طور پر اپنے فرائض سے سبکدوش ہونا ناگزیر ہو جائے تو وہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے کسی کو اپنا قائم مقام مقرر کردے گا۔ مگر اس تقرر کی میعاد ایک سال سے زائد نہ ہوگی اور چھ ماہ سے زائد ہونے کی صورت میں اس کے لیے مرکزی مجلسِ شوریٰ کی توثیق ضروری ہوگی۔

حلف:

دفعہ ۱۸: امارت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیر جماعت کے لیے (خواہ وہ عارضی ہو یا مستقل یا قائم مقام) وہ حلفِ امارت اٹھانا لازم ہوگا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج کیا گیا ہے۔ یہ حلف حسب موقع امیر جماعت، ارکان کے اجتماع عام، مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس یا کسی مقامی اجتماع ارکان کے سامنے اٹھایا جا سکے گا۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ۱۹: (۱) نظم جماعت اور تحریک کو چلانے کی آخری ذمہ داری امیر جماعت پر ہوگی اور وہ مجلسِ شوریٰ اور ارکان جماعت کے سامنے جواب دہ ہو گا۔

(۲) جماعت کی پالیسی کی تشکیل اور اہم مسائل کے فیصلے امیر جماعت مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا۔

(۳) امیر جماعت کا فرض ہوگا کہ:

(ا) اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھے۔

(ب) جماعت کے مقصد اور نصب العین کی دل و جان سے خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھے۔

(ج) اپنی ذات اور ذاتی فائدوں پر جماعت کے مفاد اور اس کے کام کی ذمہ داریوں کو ترجیح دے۔

(د) ارکان جماعت کے درمیان ہمیشہ عدل اور دیانت سے فیصلہ کرے۔

(ہ) جو امانتیں جماعت کی طرف سے اس کے سپرد کی جائیں ان کی پوری حفاظت کرے۔

(و) اس دستور کا خود پابند رہے اور اس کے مطابق نظم جماعت کو قائم کرنے کی پوری کوشش کرے۔

(۴) امیر جماعت کو حسب ذیل اختیارات حاصل ہوں گے:

(ا)مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے اپنی مجلس عاملہ نامزد کرنا۔

(ب) اہم معاملات میں اگر کوئی فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہو اور مجلس عاملہ یا مجلسِ شوریٰ کا اجلاس منعقد کرنے کا امکان نہ ہو تو مجلس عاملہ یا مجلسِ شوریٰ کے جن ارکان سے بھی بروقت مشورہ لیا جاسکتا ہو، ان کے مشورے سے قدم اٹھانے کا اختیار۔

(ج) مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے یا مجلس کے مشورے سے نائب امراء مقرر کرنے کا اختیار۔

(د) جماعت کے جملہ انتظامی معاملات کی انجام دہی، نیز جماعت کے مفاد میں مجلسِ شوریٰ کی عائد کردہ پابندیوں (اگر کوئی ہوں) کے تحت جماعت کی املاک میں تصرف کرنا۔

(ہ) جماعت میں ارکان کا داخلہ (دفعہ۷) اور اس سے ان کی علیحدگی (دفعہ ۹۰)

(و) کسی ماتحت جماعت کو معطل کرنا یا توڑ دینا۔ (دفعہ ۹۱)

(ز) ماتحت امراء کا تقرر اور ان کی معزولی (دفعہ ۴۰، ۵۴، ۶۸، ۸۴)

(ح) قیّم جماعت اور مرکزی شعبوں کے عملے کا تقرر اور برخاستگی (دفعہ ۳۵، ۳۶، ۳۷)

(ط) جماعت کے بیت المال سے جماعت کے کاموں پر خرچ کرنا (دفعہ ۹۶)

(ی) مجلسِ شوریٰ کی میعاد میں توسیع (دفعہ ۲۳)

(ک) مجلسِ شوریٰ کے ارکان کے علاوہ کسی دوسرے شخص یا اشخاص کو مجلس کے اجلاس میں شریک کرنا (دفعہ ۲۷)

(ل) مجلس شوریٰ کے اجلاس میں غیر ارکان شوریٰ کی سامع یا کسی دوسری حیثیت سے شرکت پر پابندی عائد کرنا۔ (دفعہ ۲۶، ۲۷)

(م) ارکان جماعت کا اجتماعِ عام طلب کرنا(دفعہ۱۶)

(ن) جماعتی فیصلوں کی تنفیذ اپنی صوابدید کے مطابق کرنا۔

(س) اپنے اختیارات کا کوئی حصہ کسی کو تفویض کرنا۔

۳۔ مرکزی مجلسِ شوریٰ (Central Council)

نام:

دفعہ۲۰: امیر جماعت کی امداد اور مشورے کے لیے ایک مجلسِ شوریٰ ہوگی جس کی تشکیل دفعہ ۲۱ کے مطابق کی جائے گی اور اس مجلس کا نام ’’مرکزی مجلسِ شوریٰ‘‘ یا ’’مجلسِ شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان‘‘ ہوگا۔

مرکزی مجلس شوریٰ کا انتخاب:

دفعہ ۲۰ا : مجلس شوریٰ کی میعاد ختم ہونے سے کم از کم تین مہینے پہلے انتخابی کمیشن نئی مجلس کے انتخاب کا عمل شروع کرے گا۔

مجلسِ شوریٰ کی ترکیب:

دفعہ۲۱( ا ) (١) مجلس شوریٰ کے منتخب ارکان کی تعداد اسی (۸۰) ہوگی جن میں سے ستر (۷۰) مردوں کی اور دس (۱۰) خواتین کی نشستیں ہوں گی۔ مردوں کی نشستوں پر مرد ارکان اور خواتین کی نشستوں پر خواتین ارکان کے براہ راست ووٹ سے انتخاب ہوگا۔

(ب) ہر انتخاب سے پہلے انتخابی کمیشن مرد ارکان اور خواتین ارکان کی تعداد کو تنظیمی صوبوں کے ارکان کے تناسب سے علیحدہ علیحدہ تقسیم کرکے مردوں اور خواتین کے مناسب حلقہ ہائے انتخاب کا تعین اس طرح کرے گا کہ کوئی صوبہ مرد و خواتین کی کم از کم ایک ایک نشست سے محروم نہیں رہے گا۔

(۲) امیر جماعت اس مجلس کا صدر ہوگا اور تقسیم آراء کے موقع پر آراء کے مساوی ہونے کی صورت میں اسے ترجیحی رائے (Casting Vote) دینے کا حق ہوگا۔

(۳)( ا) قیّم جماعت بر بنائے عہدہ مجلس کا رکن اور معتمد ہوگا۔

(ب) نائب امراء (اگر کوئی ہوں) بربنائے عہدہ مجلس کے رکن ہوں گے۔

(ج) امرائے صوبہ بربنائے عہدہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن ہوں گے۔

(د) قیمہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین بربنائے عہدہ مرکزی مجلس شوریٰ کی رکن ہوں گی۔

(۴) اگر مرکزی مجلسِ شوریٰ کی کوئی نشست خالی ہو جائے تو اس کو تین ماہ کے اندر پُر کرنا ضروری ہوگا۔

(۵) مرکزی شعبوں کے ناظمین مجلسِ شوریٰ کے اجلاسوں میں شریک ہو سکیں گے اور بحث میں حصہ لینے کے مجاز ہوں گے مگر ووٹ دینے کے مجاز نہ ہوں گے الاّ یہ کہ مجلسِ شوریٰ کے منتخب شدہ رکن ہوں۔

(۶) مرکزی عملے کے ارکان مرکزی مجلسِ شوریٰ کے انتخاب کے لیے اس انتخابی حلقے کے ووٹروں میں شامل ہوں گے جس کی حدود میں وہ رہتے ہوں مگر مرکزی شعبوں کے ناظمین صرف ووٹ دینے کے مجاز ہوں گے، ان کو مجلسِ شوریٰ کا رکن منتخب نہ کیا جاسکے گا۔

افتتاحی اجلاس:

دفعہ ۲۲: مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ارکان کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد دو ماہ کے اندر اندر امیر جماعت اس مجلس کا افتتاحی اجلاس طلب کرے گا جس میں تمام ارکانِ مجلس فرداً فرداً امیر جماعت کے روبرو رکنیت شوریٰ کا حلف اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر ۲ میں درج ہے۔ اس کے بعد امیر جماعت انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے، نیز جماعت کے موجود الوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔

میعاد:

دفعہ ۲۳: (۱) مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ارکان کا انتخاب تین سال کے لیے ہوگا، لیکن اگر اس میعاد کے دوران میں جماعت کے حالات میں کسی تغیر یا کسی اور معقول وجہ سے امیر جماعت مجلسِ شوریٰ کے نئے انتخاب کی ضرورت محسوس کرے تو وہ مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے اس کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

(۲) اگر کبھی غیر معمولی حالات کی وجہ سے نئی مجلسِ شوریٰ کا بروقت انتخاب مشکل ہو جائے تو امیر جماعت کو اختیار ہوگا کہ جماعت کے تنظیمی صوبوں، حلقوں اور اضلاع کے امراء (جو بھی موجود ہوں) کے مشورے سے موجود الوقت مجلسِ شوریٰ کی میعاد میں ایک سال تک اضافہ کردے۔

معمول کا اجلاس:

دفعہ ۲۴: (۱) مرکزی مجلسِ شوریٰ کا سال میں معمولاً ایک اجلاس ہوگا جو عام حالات میں مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ہوگا۔ اس میں جماعت کے کام کی رپورٹ، میزانیہ اور مرکزی بیت المال کے ایک سال قبل کے حسابات کی آڈٹ رپورٹ پیش ہوگی۔ جماعت کے سال بھر کے کام کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ سال کے لیے پروگرام مرتب کیا جائے گا۔ مجلسِ شوریٰ کے اجلاس کو مجلس کا معمول کا اجلاس کہا جائے گا۔

(۲) مرکزی مجلس شوریٰکے معمول کے دو اجلاسوں میں پندرہ ماہ سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہوگا۔

غیر معمولی اجلاس:

دفعہ ۲۵: (۱) مرکزی مجلس ِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس امیرِجماعت ہر وقت طلب کرسکے گا۔

(۲) مرکزی مجلسِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس حسب ذیل صورتوں میں لازماً طلب کیا جائے گا۔

(ا) جب کہ اس مجلس کے کم ازکم ایک چوتھائی ارکان، اس کے انعقاد کا امیر جماعت سے تحریری مطالبہ کریں تو مجلس شوریٰ کا اجلاس 30 روز کے اندر منعقد ہونالازمی ہوگا۔

(ب) جب کہ امیر جماعت کا منصب خالی ہو جائے اور کوئی نائب، قائم مقام یا عارضی امیر موجود نہ ہو… اس صورت میں جماعت کا مرکزی شعبہ تنظیم اس کو طلب کرنے کا مجاز ہو گا۔

غیر ارکان شوریٰ کی شرکت، حاضری کا نصاب، فیصلے کا طریقہ، فرائض و اختیارات

غیر ارکان شوریٰ کی شرکت:

دفعہ ۲۷: اگر امیر جماعت کسی خاص مسئلے کے متعلق اس کی ضرورت محسوس کرے کہ اس میں مجلسِ شوریٰ کے ارکان کے علاوہ کسی دوسرے شخص یا اشخاص کو بھی شریک مشورہ کیا جائے تو وہ اس شخص یا ان اشخاص کو بھی شریک اجلاس کرسکتا ہے لیکن مسئلے کا فیصلہ صرف ارکانِ مجلس ہی کی رائے سے ہو گا۔

حاضری کا نصاب:

مرکزی مجلسِ شوریٰ کا نصاب اس کے ارکان کی ایک تہائی تعداد پر مشتمل ہوگا… لیکن اگر کوئی اجلاس نصاب پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑے تو پھر اس کے بعد دوسرے اجلاس کے لیے کوئی نصاب نہ ہوگا۔ ٭

فیصلے کا طریقہ:

(۲) اگر امیر جماعت کو مجلسِ شوریٰ کی اکثریت کے فیصلے سے اختلاف ہو تو وہ اسے مجلسِ شوریٰ کے اجلاس مابعد تک کے لیے ملتوی کرسکے گا۔ لیکن اجلاس مابعد میں اکثریت سے جو فیصلہ ہو وہ آخری ہوگا۔

٭ یہی نصاب ماتحت شوراؤں کا بھی ہوگا۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ ۳۰:(۱) مرکزی مجلسِ شوریٰ کا بحیثیت مجموعی اور اس کے ارکان کا فرداً فرداً فرض ہوگا کہ:

(ا) وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔

(ب) وہ امیر جماعت اور خود اپنے آپ پر ہمیشہ نگاہ رکھیں کہ وہ جماعت کے عقیدے پر قائم، اس کے نصب العین سے وابستہ اور صحیح اسلامی طریق کار کے پابند ہیں۔

(ج) مجلس کے اجلاسوں میں پابندی کے ساتھ شریک ہوں۔

(د) ہر معاملے میں اپنے علم اور ایمان و ضمیر کے مطابق اپنی حقیقی رائے کا صاف صاف اظہار کریں۔

(ہ) جماعت کے اندر مستقل پارٹیاں اور بلاک بنانے سے محترز رہیں اور اگر مجلسِ شوریٰ یا جماعت میں کوئی شخص اس کی کوشش کرتا نظر آئے تو اس کی ہمت افزائی کرنے یا اس سے تغافل برتنے کے بجائے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔

(و) جماعت اور اس کے کام میں جہاں کوئی خرابی محسوس ہو، اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔

(۲) مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اختیارات یہ ہوں گے:

(ا) جماعت کی پالیسی کی تشکیل۔

(ب) امیر جماعت کی معزولی بشرطیکہ مجلس کے کل منتخب ارکان کی دو تہائی اکثریت سے ان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور ہو جائے۔

(ج) دستور جماعت کی تعبیر و ترمیم اور جماعت کے نظام میں رد و بدل کا اختیار۔

(د) قیّم جماعت کے تقرر اور اس کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد کا اختیار۔ (دفعہ ۳۵)

(ہ) مرکزی بیت المال کی جانچ پڑتال کے لیے آڈیٹر کا تقرر اور اس کی رپورٹ پر بحث اور ضروری کارروائی۔ (دفعہ ۹۶)

(و) جماعت کا مرکزی بجٹ پاس کرنا۔ (دفعہ ۲۴)

(ز) امیر جماعت اور اس کے ماتحت مرکزی شعبوں کے ناظمین کے آزاد محاسبے اور ان کے کاموں پر تنقید اور بحث کا اختیار۔

(ح) مرکزی اور صوبائی پارلیمانی بورڈ اور ان کے حدودِ کار مقرر کرنا۔

(ط) جماعت کے مختلف کاموں اور شعبوں کے سلسلے میں حسبِ ضرورت بورڈ اور کمیٹیاں اور کمیشن اور ان کے حدودِ کار مقرر کرنا۔

(ی) جماعت کے ارکان کا اجتماع عام طلب کرنا اور اگر ضرورت ہو تو اجتماعِ عام میں شرکت کے لیے عام ارکان کے بجائے ارکان کے مندو بین طلب کرنا۔ (دفعہ۱۶)

(ک) جماعت کے نصب العین، مقاصد اور پروگرام سے متعلق جو مسائل اندرون یا بیرون ملک پیدا ہوں، ان کے بارے میں قرار دادوں یا دوسرے مناسب طریقوں سے اظہار خیال اور مناسب اقدامات کرنا۔

(ل) اجتماعِ عام اور مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں کارروائی کے قواعد و ضوابط مرتب اور منظور کرنا۔

(م) جماعت کے نصب العین کے حصول کے لیے اس کے دستور کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنا۔

(ن) اپنے اختیارات یا ان میں سے بعض کو ان قیود کے ساتھ جو وہ عائد کرنا چاہے مجلس عاملہ یا اپنے ارکان پر مشتمل کسی کمیٹی یا بورڈ یا امیر یا قیّم جماعت یا کسی دوسرے شخص یا اشخاص کو تفویض کرنا۔

(س) امیر جماعت اور مجلس شوریٰ کے انتخاب کے لیے انتخابی کمیشن اور انتخابی ٹریبونل کی تشکیل۔

۲- امیر صوبہ (Provincial Ameer)

دفعہ ۳۹: صوبے کے نظم کا ذمہ دار ایک امیر ہوگا جو امیر صوبہ کہلائے گا۔ اس کی حیثیت اپنے صوبے میں امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ امیر جماعت کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

عزل و نصب:

دفعہ ۴۰: (۱) امیر صوبہ کا عزل و نصب امیر جماعت کے اختیار میں ہوگا اور وہ اس میں جماعتی مصالح کے ساتھ ارکانِ صوبہ کی رائے کو زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔

(۲) امیر صوبہ کا تقرر ۳ سال کے لیے ہوگا۔

حلف:

دفعہ ۴۱: امیر صوبہ اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیر جماعت یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کے روبرو حلف امارت اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔

فرائض واختیارات:

دفعہ ۴۲: امیر صوبہ کے فرائض حسب ذیل ہوں گے:

( ۱) جماعت کی دعوت، نصب العین، پالیسیوں اور پروگرام کی اپنے صوبے میں اشاعت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔

(۲) صوبے میں مرکزی احکام کی تعمیل اور مرکزی واجبات کی بروقت ادائیگی کا انتظام کرنا۔

(۳) صوبے کے حالات اور صوبائی جماعت کے کام سے مرکز کو باخبر رکھنا۔

(۴) صوبے میں ماتحت جماعتوں، شعبوں اور اداروں اور ان کے عملے اور کارکنوں کی نگرانی اور رہنمائی اور محاسبہ کرنا۔

(۵) صوبے میں جماعت کے نصب العین اور مقاصد سے تعلق رکھنے والے یا ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل کا بروقت نوٹس لینا اور ان کے بارے میں ضروری اقدام کرنا۔

(۶) مزید جو فرائض اور ذمہ داریاں مرکزی نظم کی طرف سے عائد کر دی جائیں۔

دفعہ ۴۳: امیر صوبہ کے اختیارات حسب ذیل ہوں گے:

(۱) صوبے کی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے قیّم صوبہ کا تقرر اور اس کی برطرفی۔

(۱ ا) صوبائی مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے اپنی مجلس عاملہ نامزد کرنا۔

(۲) صوبے کے شعبوں میں عملے کا تقرر اور برطرفی۔

(۳) صوبے کی مجلسِ شوریٰ اور مجلسِ عاملہ کے اجلاس طلب کرنا۔

(۴) صوبے کی مجلسِ شوریٰ کے طے کردہ بجٹ کے مطابق صوبے کے بیت المال میں تصّرف اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں دستور کے مطابق مناسب اور ضروری اقدام کرنا۔

(۵) اپنے صوبے میں وہ اختیار استعمال کرنا جو امیر جماعت کو دفعہ ۱۹ (۴۔ب) میں حاصل ہے۔

(۶) مزید جو اختیارات امیر جماعت سپرد کر ے۔

۳۔ صوبائی مجلسِ شوریٰ (Provincial Council)

ترکیب اور میعاد:

دفعہ۴۴:(۱) صوبے کی مجلسِ شوریٰ ارکان صوبہ کی براہ راست منتخب کردہ ہو گی۔

(۲) صوبائی مجلسِ شوریٰ کے ارکان کی تعداد امیر صوبہ مقرر کرے گا اور ہر انتخاب سے پہلے امیر صوبہ یا اس کا مقرر کردہ ناظم اس تعداد کو صوبے کے مناسب حلقہ ہائے انتخاب بنا کر ان میں ارکانِ جماعت کی تعداد کے تناسب سے تقسیم کر دے گا۔

(۳)صوبائی مجلسِ شوریٰ کے ہر انتخاب سے کم از کم تین مہینے پہلے امیرِ صوبہ ایک ناظم انتخاب مقرر کرے گا اور انتخاب کرانے کے لیے اسے ضروری اختیارات تفویض کرے گا۔

(۴) ارکانِ مجلس کا انتخاب دو سال کے لیے ہوگا۔

(۵) امیر صوبہ اپنے صوبے کی مجلس کا صدر ہوگا اور قیّم صوبہ بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہو گا۔

افتتاحی اجلاس:

دفعہ ۴۵: صوبے کی مجلسِ شوریٰ کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد امیرصوبہ دو مہینے کے اندر اندر مجلسِ شوریٰ کا افتتاحی اجلاس بلائے گا جس میں تمام ارکانِ شوریٰ فرداً فرداً امیر صوبہ کے روبرو حلفِ رکنیت شوریٰ اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۲ میں درج ہے۔ اس کے بعد امیر صوبہ انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے اور صوبے میں جماعت کے موجود الوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔

امیر صوبہ اور اس کی مجلسِ شوریٰ کا باہمی تعلق:

دفعہ ۴۶: (۱) امیر صوبہ روز مرہ کے معاملات کے سوا تمام اہم معاملات صوبے کی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے طے کرے گا۔

(۲) امیر صوبہ اور اس کی مجلسِ شوریٰ میں نزاع پیدا ہو جانے کی صورت میں امیر جماعت کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

دفعہ ۴۷: صوبے کی مجلسِ شوریٰ کا معمولی اجلاس سال میں ایک مرتبہ ہوا کرے گا۔

اجلاس:

دفعہ ۴۸: صوبے کی مجلسِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس حسب ذیل صورتوں میں ہر وقت بلایا جاسکے گا۔

(ا) امیر صوبہ اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(ب) صوبہ کی مجلسِ شوریٰ کے ایک کم از کم ایک چوتھائی ارکان اس کا تحریری مطالبہ کریں تو مجلس شوریٰ کا اجلاس 25 روز کے اندر منعقد ہونا لازمی ہو گا۔

(ج) امیر صوبہ کے موجود نہ ہونے کی صورت میں صوبے کا شعبہ تنظیم اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(د) امیر جماعت اسے منعقد کرنے کا حکم دے۔

فرائض اور اختیارات:

دفعہ ۴۹: صوبے کی مجلسِ شوریٰ کے فرائض وہ ہوں گے جو رکنیت شوریٰ کے حلف (ضمیمہ نمبر۲) میں مذکور ہیں اور اس مجلس کے اختیارات حسب ذیل ہیں:

(۱) جماعت کے نصب العین اور مقاصد سے متعلق اور ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل پر قرار داد یا بیان کی شکل میں اظہار رائے بشرطیکہ مرکزی نظام کی عام یا خاص پالیسی کے خلاف نہ ہوں۔

(۲) اپنے صوبے اور ماتحت جماعتوں کے کام کا محاسبہ۔

(۳) صوبے کے بجٹ کی منظوری۔

(۴) امیر صوبہ پر اعتماد یا عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرنا۔

۴۔ قیّم صوبہ (Provincial Secretary General)

تقرر اور برطرفی: دفعہ ۵۰: قیّم صوبہ کا تقرر امیر صوبہ اپنی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا اور وہ اسی وقت تک اس منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک امیر صوبہ اس کے کام سے مطمئن ہو۔

فرائض:

دفعہ۵۱: (۱) قیّم صوبہ اپنے صوبے کے جملہ معاملات میں امیرصوبہ کا مددگار اور نمائندہ ہوگا اور وہ فرائض انجام دے گا جو امیر صوبہ اس کے سپرد کرے اور اپنے کام کے لیے امیر صوبہ کے سامنے جوابدہ ہو گا۔

حلف:

(۲) قیّم صوبہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے امیر صوبہ کے سامنے وہ حلف اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۳ میں درج ہے۔

۵۔ صوبائی مجلس عاملہ (Provincial Working Committee)

تقرر، حیثیت اور اختیارات:

دفعہ ۵۱ ا :(۱) صوبائی جماعت کی ایک مجلس عاملہ ہوگی جو زیادہ سے زیادہ دس ارکان پر مشتمل ہوگی جن کا انتخاب صوبائی امیر، صوبائی مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے کرے گا۔ صوبائی امیر اس کا صدر ہو گا، قیّم صوبہ بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہوگا اور نائب صوبائی امراء (اگر کوئی ہوں) بربنائے عہدہ اس کے رکن ہوں گے۔

(۲) کوئی شخص جس کی صوبائی مجلس ِ شوریٰ کی رکنیت ختم ہو جائے، صوبائی مجلس عاملہ کا رکن نہیں رہ سکے گا۔

(۳) صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس صوبائی امیر جب اور جتنی مرتبہ چاہے طلب کرسکتا ہے۔

(۴) صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے لیے حاضری کا نصاب اس مجلس کے ارکان کی کل تعداد کے نصف پر مشتمل ہو گا۔

(۵) صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ہر نئے انتخاب کے بعد صوبائی مجلس عاملہ از سر نو مرتب کی جائے گی۔

(۶) ایسے تمام حالات میں جب کہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس نہ ہو رہا ہو، یا طلب کرنا مشکل ہو، صوبائی مجلس عاملہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کے جملہ اختیارات استعمال کرسکے گی البتہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کو پورا اختیار ہوگا کہ اس کے کسی اقدام یا فیصلے کی توثیق کرے یا اس کو جزوی یا کلی طور پر نا منظور کر دے

۶۔ صوبائی شعبوں کے ناظمین

تقرر، حیثیت اور اختیارات:

دفعہ ۵۱ ب : (۱) ہر صوبائی شعبہ بالعموم ایک الگ ناظم کے ماتحت ہوگا جس کا تقرر امیر صوبہ اپنی صوابدید سے کرے گا۔

(۲) ایک ناظم شعبہ اسی وقت تک اپنے منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک صوبائی امیر اس کے کام سے مطمئن رہے۔

(۳) ناظمین شعبہ جات کے فرائض و اختیارات کا تعین صوبائی امیر کرے گا۔

٭…٭…٭

حصہ پنجم:

تنظیمی حلقے

۱۔ حدود اور نظام

دفعہ ۵۲: (۱) جماعتی تنظیم کے لیے تنظیمی حلقوں کے حدود کا تعین اور ان میں تبدیلی متعلقہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کی تجویز پر امیر جماعت کرے گا۔

(۲) ان حلقوں کا نظام امیر حلقہ، حلقہ کی مجلسِ شوریٰ اور قیّم حلقہ پر مشتمل ہوگا۔ الاّ یہ کہ مقامی حالات عارضی طور پر کسی دوسرے انتظام کے متقاضی ہوں۔

(۳) ہر حلقے کے ارکانِ جماعت پر نظم حلقہ کی اطاعت لازم ہوگی۔

۲۔ امیر حلقہ (Divisional Ameer)

حیثیت:

دفعہ ۵۳: ہر تنظیمی حلقے کا ذمہ دار ایک امیر ہوگا جو امیر حلقہ کہلائے گا، اس کی حیثیت اپنے حلقے میں امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ اپنے امرائے بالا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔

عزل و نصب:

دفعہ ۵۴: امیر حلقہ کا عزل و نصب امیر جماعت، امیر صوبہ کے مشورے سے کرے گا۔ اور وہ اس میں جماعتی مصالح کے ساتھ ارکان حلقہ کی رائے کو زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔ امیر حلقہ کا تقرر تین سال کے لیے ہوگا۔

حلف: دفعہ ۵۵: امیر حلقہ اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیر جماعت یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کے روبرو حلفِ امارت اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ ۵۶: امیر حلقہ کے فرائض حسب ذیل ہوں گے:

(۱) جماعت کی دعوت، نصب العین اور پروگرام کی اپنے حلقے میں اشاعت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔

(۲) حلقے میں نظم بالا کے احکام کی تعمیل اور ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی کا انتظام کرنا۔

(۳) حلقے کے حالات اور جماعت کے کام سے نظم بالا کو با خبر رکھنا۔

(۴) حلقے میں ماتحت جماعتوں، شعبوں اور اداروں اور ان کے عملے اور کارکنوں کی نگرانی و رہنمائی اور محاسبہ کرنا۔

(۵) حلقے میں جماعت کے نصب العین اور مقاصد سے تعلق رکھنے یا ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل کا بروقت نوٹس لینا اور ان کے بارے میں ضروری اقدام کرنا۔

(۶) مزید جو فرائض اور ذمہ داریاں نظم بالا کی طرف سے عائد کر دی جائیں۔

دفعہ ۵۷: امیر حلقہ کے اختیارات یہ ہوں گے:

(۱) حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے قیّم حلقہ کا تقرر اور برطرفی۔

(۲) حلقے کے شعبوں میں عملے کا تقرر اور برطرفی۔

(۳) حلقے کی مجلسِ شوریٰ اور اجتماعات طلب کرنا۔

(۴) حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے طے کردہ بجٹ کے مطابق حلقے کے بیت المال میں تصرف اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں دستور کے مطابق مناسب اور ضروری اقدام کرنا۔

(۵) مزید جو اختیارات امرائے بالا سپرد کریں۔

۳۔ حلقے کی مجلسِ شوریٰ (Divisional Council)

دفعہ ۵۸: (۱) ہر حلقے کی مجلسِ شوریٰ ارکانِ حلقہ کی براہ راست منتخب کردہ ہو گی۔

(۲) ارکانِ مجلس کی تعداد امیر حلقہ مقرر کرے گا۔

(۳) ارکان مجلس کا انتخاب دو سال کے لیے ہوگا۔

(۴) امیر حلقہ اپنے حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا صدر اور قیّمِ حلقہ بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہوگا۔ ۱؎

افتتاحی اجلاس:

دفعہ ۵۹: حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد امیر حلقہ ایک مہینے کے اندر اندر مجلس کا افتتاحی اجلاس بلائے گا جس میں تمام ارکانِ شوریٰ فرداً فرداً امیرِ حلقہ کے روبرو رکنیتِ شوریٰ کا حلف اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۲ میں درج ہے۔ اس کے بعد امیر حلقہ انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے اور حلقے میں جماعت کے موجودالوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔

امیر حلقہ اور اس کی مجلسِ شوریٰ کا باہمی تعلق:

دفعہ ۶۰: ( ۱) امیر حلقہ روز مرہ کے معاملات کے سوا تمام اہم معاملات حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے طے کرے گا۔

(۲) امیر حلقہ اور اس کی مجلسِ شوریٰ میں نزاع پیدا ہو جانے کی صورت میں امرائے بالا کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

دفعہ ۶۱:حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے معمولی اجلاس سال میں دو مرتبہ ہوا کریں گے۔

اجلاس:

دفعہ ۶۲: حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس حسب ذیل صورتوں میں ہر وقت بلایا جاسکے گا:

(ا) امیر حلقہ اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(ب) حلقہ کی مجلس شوریٰ کے کم ازکم ایک چوتھائی ارکان

اس کا تحریری مطالبہ کریں تو مجلس شوریٰ کا اجلاس 20 روز کے اندر منعقد ہونا لازمی ہو گا۔

(ج) امیر حلقہ کے موجود نہ ہونے کی صورت میں حلقے کا شعبہ تنظیم اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(د) امرائے بالا اسے منعقد کرنے کا حکم دیں۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ۶۳: حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے فرائض وہ ہوںگے جو رکنیت شوریٰ کے حلف میں مذکور ہیں اور اس مجلس کے اختیارات حسب ذیل ہوں گے:

(۱) جماعت کے نصبُ العین اور مقاصد سے متعلق اور ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل پر قراردادوں یا بیانات کی شکل میں اظہار رائے بشرطیکہ وہ بالائی نظام کی عام یا خاص پالیسی کے خلاف نہ ہو۔

(۲) اپنے حلقے اور ماتحت جماعتوں کے کام کا محاسبہ۔

(۳) حلقے کے بجٹ کی منظوری۔

(۴) امیر حلقہ پر اعتماد اور عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرنا۔

۴۔ قیّم صوبہ

(Provincial Secretary General)

تقرر اور برطرفی: دفعہ ۵۰: قیّم صوبہ کا تقرر امیر صوبہ اپنی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا اور وہ اسی وقت تک اس منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک امیر صوبہ اس کے کام سے مطمئن ہو۔

فرائض:

دفعہ۵۱: (۱) قیّم صوبہ اپنے صوبے کے جملہ معاملات میں امیرصوبہ کا مددگار اور نمائندہ ہوگا اور وہ فرائض انجام دے گا جو امیر صوبہ اس کے سپرد کرے اور اپنے کام کے لیے امیر صوبہ کے سامنے جوابدہ ہو گا۔

حلف:

(۲) قیّم صوبہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے امیر صوبہ کے سامنے وہ حلف اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۳ میں درج ہے۔

۵۔ صوبائی مجلس عاملہ

(Provincial Working Committee)

تقرر، حیثیت اور اختیارات:

دفعہ ۵۱ ا :(۱) صوبائی جماعت کی ایک مجلس عاملہ ہوگی جو زیادہ سے زیادہ دس ارکان پر مشتمل ہوگی جن کا انتخاب صوبائی امیر، صوبائی مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے کرے گا۔ صوبائی امیر اس کا صدر ہو گا، قیّم صوبہ بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہوگا اور نائب صوبائی امراء (اگر کوئی ہوں) بربنائے عہدہ اس کے رکن ہوں گے۔

(۲) کوئی شخص جس کی صوبائی مجلس ِ شوریٰ کی رکنیت ختم ہو جائے، صوبائی مجلس عاملہ کا رکن نہیں رہ سکے گا۔

(۳) صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس صوبائی امیر جب اور جتنی مرتبہ چاہے طلب کرسکتا ہے۔

(۴) صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے لیے حاضری کا نصاب اس مجلس کے ارکان کی کل تعداد کے نصف پر مشتمل ہو گا۔

(۵) صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ہر نئے انتخاب کے بعد صوبائی مجلس عاملہ از سر نو مرتب کی جائے گی۔

(۶) ایسے تمام حالات میں جب کہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس نہ ہو رہا ہو، یا طلب کرنا مشکل ہو، صوبائی مجلس عاملہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کے جملہ اختیارات استعمال کرسکے گی البتہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کو پورا اختیار ہوگا کہ اس کے کسی اقدام یا فیصلے کی توثیق کرے یا اس کو جزوی یا کلی طور پر نا منظور کر دے

۶۔ صوبائی شعبوں کے ناظمین

تقرر، حیثیت اور اختیارات:

دفعہ ۵۱ ب : (۱) ہر صوبائی شعبہ بالعموم ایک الگ ناظم کے ماتحت ہوگا جس کا تقرر امیر صوبہ اپنی صوابدید سے کرے گا۔

(۲) ایک ناظم شعبہ اسی وقت تک اپنے منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک صوبائی امیر اس کے کام سے مطمئن رہے۔

(۳) ناظمین شعبہ جات کے فرائض و اختیارات کا تعین صوبائی امیر کرے گا۔

٭…٭…٭

حصہ پنجم:

تنظیمی حلقے

۱۔ حدود اور نظام

دفعہ ۵۲: (۱) جماعتی تنظیم کے لیے تنظیمی حلقوں کے حدود کا تعین اور ان میں تبدیلی متعلقہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کی تجویز پر امیر جماعت کرے گا۔

(۲) ان حلقوں کا نظام امیر حلقہ، حلقہ کی مجلسِ شوریٰ اور قیّم حلقہ پر مشتمل ہوگا۔ الاّ یہ کہ مقامی حالات عارضی طور پر کسی دوسرے انتظام کے متقاضی ہوں۔

(۳) ہر حلقے کے ارکانِ جماعت پر نظم حلقہ کی اطاعت لازم ہوگی۔

۲۔ امیر حلقہ (Divisional Ameer)

حیثیت:

دفعہ ۵۳: ہر تنظیمی حلقے کا ذمہ دار ایک امیر ہوگا جو امیر حلقہ کہلائے گا، اس کی حیثیت اپنے حلقے میں امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ اپنے امرائے بالا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔

عزل و نصب:

دفعہ ۵۴: امیر حلقہ کا عزل و نصب امیر جماعت، امیر صوبہ کے مشورے سے کرے گا۔ اور وہ اس میں جماعتی مصالح کے ساتھ ارکان حلقہ کی رائے کو زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔ امیر حلقہ کا تقرر تین سال کے لیے ہوگا۔

حلف: دفعہ ۵۵: امیر حلقہ اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیر جماعت یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کے روبرو حلفِ امارت اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ ۵۶: امیر حلقہ کے فرائض حسب ذیل ہوں گے:

(۱) جماعت کی دعوت، نصب العین اور پروگرام کی اپنے حلقے میں اشاعت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔

(۲) حلقے میں نظم بالا کے احکام کی تعمیل اور ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی کا انتظام کرنا۔

(۳) حلقے کے حالات اور جماعت کے کام سے نظم بالا کو با خبر رکھنا۔

(۴) حلقے میں ماتحت جماعتوں، شعبوں اور اداروں اور ان کے عملے اور کارکنوں کی نگرانی و رہنمائی اور محاسبہ کرنا۔

(۵) حلقے میں جماعت کے نصب العین اور مقاصد سے تعلق رکھنے یا ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل کا بروقت نوٹس لینا اور ان کے بارے میں ضروری اقدام کرنا۔

(۶) مزید جو فرائض اور ذمہ داریاں نظم بالا کی طرف سے عائد کر دی جائیں۔

دفعہ ۵۷: امیر حلقہ کے اختیارات یہ ہوں گے:

(۱) حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے قیّم حلقہ کا تقرر اور برطرفی۔

(۲) حلقے کے شعبوں میں عملے کا تقرر اور برطرفی۔

(۳) حلقے کی مجلسِ شوریٰ اور اجتماعات طلب کرنا۔

(۴) حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے طے کردہ بجٹ کے مطابق حلقے کے بیت المال میں تصرف اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں دستور کے مطابق مناسب اور ضروری اقدام کرنا۔

(۵) مزید جو اختیارات امرائے بالا سپرد کریں۔

۳۔ حلقے کی مجلسِ شوریٰ (Divisional Council)

دفعہ ۵۸: (۱) ہر حلقے کی مجلسِ شوریٰ ارکانِ حلقہ کی براہ راست منتخب کردہ ہو گی۔

(۲) ارکانِ مجلس کی تعداد امیر حلقہ مقرر کرے گا۔

(۳) ارکان مجلس کا انتخاب دو سال کے لیے ہوگا۔

(۴) امیر حلقہ اپنے حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا صدر اور قیّمِ حلقہ بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہوگا۔ ۱؎

افتتاحی اجلاس:

دفعہ ۵۹: حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد امیر حلقہ ایک مہینے کے اندر اندر مجلس کا افتتاحی اجلاس بلائے گا جس میں تمام ارکانِ شوریٰ فرداً فرداً امیرِ حلقہ کے روبرو رکنیتِ شوریٰ کا حلف اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۲ میں درج ہے۔ اس کے بعد امیر حلقہ انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے اور حلقے میں جماعت کے موجودالوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔

امیر حلقہ اور اس کی مجلسِ شوریٰ کا باہمی تعلق:

دفعہ ۶۰: ( ۱) امیر حلقہ روز مرہ کے معاملات کے سوا تمام اہم معاملات حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے طے کرے گا۔

(۲) امیر حلقہ اور اس کی مجلسِ شوریٰ میں نزاع پیدا ہو جانے کی صورت میں امرائے بالا کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

دفعہ ۶۱:حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے معمولی اجلاس سال میں دو مرتبہ ہوا کریں گے۔

اجلاس:

دفعہ ۶۲: حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس حسب ذیل صورتوں میں ہر وقت بلایا جاسکے گا:

(ا) امیر حلقہ اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(ب) حلقہ کی مجلس شوریٰ کے کم ازکم ایک چوتھائی ارکان

اس کا تحریری مطالبہ کریں تو مجلس شوریٰ کا اجلاس 20 روز کے اندر منعقد ہونا لازمی ہو گا۔

(ج) امیر حلقہ کے موجود نہ ہونے کی صورت میں حلقے کا شعبہ تنظیم اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(د) امرائے بالا اسے منعقد کرنے کا حکم دیں۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ۶۳: حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے فرائض وہ ہوںگے جو رکنیت شوریٰ کے حلف میں مذکور ہیں اور اس مجلس کے اختیارات حسب ذیل ہوں گے:

(۱) جماعت کے نصبُ العین اور مقاصد سے متعلق اور ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل پر قراردادوں یا بیانات کی شکل میں اظہار رائے بشرطیکہ وہ بالائی نظام کی عام یا خاص پالیسی کے خلاف نہ ہو۔

(۲) اپنے حلقے اور ماتحت جماعتوں کے کام کا محاسبہ۔

(۳) حلقے کے بجٹ کی منظوری۔

(۴) امیر حلقہ پر اعتماد اور عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرنا۔

۴۔ قیّمِ حلقہ

(Divisional Secretary)

تقرر اور برطرفی:

دفعہ۶۴: قیّم حلقہ کا تقرر امیر حلقہ اپنی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا اور وہ اسی وقت تک اس منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک کہ امیر حلقہ اس کے کام سے مطمئن رہے۔

فرائض:

دفعہ ۶۵: (۱) قیّم حلقہ اپنے حلقے کے جملہ معاملات میں امیر حلقہ کا مددگار اور نمائندہ ہوگا اور وہ فرائض انجام دے گا جو امیر حلقہ اس کے سپرد کرے اور اپنے کام کے لیے امیر حلقہ کے سامنے جواب دہ ہو گا۔

(۲)قیّمِ حلقہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے امیر حلقہ کے سامنے وہ حلف اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۳ میں درج ہے۔

حصہ ششم

تنظیمی اضلاع

۱۔حدود اور نظام

ضلعی نظام:

دفعہ ۶۶: (۱) جماعتی تنظیم کے لیے تنظیمی اضلاع کے حدود صوبائی امیر اپنی مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے مقرر کرے گا۔

(۲) ضلعی نظام امیر ضلع، ضلعی مجلسِ شوریٰ اور قیّم ضلع پر مشتمل ہوگا۔ الاّ یہ کہ مقامی حالات عارضی طور پر کسی دوسرے انتظام کے متقاضی ہوں۔

(۳) ضلعی نظام نظمِ حلقہ کے تابع ہو گا اور اس کے واسطے سے نظم بالا سے تعلق رکھے گا۔

(۴) ہر ضلع کے ارکان پر نظمِ ضلع کی اطاعت لازم ہوگی۔

۲۔ امیر ضلع  (District Ameer)

حیثیت:

دفعہ ۶۷: ہر تنظیمی ضلع کا ذمہ دار ایک امیر ہوگا جو امیر ضلع کہلائے گا اس کی حیثیت اپنے ضلع میں امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ اپنے امرائے بالا کے سامنے جوابدہ ہو گا۔

عزل و نصب:

دفعہ ۶۸: امیر ضلع کا عزل و نصب امیر جماعت، صوبائی امیر اور امیر حلقہ کے مشورے سے کرے گا اور اس میں جماعتی مصالح کے ساتھ ارکان ضلع کی رائے کو بھی زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھا جائے گا۔ امیر ضلع کا تقرر دو سال کے لیے ہوگا۔

حلف:

دفعہ۶۹: امیر ضلع اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیر صوبہ یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کے روبرو حلفِ امارت اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ ۷۰: امیر ضلع اپنے ضلع میں پورے جماعتی نظم کا ذمہ دار ہو گا اور اس کے فرائض اور اختیارات اپنے ضلع میں بنیادی طور پر وہی ہوں گے جو امیر حلقہ کے حلقہ میں ہیں۔ (دفعہ ۵۶۔ ۵۷)

ضلعی مجلسِ شوریٰ (District Council)

ترکیب:

دفعہ ۷۱: ضلعی مجالسِ شوریٰ انہی اضلاع میں قائم کی جائیں گی جن میں ارکانِ جماعت کم از کم بیس یا مقامی جماعتوں کی تعداد کم از کم پانچ ہو، الاّ یہ کہ امیر صوبہ کی رائے میں کسی خاص ضلع کی ضروریات اس قاعدے میں کسی رد و بدل کی متقاضی ہوں۔

انتخاب اور میعاد:

دفعہ ۷۲: (۱)ضلع کی مجلسِ شوریٰ، ارکانِ ضلع کی براہِ راست منتخب کردہ ہوگی۔

(۲)ارکانِ مجلس کی تعداد امیر ضلع مقرر کرے گا۔۱؎

(۳)ارکانِ مجلس کا انتخاب دو سال کے لیے ہوگا۔

صدر:

دفعہ ۷۳: امیر ضلع اپنے ضلع کی مجلسِ شوریٰ کا صدر اور قیّم ضلع بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہوگا۔۲؎

افتتاحی اجلاس:

دفعہ ۷۴: ضلع کی مجلسِ شوریٰ کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد امیر ضلع ایک مہینے کے اندر اندر مجلس کا افتتاحی اجلاس بلائے گا۔

جس میں تمام ارکانِ شوریٰ فرداً فرداً امیر ضلع کے روبرو رکنیت شوریٰ کا حلف اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۲ میں درج ہے۔ اس کے بعد امیر ضلع انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں اور ضلع میں جماعت کے موجود الوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔

امیر ضلع اور اس کی مجلسِ شوریٰ کا باہمی تعلق:

دفعہ ۷۵: (۱) ضلع میں مجلسِ شوریٰ قائم ہونے کی صورت میں امیر ضلع روز مرہ کے معاملات کے سوا تمام اہم معاملات اپنی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے طے کرے گا۔

(۲) ضلعی امیر اور مجلسِ شوریٰ میں نزاع پیدا ہو جانے کی صورت میں امرائے بالا کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

اجلاس:

دفعہ ۷۶: ضلع کی مجلسِ شوریٰ کے معمولی اجلاس سال میں تین مرتبہ ہوا کریں گے۔

دفعہ ۷۷: ضلع کی مجلسِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس حسب ذیل صورتوں میں ہر وقت بلایا جاسکے گا:

(ا) امیر ضلع اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(ب) ضلع کی مجلس شوریٰ کے کم ازکم ایک چوتھائی ارکان اس کا تحریری مطالبہ کریں تو مجلس شوریٰ کا اجلاس 15روز کے اندر منعقد ہونا لازمی ہو گا۔

(ج) امیر ضلع کے موجود نہ ہونے کی صورت میں ضلع کا شعبہ تنظیم اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(د) کوئی امیر بالا اسے منعقد کرنے کا حکم دے۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ ۷۸: ضلعی مجلسِ شوریٰ اور اس کے ارکان کے اپنے ضلع میں ویسے ہی فرائض و اختیارات ہوں گے جیسے حلقے کی مجلسِ شوریٰ اور اس کے ارکان کے اپنے حلقے میں ہیں۔ (دفعہ ۶۳)

۴۔ قیّمِ ضلع(District Secretary)

تقرر اور برطرفی:

دفعہ ۷۹: (۱) قیّم ضلع کا تقرر بالعموم انھی اضلاع میں کیا جائے گا جس میں ضلعی مجلسِ شوریٰ قائم ہو۔ یہ تقرر امیر ضلع اپنی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا۔

(۲) قیّم ضلع اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے امیر ضلع کے سامنے وہ حلف اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۳ میں درج ہے۔

(۳) قیّم ضلع اسی وقت تک اپنے منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک امیر ضلع اس کے کام سے مطمئن رہے۔

دفعہ ۸۰: قیّم ضلع اپنے ضلع کے جملہ معاملات میں امیر ضلع کا مددگار اور نمائندہ ہوگا اور وہ فرائض انجام دے گا جو امیر ضلع اس کے سپرد کرے اور اپنے کام کے لیے امیر ضلع کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

حصہ ہفتم

مقامی نظام اور منفرد ارکان

دفعہ ۸۱: (۱) جس مقام پر ایک سے زیادہ ارکانِ جماعت موجود ہوں وہاں مقامی جماعت قائم کی جائے گی۔

(۲) ہر مقامی جماعت کے حدود میں رہنے والے ارکانِ جماعت پر مقامی نظم کی اطاعت لازم ہوگی۔

(۳) ہر مقامی جماعت اپنے ضلع، حلقے اور صوبے کے نظم کے تابع ہوگی اور اس کے واسطے سے مرکز کے ساتھ تعلق رکھے گی۔

(۴) اگر کسی مقام پر صرف ایک رکن ہو تو وہ اپنے ضلع کے امیر سے تعلق پیدا کرے گا اور اس کی نگرانی و رہنمائی میں کام کرے گا۔

مقامی امراء کا تقرر:

دفعہ ۸۲: (۱) ہر مقامی جماعت کے ارکان اپنے میں سے اہل تر آدمی کو امارت کے منصب کے لیے تجویز کر کے اس کی منظوری بوساطت امرائے بالا امیر جماعت سے حاصل کریں گے۔ یہ تقرر دو سال کے لیے ہو گا۔

(۲) مقامی امیر اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے اپنی جماعت کے اجتماع میں حلف امارت اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔

دفعہ ۸۳: اگر کسی وقت کسی وجہ سے نظم بالا کی بروقت منظوری حاصل کرنا ممکن نہ ہو، تو تجویز کردہ امیر بہ اُمید منظوری امارت کا حلف اٹھا کر اس ذمہ داری کو سنبھال لے گا۔

مقامی امیر کی حیثیت:

دفعہ ۸۴: (۱) مقامی امیر کی حیثیت اپنے مقام پر امیر جماعت کے نمائندے کی ہو گی اور وہ اپنے امرائے بالا کے سامنے جواب دہ ہو گا۔

(۲) مقامی امیر کا عزل و نصب امیر جماعت کے اختیار میں ہوگا اور اس میں وہ ضلعے، حلقے اور صوبے کے نظم کی رائے کے ساتھ مقامی ارکان کی رائے کو بھی زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ ۸۵: مقامی امیر کے فرائض و اختیارات اپنے حدودِ عمل میں بنیادی طور پر وہی ہوں گے جو حلقے کے حدودِ عمل میں امیرحلقہ کے ہیں۔ (دفعہ ۵۶-۵۷)

مقامی مجلسِ شوریٰ:

دفعہ ۸۶: اگر کسی مقامی جماعت کا امیر ضرورت محسوس کرے تو وہ اپنی جماعت کے مشورے سے مجلسِ شوریٰ قائم کر سکتا ہے۔ مقامی مجلسِ شوریٰ کی مدت دو سال ہوگی۔

دفعہ ۸۷: مقامی مجلسِ شوریٰ کا ضابطہ بنیادی طور پر وہی ہوگا جو دفعہ ۷۲ تا ۷۸ میں ضلعی مجلسِ شوریٰ کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔

حصہ ہشتم

خواتین کی تنظیم

دفعہ ۸۸: خواتین (ارکان اور متفقات) کی تنظیم مرد ارکان و متفقین کے نظام سے الگ ہو گی۔

(۱) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی ایک قیّمہ ہوگی، جسے امیر جماعت اسلامی پاکستان ملک بھر میں جماعت کی رکن خواتین کی آراء کو ملحوظ رکھتے ہوئے تین سال کے لیے مقرر کرے گا۔ اور وہ اس وقت تک اس منصب پر فائز رہے گی جب تک امیر جماعت اس کے کام اور کارکردگی سے مطمئن رہے۔

(۲) قیّمہ کے فرائض و اختیارات حلقہ خواتین کے ضمن میں وہی ہوں گے جو دستور جماعت کی دفعہ ۳۵(۴) میں قیّم جماعت کے ہیں۔

(۲ ا)  جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ میں خواتین کی دس نشستیں ہو گی جو خواتین ارکان خود اپنے میں سے ہی منتخب کریں گی۔ جبکہ قیمہ حلقہ خواتین بربنائے عہدہ مرکزی مجلس شوریٰ کی رکن ہوں گی۔

(۳) قیّمہ حلقہ خواتین پاکستان کی مدد اور مشورے کے لیے خواتین کی ایک مجلسِ شوریٰ ہوگی جس کی تعداد زیادہ سے زیادہ پچیس (۲۵) ہوگی اور اسے جماعت کی رکن خواتین صوبہ وار تعداد ارکان کے تناسب سے منتخب کریں گی بشرطیکہ کوئی صوبہ بھی، اگر وہاں حلقہ خواتین کی کوئی رکن موجود ہوں تو، کم از کم ایک نمائندہ خاتون کے ذریعے نمائندگی سے محروم نہ رہے۔

(۴) مجلسِ شوریٰ کا انتخاب تین سال کے لیے ہو گا۔

(۵) حلقہ خواتین کی ایک مجلس عاملہ ہوگی جو ۸ ارکان پر مشتمل ہوگی جن کا انتخاب قیمہ حلقہ خواتین مجلس ِ شوریٰ کے ارکان میں سے کریں گی۔

(۶) صوبائی ناظمہ کا تقرر تین سال کی مدت کے لیے ہوگا۔ صوبائی شوریٰ کی مدت دو سال ہوگی۔ حلقہ و ضلعی ناظمہ کا تقرر دو سال کے لیے ہوگا۔ ۱؎

(۷) خواتین کا تنظیمی نظام بالعموم مردوں کے نظام کے خطوطِ کار پر ہی قائم کیا جائے گا۔ تاہم اگر کسی جگہ متبادل انتظام کی ضرورت محسوس ہو تو خواتین کی مجلسِ شوریٰ امیرِ جماعت کی منظوری سے ایسا کر سکے گی۔

(۸) حلقہ خواتین میں ہرسطح کے نظم کے تحت اپنا بیت المال قائم کیا جائے گا۔

(۹) بیت المال کے نظام کی پڑتال اور آڈٹ کے لیے امیرِ جماعت کی منظوری سے جو قواعد و ضوابط طے کیے جائیں، ان کی پابندی کی جائے گی۔

(۱۰) ہر سطح کا خواتین کا نظم اسی سطح کے جماعتی نظم کی رہنمائی میں کام کرے گا۔

حصہ نہم

جماعتی مناصب سے معزولی

۱- مجالس شوریٰ کے ارکان کی معزولی

دفعہ ۸۹: مجلسِ شوریٰ (خواہ مرکزی ہو یا ماتحت) کا جو رکن:

(ا) جماعت اسلامی پاکستان کا رکن نہ رہے ، یا

(ب) اپنی مجلس کے مسلسل دو اجلاسوں سے بلا کسی معقول وجہ کے غیر حاضر رہے، یا

(ج) مجلس کی رکنیت سے مستعفی ہو جائے اور اس کا امیر اس کے استعفیٰ کو منظور کرلے، یا

(د) اس کے حلقۂ انتخاب کے اجتماع میں کم از کم دو تہائی اکثریت اس کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کردے، اسے اس مجلسِ شوریٰ کی رکنیت سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔

۲- جماعت سے اخراج یا تادیبی مُعطلی

دفعہ ۹۰: (۱) کسی رکن جماعت کا رکنیت سے اخراج یا تادیبی معطلی کی کاروائی صرف اس صورت میں ہوسکے گی جب کہ:

(ا) وہ اپنے عہدِ رکنیت سے قولاً یا عملاً انحراف کرے، یا

(ب) نظم جماعت کی خلاف ورزی کرے، یا

(ج) جماعت کی اعلان کردہ پالیسی کے خلاف کوئی کام کرے، یا

(د) کوئی ایسا فعل کرے جو جماعت کی اخلاقی و دینی حیثیت کو نقصان پہنچانے والا ہو، یا

(ہ) اس کے طرز عمل سے یہ ظاہر ہو کہ اسے جماعت سے مخلصانہ تعلق نہیں ہے، یا

(و) جماعت کے کام میں دلچسپی لینا چھوڑ دے۔

(۲) اگر کوئی امیرضلع از خود یا کسی ماتحت امیر کی رپورٹ پر محسوس کرے کہ اس کے ضلع کاکوئی رکن جماعت اس دفعہ شق نمبر1 کی کسی ضمن کا اس حد تک مرتکب ہوا ہے کہ اسے جماعت کی رکنیت سے خارج یا بطور تادیب کسی متعین مدت کے لیے معطل کردینا چاہیے تو اس کی رپورٹ امرائے بالا کے توسط سے امیر جماعت کے پاس بھیج دے گا۔

(۳) اخراج یا تادیبی معطلی کاآخری فیصلہ امیر جماعت کی صوابدید پر ہوگا۔ تادیبی معطلی کی مدت زیادہ سے زیادہ ایک سال ہوگی البتہ امیرضلع، امیرحلقہ یا امیرصوبہ اگر ضرورت محسوس کرے تو امیر جماعت کے فیصلے تک رکنیت عارضی طور پر معطل کرسکتا ہے۔ ۱؎

۳- جماعتوں کوتوڑنا اور معطل کرنا

دفعہ۹۱: اگر جماعتی ضروریات اور مصالح مقتضی ہوں تو امیر جماعت کسی ماتحت جماعت کو معطل کرنے اور اپنی مجلس عاملہ کے مشورے سے توڑ دینے کا مجاز ہو گا۔

دفعہ ۹۲: مجلسِ شوریٰ کے ہر اجلاس میں وہ سارے معاملات پیش کر دیے جائیں گے۔ جو پچھلے اجلاس سے اس وقت تک ماتحت جماعتوں کو معطل کرنے، توڑنے یا ارکان کے اخراج سے متعلق ہوئے ہوں۔

۴- جماعت اسلامی پاکستان میں اختلاف کے حدود

دفعہ ۹۳: جو ارکان جماعت دستور جماعت کی پابندی کے عہد پر قائم ہوں، مگر نصب العین کے حصول کے عملی طریقوں میں جن کا نقطۂ نظر جماعتی فیصلوں سے مختلف ہو، انھیں جماعت کے اندر حسب ذیل حدود کو ملحوظ رکھنا ہوگا:

(۱) انھیں ارکانِ جماعت کے اجتماعات میں اختلاف خیال کے اظہار کا پورا حق حاصل ہوگا، مگر اس غرض کے لیے پریس اور پبلک پلیٹ فارم کو ذریعہ بنانے کا حق نہ ہوگا اور یہ حق بھی نہ ہوگا کہ وہ فرداً فرداً ارکان جماعت میں نجویٰ کرتے پھریں۔

(۲) جماعت میں کثرتِ رائے سے جو فیصلے ہو جائیں، ان کو وہ جماعتی فیصلوں کی حیثیت سے تسلیم کریں گے اور ا ن کے پابند ہوں گے۔ البتہ انھیں یہ حق حاصل ہوگا کہ مقررہ حدود کے اندر وہ ان فیصلوں کو متعلقہ اجتماعات میں بدلوانے کی کوشش کریں۔

(۳) اگر کوئی رکن جماعت، جماعت کی طے کردہ پالیسی سے اختلاف کا اظہار کر دے تو وہ جماعت میں کسی ایسے منصب پر نہ رہ سکے گا جس کا فریضہ جماعتی پالیسی کو نافذ یا اس کی ترجمانی کرنا ہو۔

حصہ دہم

مالی نظام

۱- بیت المال کا قیام

دفعہ ۹۴: (۱) ہر مقامی جماعت کے لیے مقامی بیت المال، علاقے میں علاقائی بیت المال، ضلع میں ضلعی بیت المال، حلقے میں حلقے کا بیت المال، صوبے میں صوبائی بیت المال اور مرکز جماعت میں مرکزی بیت المال قائم کیا جائے گا۔ اِلاّ یہ کہ بالائی شوریٰ کسی نظام کے لیے الگ بیت المال کے قیام کو غیر ضروری قرار دے یا کسی جگہ الگ الگ بیت المال قائم کرنے کی بجائے ایک ہی بیت المال کافی سمجھے۔

(۲) بیت المالوں کے نظم و نسق کے متعلق جملہ اختیارات امیر جماعت کو حاصل ہوں گے۔

۲- بیت المال میں آمدنی کے ذرائع

دفعہ ۹۵: جماعت کے بیت المالوں کی آمدنی حسب ذیل ذرائع سے حاصل کی جائے گی:

(۱) جماعت کے ارکان اور اس کے کام سے دلچسپی رکھنے والے دوسرے حضرات سے بمد:

(ا) اعانت

(ب) عشر و زکوٰۃ

(ج) عام صدقات

(۲) ماتحت بیت المالوں سے

(۳) جماعت کی مطبوعات سے منافع

(۴) جماعت کے مکتبوں سے منافع

(۵) لُقطہ (جو جماعت کے دفاتر اور مقامات اجتماع میں ملے اور جو شرعی قواعد کی رُو سے داخل بیت المال ہوسکتا ہو)

(۶) جماعتی املاک کی آمدنی

(۷) ایسی جائیدادوں کی آمدنی جو جماعت کے لیے وقف کی گئی ہوں۔

تشریح: ارکان جماعت اپنی زکوٰۃ، عشر اور صدقات واجبہ لازماً جماعت کے بیت المال میں داخل کریں گے۔

۳- بیت المال سے صَرف کے اختیارات

دفعہ ۹۶: (۱) ہر جماعت کا بیت المال اس کے امیر کے تحت ہوگا اور امیر کو اپنے بیت المال سے ہر جماعتی کام پر خرچ کرنے کے اختیارات ہوں گے، لیکن ہر امیر اپنی مجلس شوریٰ اور امرائے بالا کے سامنے جواب دہ ہو گا۔

(۲) امیر جماعت بیت المال کی آمد و صرف کے معاملے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے سامنے جواب دہ ہو گا۔

(۳) مرکزی بیت المال کے حساب کی پڑتال ہر سال کسی آڈیٹر سے کرائی جائے گی جس کا تقرر مجلسِ شوریٰ کرے گی اور آڈیٹر کی رپورٹ مجلسِ شوریٰ کے سامنے پیش کی جائے گی۔

(بسلسلہ دفعات ۱۸، ۴۱، ۵۵، ۶۹، ۸۲، ۸۳) حلفِ امارت

ضمیمہ نمبر۱

(بسلسلہ دفعات ۱۸‘ ۴۱‘۵۵‘ ۶۹‘۸۲‘۸۳)

حلفِ امارت

ضمیمہ نمبر۱

(بسلسلہ دفعات ۱۸، ۴۱، ۵۵، ۶۹، ۸۲، ۸۳)

حلفِ امارت

میں…………………………ابن ……………… جسے جماعت اسلامی ………………………… کا امیر مقرر / منتخب کیا گیا ہے،

اللہ ربُّ الْعالمین کو گواہ کرکے اقرار کرتا ہوں کہ میں:

(۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھوں گا۔

(۲) جماعت اسلامی کے نصب العین کی دل و جان سے خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھوں گا۔

(۳) اپنی ذات اور ذاتی فائدوں پر جماعت کے مفاد اور اس کے کام کی ذمہ داریوں کو ترجیح دوں گا۔

(۴) ارکان جماعت کے درمیان ہمیشہ عدل اور دیانت سے فیصلہ کروں گا۔

(۵) جماعت کی جو امانتیں میرے سپرد کی جائیں گی ان کی اور نظام جماعت کی پوری پوری حفاظت کرں گا، اور

(۶) جماعت کے دستور کا پابند اور وفادار رہوں گا۔

اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کو وفاکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(بسلسلہ دفعات ۱۹ (۴) ج اور ۲۱(۲ب)، حلف برائے نائب امیر جماعت

ضمیمہ نمبر۱۔ ا

(بسلسلہ دفعات ۱۹ (۴) ج اور ۲۱(۲ب)

حلف برائے نائب امیر جماعت

میں…………………ابن ………………………… جسے جماعت اسلامی………………………… کا  نائب امیر مقرر کیا گیا ہے۔اللہ ربُّ الْعالمین کو گواہ کرکے اقرار کرتا ہوں کہ

(۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھوں گا۔

(۲) جماعت کے دستور کا پابند اور وفادار رہوں گا۔

(۳) نائب امیر کی حیثیت سے جو فرائض میرے سپرد کیے جائیں گے، ان کو پورے اخلاص اور دیانت کے ساتھ انجام دوں گا۔

(۴) جماعت کے نظام اور اس کے کام میں جہاں کہیں کوئی خرابی محسوس کروں گا‘ اسے دور کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔

اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کو وفا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(بسلسلہ دفعات۲‘ ۴۵‘۵۹‘۷۴‘۸۷)، حلف رُکنیت شوریٰ

ضمیمہ نمبر۲

(بسلسلہ دفعات۲‘ ۴۵‘۵۹‘۷۴‘۸۷)

حلف رُکنیت شوریٰ

میں ……………………ابن/ بنت /زوجہ ……………… جسے ارکان جماعت اسلامی……………نے مجلس ِ شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان کا رکن منتخب کیا ہے، اللہ رب العالمین کو گواہ کرکے اقرار کرتا/ کرتی ہوں کہ میں:

(۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ووفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھوں گا/گی۔

(۲) جماعت کے دستور اور مجلس کے قواعد کا پابند اور وفادار رہوں گا/گی۔

(۳) مجلس کے اجلاسوں سے بلا عذر شرعی کبھی غیر حاضر نہ ہوں گا/ گی۔

(۴) ہر معاملے میں اپنے علم اور ایمان و ضمیر کے مطابق اپنی حقیقی رائے کا صاف صاف اظہار کروں گا/ گی اور اس بارے میں کسی مداہنت سے کام نہ لوں گا/ گی۔

(۵) جماعت کے نظام اور اس کے کام میں جہاںکہیں کوئی خرابی محسوس کروں گا/ گی اسے دور کرنے کی پوری کوشش کروں گا/گی۔

اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کو وفا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(بسلسلہ دفعہ ۳۷) حلف صدر الیکشن کمیشن اور اراکین الیکشن کمیشن

ضمیمہ نمبر۲(الف)

(بسلسلہ دفعہ ۳۷)

حلف صدر الیکشن کمیشن اور اراکین الیکشن کمیشن

میں …………………… ابن ……………………… جسے جماعت اسلامی پاکستان کے انتخابات کے لیے صدر/رکن الیکشن کمیشن مقرر کیا گیا ہے، اللہ رب العالمین کو گواہ کرکے اقرار کرتا ہوں کہ میں:

(۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ووفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھوں گا۔

(۲) جماعت کے دستور کا پابند اور وفادار رہوں گا۔

(۳) دستور جماعت کے مطابق انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنے فرائض اخلاص، دیانت، ذمہ داری اور غیر جانبداری سے انجام دوں گا۔

اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کو وفا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(بسلسلہ دفعہ ۳۸) حلف صدر الیکشن ٹریبونل اور ارکان ٹریبونل

ضمیمہ نمبر۲(ب)

(بسلسلہ دفعہ ۳۸)

حلف صدر الیکشن ٹریبونل اور ارکان ٹریبونل

میں …………………… ابن ……………………… جسے جماعت اسلامی پاکستان کے انتخابات کے لیے صدر الیکشن/ رکن الیکشن ٹریبونل مقرر کیا گیا ہے، اللہ رب العالمین کو گواہ کرکے اقرار کرتا ہوں کہ میں:

(۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و وفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھوں گا۔

(۲) جماعت کے دستور کا پابند اور وفادار رہوں گا۔

(۳) انتخابی ٹریبونل کے صدر/رکن کی حیثیت سے اپنے فرائض اخلاص، دیانت، ذمہ داری اور غیر جانبداری سے انجام دوں گا۔

اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کو وفا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(بسلسلہ دفعات ۳۵‘۵۱‘۶۵‘۷۹) حلف برائے قیّم

ضمیمہ نمبر۳

(بسلسلہ دفعات ۳۵‘۵۱‘۶۵‘۷۹)

حلف برائے قیّم

میں …………………… ابن ……………………… جسے جماعت اسلامی……………………………… کا قیّم مقرر کیا گیا ہے‘ اللہ ربُّ الْعالمین کو گواہ کرکے اقرار کرتا ہوں کہ:

(۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ووفاداری کو ہر چیز پر مقدم رکھوں گا۔

(۲) جماعت کے دستور کا پابند اور وفادار رہوں گا۔

(۳) قیّم کی حیثیت سے اپنے فرائض پورے اخلاص اور دیانت کے ساتھ انجام دوں گا۔

(۴) جماعت کے نظام اور اس کے کام میں جہاں کہیں کوئی خرابی محسوس کروں گا اسے دور کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔

اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کو وفا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مختلف دفعات کی تعبیرات و توضیحات از مجلس ِ شوریٰ

ضمیمہ نمبر۴

مختلف دفعات کی تعبیرات و توضیحات از مجلسِ شوریٰ

۱۔ تعبیر دفعہ نمبر۱۷(۷)

منصب امارت کے عارضی خلا کو عارضی تقرر سے پُر کیا جاسکتا ہے۔ اور عارضی تقرر کی میعاد اس خلا کی میعاد تک ہی ہوگی۔ جونہی خلا کی علت دُور ہوگی عارضی خلا اسی وقت از خود پُر ہو جائے گا۔ (ستمبر ۱۹۷۳ء)

۲۔تعبیر دفعہ نمبر۷۲

ضلعی مجلسِ شوریٰ کے انتخاب کے موقع پر کل نشستوں کو تحصیل وار تقسیم کر۔کے، تحصیلوں پر مشتمل انتخابی حلقے قائم کرکے انتخاب کرایا جاسکتا ہے۔ (نومبر ۱۹۷۴ء)

۳۔ تعبیر دفعہ نمبر۸۸

خواتین ارکان کا نظام مردوں کے نظم سے الگ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مجلسِ شوریٰ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں کسی مقام کی خواتین ارکان کو مردوں کی مقامی جماعت کے انتخاب میں رائے دہی کا جو حق حاصل ہے وہ حق انھیں حاصل نہ رہے۔ بلکہ مجلسِ شوریٰ کے نزدیک خواتین ارکان کو مقامی امارت کے انتخاب کے سلسلے میں رائے دہی کا حق درست طور پر حاصل ہے البتہ اگر وہ یہ حق استعمال نہ کریں تو ان سے باز پُرس نہ ہوگی۔ (جنوری ۱۹۷۸ء)

۴۔ توضیح دفعہ نمبر۹۰

کسی رکن کی رکنیت کو معطل کرنے کے احکام جاری کرنے کے بعد متعلقہ امیر بلا تاخیر معاملے کو ضروری تفصیلات کے ساتھ منظوری کے لیے امیر جماعت کے پاس بھیج دے گا۔ امیر جماعت اگر محسوس کرے کہ تعطل کے لیے کافی وجہ موجود نہیں ہے یا تحقیقات کے بعد

رکن مذکور کے خلاف عائد کردہ الزام غلط ثابت ہو تو امیر جماعت اس کی رکنیت بحال کردے گا۔ (جون۱۹۵۴ء)

رکنیت سے اخراج یا تادیبی معطلی کا ضابطہ یہ ہے کہ اس کی رپورٹ کرنے سے قبل ضلعی امیر اس رکن کو اظہار وجوہ کا نوٹس دے گا اور اگر مذکورہ رکن کی وضاحت قابل قبول نہ ہو تو اخراج یا تادیبی معطلی کی سفارش نظم بالا کو بھیجی جاسکے گی۔ امیر ضلع کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ اخراج یا تادیبی معطلی کی سفارش کے ساتھ اگر ضروری سمجھے تو اس شخص کی رکنیت کو عارضی طور پر معطل کرسکتا ہے۔ اس معطلی سے پہلے بھی عام حالات میں اظہار وجوہ کانوٹس دینا، جواب یا وضاحت حاصل کرنا، قرین انصاف ہے۔ رکنیت کی معطلی کم سے کم عرصے کے لیے ہونی چاہیے اور اس عرصے کو معقول حد سے زیادہ طویل نہیں ہونا چاہیے۔ (دسمبر۲۰۱۹ء)

رکنیت سے استعفیٰ کی منظوری کا ضابطہ

مقامی جماعت سے متعلق کوئی رکن اگر رکنیت سے استعفیٰ دینا چاہے تو اسے اپنا استعفیٰ مقامی امیر جماعت کو پیش کرنا چاہیے جو اپنی رائے کے ساتھ امیر ضلع کو بھیجے گا اور امیر ضلع اپنی سفارش کے ساتھ امیر صوبہ کو بھیج دے گا۔ امیر صوبہ استعفیٰ منظور یا نا منظور کرنے کا مجاز ہے۔ اس فیصلے کے خلاف امیر جماعت کے پاس اپیل کی جاسکتی ہے۔ منفرد رکن اپنا استعفیٰ امیر ضلع کو بھیج دے گا جو اپنی سفارش کے ساتھ امیر صوبہ کو منظوری کے لیے بھیج دے گا۔ (جنوری ۱۹۸۶ء)

اخراج یامستعفی شدہ رکن کی دوبارہ رکنیت کی منظوری کا ضابطہ

اخراج یا مستعفی شدہ رکن کی دوبارہ درخواست رکنیت کی منظوری امیر جماعت دیں گے۔ امیرصوبہ بھی امیر ضلع کی طرح سفارش امیر جماعت کو بھیجے گا۔ (جنوری ۲۰۰۳)

۔ توضیح دفعات نمبر۴۰، ۵۴، ۶۸، اور ۸۲

’’ تحریکی مصالح کے پیش نظر صوبہ، حلقہ، ضلع اور مقام کی سطح پر اہتمام کیا جائےکہ ایک رکن جماعت کا بحیثیت امیر/ناظمہ تقرر، تسلسل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تین بار ہو البتہ ایک مدت کے فصل کے بعد جو امیر/ناظمہ پہلے ہی ذمہ دار کی تین میقات پوری کرچکا/ چکی ہو، اسے ایک بار پھرمقرر کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی کے عام خطوط کار ہوں گے۔ البتہ اگر کسی جگہ متبادل انتظام ممکن نہ ہوسکے تو امیر جماعت کی اجازت سے ایک ہی رکن جماعت کو بار بار ذمہ داری سونپنے کی گنجائش ہوگی۔‘‘  (اگست۲۰۱۹ء)

۶۔ توضیح دفعہ۲۱(۲ ب)

ہر سطح کے نظم کے نائب امیر/ نائب امراء بر بنائے عہدہ اسی سطح کی مجلسِ شوریٰ کے رکن قرار پائیں گے اور شوریٰ کے رکن کا حلف بھی لیں گے۔ (دسمبر۱۹۶۹ء)

۷۔ توضیح دفعات ۶۲(ب) و ۷۷(ب)

حلقے اور ضلع کی مجالس شوریٰ کے اجلاس طلب کرنے کے لیے بالترتیب ۳ اور ۲ ارکان کے تحریری مطالبے کے بجائے ایک چوتھائی ارکان کا تحریری مطالبہ ضروری ہو گا۔ (دسمبر۱۹۹۴ء)

دستور جماعتِ اسلامی کے ارتقائی مراحل

ضمیمہ نمبر۵

دستور جماعتِ اسلامی کے ارتقائی مراحل

جماعت اسلامی کا پہلا دستور، اس کے قیام کے روز بتاریخ ۲شعبان المعظم ۱۳۶۰ھ (۲۶اگست ۱۹۴۱ء) جماعت کے ۷۵ بانی ارکان کی منظوری سے بالاتفاق وضع کیا گیا تھا۔ اور یہ ۲۶اگست ۱۹۴۱ء سے ۲۶ اگست ۱۹۵۲ء تک پورے گیارہ سال نافذ العمل رہا۔

اس دوران میں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو تقسیم ہند کی وجہ سے متحدہ ہندوستان کی جماعت اسلامی دو الگ جماعتوں میں منقسم ہو گئی۔ ایک جماعت اسلامی پاکستان اور دوسری جماعت اسلامی ہند بن گئی۔ جماعت اسلامی پاکستان نے تقسیم ملک کے بعد …خصوصاً جب ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو قراردادِ مقاصد پاس ہو جانے کے بعد پاکستان اصولاً دارالاسلام بن گیا… اپنے پہلے دستور کو ناکافی پاکر نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق اس میں متعدد ترمیمات اور اضافوں کی ضرورت محسوس کی۔ چنانچہ ارکان جماعت نے اپنے کل پاکستان اجتماع عام، منعقدہ ۱۰ تا ۱۳ نومبر۱۹۵۱ء بمقام کراچی، میں ۳۹ ارکان پر مشتمل ایک ’’مجلس ترتیب دستور‘‘ منتخب کر کے جماعت کے دستور کی ترتیب نو کا کام اس مجلس کے سپرد کیا۔ اس مجلس کا مرتب کردہ دستور ۲۶ اگست ۱۹۵۲ء سے نافذ ہوا۔

اس دستور کے نفاذ کے جلد ہی بعد اس میں مزید تبدیلیوں اور اصلاحات کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ لیکن اس مقصد کے لیے ’’مجلس ترمیم دستور‘‘ کے تقرر کے باوجود ۱۹۵۲ء سے ۱۹۵۶ء تک مطالبہ دستور اسلامی کی ملک گیر اور معرکہ آرا مہم میں مشغولیت اور امیر جماعت کو ۱۱مئی ۱۹۵۳ء کو فوجی عدالت سے پہلے سزائے موت اور پھر ۱۳مئی کو سزائے عمر قید بامشقت جیسے سانحات کی وجہ سے یہ کام معطل رہا۔ ۲۸ اپریل ۱۹۵۵ء کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت امیر جماعت رہا ہوگئے اور ۲۹ فروری ۱۹۵۶ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے عوامی مطالبے کو بڑی حد تک منظور کرتے ہوے ملک کا دستور مرتب کرکے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا فیصلہ کر دیا اور ۲۳مارچ ۱۹۵۶ء کو یہ دستور ملک میں نافذ ہوگیا۔ اس دستور میں قرار دادمقاصد کو بطور دیباچہ شامل کرلیا گیا جس میں واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ اقتدار اعلیٰ فقط اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور باشندگان پاکستان کے اختیارات اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے اور ایک مقدس امانت ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں یہ بھی درج کیا گیا کہ اس ملک میں کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائے گا جو قرآن و سنت کے منافی ہو اور رائج الوقت قوانین کو بھی بدل کر قرآن و سنت کے مطابق بنا دیا جائے گا۔

ملک کے دستور اور اس کے اجتماعی نظام میں اس عظیم الشان تبدیلی اور جماعت کی اسلامی دستور کے لیے اس کامیاب جدوجہد کے نتیجے میں اس کے کام میں روز افزوں وسعت پیدا ہو چکی تھی جس سے جنم لینے والے مسائل کا جائزہ لینے کے بعد جماعت کے کل پاکستان اجتماع ارکان (منعقدہ ۱۲ تا ۱۷ فروری ۱۹۵۷ء مطابق ۱۶ تا ۲۰ رجب المرجب ۱۳۷۶ھ) میں ’’مجلس ترمیم دستور‘‘ کو توڑ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور دستوری ترمیمات کے سلسلے میں درج ذیل تین قرار دادیں منظور کی گئیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کی روز افزوں وسعت، کاموں کا بڑھتا ہوا بار، اس وقت تک کے عملی تجربات، نیز تنظیمی اور دیگر ضروریات اس امر کی متقاضی ہیں کہ دستور جماعت میں بعض تبدیلیاں کر دی جائیں اس لیے یہ اجتماع حسب ذیل تغیرات کا فیصلہ کرتا ہے۔

۱۔ نظم جماعت اور تحریک اسلامی کو چلانے کی آخری ذمہ داری امیر جماعت پر ہوگی اور وہ مجلسِ شوریٰ اور ارکان جماعت کے سامنے جوابدہ ہوگا۔

۲۔ جماعت کی پالیسی کی تشکیل اور اہم مسائل کے فیصلے امیر جماعت مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا۔

۳۔ مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے امیر جماعت کو اپنی مجلسِ عاملہ خود منتخب کر لینے کا اختیار ہو گا اور مجلسِ عاملہ کو وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو آئندہ دستور جماعت میں اسے دیے جائیں گے۔

۴۔ اہم معاملات میں اگر کوئی فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہو اور مجلس عاملہ یا مجلسِ شوریٰ کا اجلاس منعقد کرنے کا امکان نہ ہو تو امیر جماعت، مجلسِ عاملہ یا مجلسِ شوریٰ کے جن ارکان سے بھی مشورہ لے سکتا ہو، ان کے مشورے سے وہ قدم اٹھا سکتا ہے۔

۵۔ امیر جماعت اپنی مدد کے لیے نائب امراء مقرر کرسکے گا، اور وہ تفویض کردہ فرائض ادا کرنے اور اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔

۔ مجلسِ شوریٰ کے ارکان کی تعداد کم از کم پچاس ہوگی۔ ہر انتخاب سے پہلے اس تعداد کو مختلف تنظیمی حلقوں کے ارکان کی تعداد کے تناسب سے ان حلقوں پر تقسیم کیا جاتا رہے گا۔ مگر کوئی حلقہ کم از کم ایک نشست سے محروم نہ رہے گا۔

۷۔ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں ارکان جماعت، سامع کی حیثیت سے حاضر ہوسکیں گے۔ البتہ کسی خاص اجلاس کے لیے امیر جماعت مصالح جماعت کی خاطر اس اجازت کو منسوخ کرسکے گا۔

۸۔ مجلسِ شوریٰ کے کل منتخب ارکان کی دو تہائی اکثریت سے اگر امیر جماعت کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد منظور ہو جائے تو امیر جماعت معزول ہو جائے گا۔

۹۔ مجلسِ شوریٰ کو تعبیر دستور اور ترمیم دستور کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

جو ارکان جماعت، دستور جماعت کی پابندی کے عہد پر قائم ہوں، مگر نصبُ العین کے حصول کے عملی طریقوں میں جن کا نقطہ نظر جماعتی فیصلوں سے مختلف ہو، انھیں جماعت کے اندر حسب ذیل حدود کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔

۱۔ انھیں جماعت کے اجتماعات میں اختلاف خیال کے اظہار کا پورا حق حاصل ہوگا۔ مگر اس غرض کے لیے پریس اور پبلک پلیٹ فارم کو ذریعہ بنانے کا حق نہ ہوگا۔ اور یہ حق بھی نہ ہوگا کہ وہ فرداً فرداً ارکان جماعت میں نجویٰ کرتے پھریں۔

۲۔ جماعت میں کثرتِ رائے سے جو فیصلے ہو جائیں، ان کو وہ جماعتی فیصلوں کی حیثیت سے تسلیم کریں گے اور ان کے پابند ہوں گے۔ البتہ انھیں یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ مقررہ حدود کے اندر ان فیصلوں کو متعلقہ اجتماعات میں بدلوانے کی کوشش کریں۔

۳۔ اگر کوئی رکنِ جماعت، جماعت کی طے کردہ پالیسی سے اختلاف کا اظہار کر دے تو وہ جماعت میں کسی ایسے منصب پر نہ رہ سکے گا جس کا فریضہ جماعتی پالیسی کو نافذ کرنا ہو۔

جماعت اسلامی پاکستان کا یہ کل پاکستان اجتماع ارکان قرار دیتا ہے کہ:

۱۔ دستوری قرار داد نمبر۱ اور نمبر۲ (مذکورہ بالا) کی بنیاد پر آئندہ منتخب ہونے والی مجلسِ شوریٰ کو جماعت کے دستور کی نئے سرے سے تدوین کرنی ہوگی۔

۲۔ ۱۹۵۵ء کے اجتماع ارکان میں جو مجلس ترمیم دستور منتخب کی گئی تھی، اس کے غور کے لیے جو ترامیم آئی تھیں وہ نئی مجلسِ شوریٰ کے سپرد کر دی جائیں۔

۳۔ آئندہ مجلس ِ شوریٰ کا انتخاب ۳۱ مارچ ۱۹۵۷ء سے پہلے ہو جانا چاہیے۔

۴۔ نئی مجلسِ شوریٰ کے انتخاب تک موجودہ مجلسِ شوریٰ قائم رہے گی۔

کل پاکستان اجتماع ارکان کے مذکورہ بالا فیصلوں کے مطابق مجلسِ شوریٰ کا انتخاب ۳۱ مارچ ۱۹۵۷ء سے پہلے کرا لیا گیا۔ اس مجلس کا پہلا اجلاس کوٹ شیر سنگھ، ضلع لاہور میں جناب سردار محمد خان صاحب کے مکان پر ۱۹ تا ۲۶ مئی ۱۹۵۷ء منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مجلس کے پچاس میں سے پینتالیس ارکان شریک ہوئے اور اس میں دستور کی دفعہ ۳۴ کی شق ۶ کے سوا پورا دستور بالاتفاق منظور ہوا۔ صرف مذکورہ شق پر ہی رائے شماری کی ضرورت پیش آئی۔ اس میں چار ارکان نے خلاف رائے دی، دو ارکان غیر جانب دار رہے اور انھوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ یہ دستور ۲۵ شوال ۱۳۷۶ھ مطابق ۲۶ مئی ۱۹۵۷ء کو منظور ہوا۔ اور ۲ذیقعدہ ۱۳۷۶ھ مطابق یکم جون ۱۹۵۷ء بروز ہفتہ سے نافذ العمل ہوا۔

اس دستور کے نفاذ کے ڈیڑھ سال کے اندر سات اور آٹھ اکتوبر ۱۹۵۸ء کی درمیانی شب کو صدر مملکت سکندر مرزا اور کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان نے مل کر ملک بھر میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ملکی دستور کو منسوخ کر دیا گیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو توڑ دیا گیا اور سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اس جبری پابندی کی وجہ سے جماعت کی تنظیم پونے چار سال معطل رہی۔ جون ۱۹۶۲ء میں آئینی نظام قائم ہونے کے بعد ۱۶ جولائی ۱۹۶۲ء کو پولیٹیکل پارٹینر ایکٹ کے ذریعے سیاسی جماعتیں بحال ہوئیں اور اگلے ہی روز سے جماعت نے دوبارہ کام شروع کر دیا۔

۲۵ تا ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۳ء جماعت کا کل پاکستان اجتماع عام لاہور شہر میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں بدلے ہوئے حالات کے مطابق جماعت کے دستور میں کچھ ترامیم پیش نظر تھیں۔ لیکن صوبے میں نہایت ذمہ داری کے منصب پر فائز عاقبت نا اندیش حضرات نے سات ہزار سے زائد مستقل مندوبین کے علاوہ ہزارہا عام سامعین پر مشتمل اس اجتماع کے لیے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگا کر اور شہر کے معروف غنڈوں کے مسلح غول کے ذریعے اجتماع کو درہم برہم کرنے کی نہایت شرمناک کوشش کی۔ امیر جماعت کے افتتاحی خطاب کے دوران سائلنسر لگے ہوئے پستول سے ان پر فائرنگ کی گئی اور اس ناپاک کوشش میں ناکامی پر ایک بے گناہ کارکن (اللہ بخش شہید) کو گولی کا نشانہ بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں اجتماع کے پروگرام میں بعض تبدیلیاں کرنی پڑیں۔ اس وجہ سے اس موقع پر ترمیم دستور کاکام نہ ہوسکا۔

ان ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود جب جماعت کے اثرات کم ہونے کے بجائے اس کا قدم آگے ہی بڑھتا گیا تو ۶ جنوری ۱۹۶۴ء کو جماعت اسلامی کو سراسر جھوٹے الزامات لگا کر خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ امیر جماعت اور قیّم جماعت اور پوری مرکزی مجلسِ شوریٰ سمیت جماعت کے ۵۴ رہنمائوں کو غیر معینہ مدت کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا اور ملک میں جماعت کے تمام دفاتر سربمہر کر دیے گیے۔ مگر ۲۵ ستمبر ۱۹۶۴ء کو جماعت کے خلاف اس ساری کارروائی کو سپریم کورٹ نے ناجائز قرار دے دیا اور ملک کی اعلیٰ عدالت کے اس فیصلے کے فوراً بعد جماعت اللہ کے فضل سے پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ پورے ملک میں دوبارہ سرگرم عمل ہوگئی۔

۹ اکتوبر۱۹۶۴ء کو ہائی کورٹ نے ایک رٹ منظور کرتے ہوے امیر جماعت سمیت جماعت کے ۵۴ رہنمائوں کو رہا کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں جماعت کا صوبائی سطح پر نظم مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ایک فیصلے کے ذریعے اکتوبر ۱۹۶۳ء میں قائم کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اب مغربی پاکستان میں بھی صوبائی نظم جماعت کے قیام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی کیونکہ یہاں صوبائی سطح کے کاموں کے لیے کوئی تنظیم موجود نہیں تھی، اس مقصد کے لیے دستور میں ترمیم کی ضرورت تھی، اس کے علاوہ بھی بعض دوسری ترمیمات کی تجویزیں ارکان اور ماتحت جماعتوں کی طرف سے آتی رہتی تھیں۔ ان تمام تجاویز کو ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کمیٹی نے انھیں مرتب کرکے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس منعقدہ یکم تا ۶مارچ ۱۹۶۵ء میں پیش کیا۔ لیکن اس اجلاس میں در پیش دوسرے اہم مسائل کی وجہ سے ترمیم دستور کاکام نہ ہوسکا اور مجلس نے طے کیا کہ مجلسِ شوریٰ کا ایک خاص اجلاس جون سے دسمبر تک کے عرصے میں کسی وقت اسی مقصد کے لیے بلایا جائے اور اس دوران میں ارکان جماعت سے مزید ترمیمات بھی (اگر کسی کے پیش نظر ہوں) طلب کرلی جائیں۔ اس مقصد کے لیے مقرر کمیٹی کی از سر نو تشکیل کر دی گئی اور اس نے مختلف ارکان اور جماعتوں کی طرف سے آمدہ نئی اور پہلے سے آئی ہوئی پرانی ترمیمات، سب کو یکجا مرتب کر دیا اور اس کے بعد امیر جماعت نے ان پر غور کرنے کے لیے مجلس ِ شوریٰ کا خصوصی اجلاس ۱۷ ستمبر ۱۹۶۵ء کو لاہور میں طلب فرمایا۔ لیکن ۶ستمبر ۱۹۶۵ء کو بھارت نے اچانک پاکستان پر حملہ کر دیا اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کی وجہ سے یہ اجلاس ملتوی کر دینا پڑا۔

آخر کار یہ ترمیمات شوریٰ کے سالانہ اجلاس ۸ تا ۱۴ دسمبر ۱۹۶۵ء منعقدہ لاہور میں پیش ہوئیں اور تین دن کے غور اوربحث کے بعد دستور جماعت میں تمام ضروری ترمیمات اور اضافے بالاتفاق کر دیے گئے۔ ان ترمیمات میں سب سے اہم نئے دستور کا حصہ چہارم ہے جس کے تحت صوبائی نظام کی تفصیلات باقاعدہ منضبط کرکے دستور میں درج کر دی گئیں۔ علاوہ ازیں مرکزی امیر کی طرح تمام ماتحت امراء کے عہدے کی میعاد بھی مقرر کر دی گئی۔ امیر جماعت کے لیے ترجیحی ووٹ اور اس کے استعمال کا طریقہ طے کر دیا گیا، قیّم جماعت کے مجلسِ شوریٰ کا باقاعدہ رکن ہونے کی صراحت کر دی گئی، امراء اور قیّمین صوبہ جات کو بربنائے منصب مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں شامل کر دیا گیا۔ ان ترمیمات کا نفاذ یکم شوال ۱۳۸۵ھ مطابق ۲۴ جنوری ۱۹۶۶ء سے کیا گیا اور اسی ماہ (جنوری ۱۹۶۶ء میں) نیا دستور جماعت اس وقت تک کی تمام ترمیمات اور اضافوں کے ساتھ طبع چہارم کے طور پر شائع کر دیا گیا۔۱؎

مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ۱۷ تا۲۱ مئی ۱۹۶۷ء کے موقع پر بھی دستور جماعت میں بعض ترامیم کی گئیں، یہ تقریباً تمام تر وہ ہیں جن کی صوبائی نظام پر عمل درآمد کے دوران دستور کی مختلف دفعات میں ضرورت محسوس کی گئی۔ ان ترمیمات کا نفاذ ان کی منظوری کی تاریخ یعنی ۲۱ مئی ۱۹۶۷ء سے کیا گیا۔ ان ترمیمات کے ساتھ دستور جماعت نومبر ۱۹۶۹ء میں بطور طبع پنجم شائع ہوا۔۱؎

مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے اجلاس منعقد ہ۲۶ جمادی الاخریٰ تا یکم رجب ۱۳۹۱ھ مطابق ۱۸ تا ۲۳ اگست ۱۹۷۱ء میں جماعت کے حلقائی نظم کو ختم کر دیا گیا۔ ۲؎ اس کے نتیجے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے انتخاب کے لیے حلقہ بندی کا مسئلہ پیدا ہو گیا کیونکہ تنظیمی حلقے جماعت کے دستور کی رو سے مجلسِ شوریٰ کے حلقہ ہائے انتخاب بھی ہوتے تھے۔ نیز پانچ صوبوں میں جماعت کا صوبائی نظام قائم ہو جانے کے بعد قیّمینِ صوبہ کی بربنائے عہدہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کی رکنیت بعض حضرات کے نزدیک غیر ضروری ہوگئی تھی۔ چونکہ یہ ترمیمات انتظامی نوعیت ہی کی تھیں اس لیے مرکزی مجلس ِ شوریٰ نے ایک کمیٹی قائم کرکے اس کے سپرد یہ کام کر دیا کہ وہ ان معاملات پر اچھی طرح غور کرکے دستور جماعت میں ضروری ترمیمات تجویز کرے اور ان کو امیر جماعت کے روبرو پیش کردے۔ نیز مجلسِ شوریٰ نے ترمیم دستور سے متعلق اپنے اختیارات اس حد تک امیر جماعت کو تفویض کر دیے کہ وہ مجلسِ شوریٰ کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ دفعات میں مطلوبہ ترمیمات کی منظوری دے دیں۔ چنانچہ اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں امیر جماعت نے ۱۵شعبان المعظم ۱۳۹۱ھ مطابق ۶ اکتوبر ۱۹۷۱ء کو دستور جماعت کی دفعات ۱۶، ۲۱، ۲۳(۲)‘ ۳۰(۲)،  ۴۴(۲) اور دفعہ ۶۹ میں ترمیمات کر دیں۔ ان ترمیمات کا نفاذ تاریخ منظوری یعنی ۱۵ شعبان ۱۳۹۱ھ مطابق ۶ اکتوبر۱۹۷۱ء سے کیا گیا۔

اس کے بعد جنوری ۱۹۷۸ء میں مجلس ِ شوریٰ نے دفعہ ۵۸(۴) اور ۷۳ میں ترمیم منظور کی جس کے ذریعے یہ صراحت کر دی گئی کہ قیّم حلقہ اور قیّم ضلع مجلسِ شوریٰ کا رکن اور معتمد ہوگا۔

فروری ۱۹۸۲ء میں مجلس ِ شوریٰ نے دفعہ ۳۴ میں ترمیم کرکے ارکان عاملہ کی تعداد بارہ سے بڑھا کر پندرہ کر دی۔

اپریل اور دسمبر ۱۹۸۷ء کے اجلاسوں میں مرکزی مجلسِ شوریٰ نے کئی دستوری ترمیمات پر غور کیا اور دفعات ۱۲، ۱۵، ۱۹، ۳۰، ۳۱، ۳۲، ۳۳، ۸۸ اور ۹۹ میں کچھ معمولی اور لفظی ترمیمات منظور کیں اور سب سے آخر میں ایک نئی دفعہ کا اضافہ منظور کیا جس میں دستور میں ترمیم کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ نیز ضمیمہ نمبر۶ کا اضافہ کیا گیا۔

مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ ۶ جون ۲۰۰۷ء میں ایک کمیٹی کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ بدلتے ہوئے حالات اور جماعت اسلامی کی تنظیم اور کام میں ہونے والی وسعت کے پیش نظر مختلف اوقات میں سامنے آنے والی تجاویز پر غور کرلے اور دستور میں ترامیم کے لیے ایک جامع پیکج تجویز کر دے۔ کمیٹی نے مختلف نشستوں میں اپنے کام کی تکمیل کے بعد ترامیم کا یہ پیکج دسمبر ۲۰۰۹ء اور جون ۲۰۱۱ء میں منعقد ہونے والے مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے اجلاسوں میں پیش کیا۔ ان اجلاسوں میں مرکزی مجلسِ شوریٰ نے بحیثیت مجموعی ۲۰ ترامیم منظور کیں۔ ان ترامیم میں ایک اہم ترمیم حلقہ خواتین کی تنظیم سے متعلق تھی۔ اس سے قبل حلقہ خواتین کے ضمن میں تمام تفصیلات دستور کے ضمیمہ نمبر۶ میں دی گئی تھیں تاہم اس موقع پر ان تفصیلات میں حذف و اضافہ کے بعد انھیں دستور کے حصہ ہشتم میں سمو دیا گیا ۔ اس موقع پر طباعت کی بعض غلطیوں اور الفاظ میں ضروری رد و بدل کے علاوہ دیگر ترامیم مقامی جماعت کے امیر اور مقامی و ضلعی مجلسِ شوریٰ کی مدت میں توسیع سے متعلق تھیں۔

ان ترامیم کی منظوری کے موقع پر یہ طے کیا گیا کہ ان کی تنفیذ جماعت کے آنے والے تنظیمی سال (آغاز یکم نومبر ۲۰۱۱ء) سے ہوگی چنانچہ نئے تنظیمی سال کے لیے انتخابی عمل میں (جو یکم نومبر سے قبل ہی شروع ہو جاتا ہے)، ان ترامیم کو پیشِ نظر رکھا جائے گا۔

۲۰۱۳ء کے اواخر میں جماعت اسلامی منصوبہ بندی کمیٹی کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ بدلتے ہوئے حالات میں جماعت کی دعوت اور اثر و نفوذ میں اضافے کے لیے اقدامات پر غور کرے۔ منصوبہ بندی کمیٹی نے مختلف سطح پر ذمہ داران سے رابطوں، ملاقاتوں اور متعدد نشستوں میں غور و خوض کے بعد تنظیمی اصلاحات کے عنوان سے ایک دستاویز تیار کی۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ۳۰؍ اپریل اور یکم مئی ۲۰۱۵ء میں تفصیلی غور و خوض کے بعد اس دستاویز میں دی گئی بیشتر تجاویز کی منظوری دی گئی۔ ان میں سے بعض تجاویز کا تقاضا تھا کہ دستور جماعت میں بھی ترمیم کی جائے۔ چنانچہ دستوری امور کمیٹی نے اپنے مختلف اجلاسوں میں ان ترامیم کو مرتب کیا جوتنظیمی اصلاحات کمیٹی کی منظور شدہ تجاویز کی روشنی میں ناگزیر تھیں۔

چنانچہ غور و خوض کے نتیجے میں دستوری امور کمیٹی نے ترامیم کا ایک جامع مسودہ تیارکیا جو ۳ ؍اکتوبر ۲۰۱۵ء کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں پیش ہوا اور وہاں تمام مجوزہ ترامیم کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ ان ترامیم میں انتخابی کمیشن اور انتخابی ٹریبونل کی تقرری بذریعہ انتخاب، مرکزی مجلس شوریٰ میں خواتین کی نشستوں اور مرکزی مجلس عاملہ کے نصف اراکین کا انتخاب کے ذریعے تقرر نمایاں نکات ہیں۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس (منعقدہ ۵ تا ۷ جولائی ۲۰۱۹ء )میں امرائے صوبہ/ ناظمات صوبہ، حلقہ، ضلع اور مقامات کے تقرر کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں امیر جماعت نےزیادہ سے زیادہ تین میقات کی منظوری دی۔

مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان کے اجلاس منعقدہ ۲۷ دسمبر ۲۰۱۹ء میں دستوری امور کمیٹی کی جن سفارشات کو منظور کیا گیا۔ ان کے مطابق دستور جماعت کی دفعات ۲۵(الف) ۴۸(ب)، ۶۲(ب) اور ۷۷(ب) میں ترامیم کرکے ارکان شوریٰ کے مطالبے پر شوریٰ کے اجلاس منعقد کرنے کی زیادہ سے زیادہ مدت کا تعین کیا گیا ہے۔ اسی طرح دستور جماعت کی دفعہ ۹۰ میں ترمیم کے ذریعے رکنیت سے اخراج کے ساتھ ساتھ تادیبی معطلی کو بھی بطور سزا شامل کیا گیا ہے۔ نیز دستور جماعت کے ضمیمہ ۴ کی توضیح نمبر ۴ میں ترمیم کرکے رکنیت سے اخراج کے ساتھ تادیبی معطلی کے طریقہ کار کے حوالہ سے توضیح و تعبیر بیان کی گئی ہے۔

دسمبر ۲۰۱۹ء قیّم جماعت اسلامی پاکستان

نوٹ: ضمیمہ نمبر۶ میں حلقہ خواتین کی تنظیم سے متعلق تفصیلات دی گئی تھیں جو دسمبر ۲۰۰۹ ءاور جون ۲۰۱۱ء میں ہونے والی ترمیم دستور کے نتیجے میں دستور کے حصہ ہشتم میں شامل کر دی گئیں۔