جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف مارچ کا اعلان
جماعت اسلامی نے پاکستانی عوام کو حقیقی معاشی ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے کراچی سے شروع ہونے والے ایک ملکव्यापी مارچ کا اعلان کیا ہے تاکہ موجودہ معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج کیا جائے اور پیٹرولیم لیوی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا جائے۔ پارٹی قیادت نے بتایا کہ اس تحریک کو خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں زبردست مومنٹم حاصل ہو چکا ہے۔ اس مہم کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ ایندھن کی قیمتیں کم کی جائیں اور عام شہری پر عائد غیر منصفانہ ٹیکسوں کا بوجھ ختم کیا جائے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات
پارٹی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے مارچ کا بنیادی مقصد پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے، جسے انہوں نے "بھتہ ٹیکس" قرار دیا ہے۔ مقرر کے مطابق، ان حالات میں جہاں عوام شدید مہنگائی اور غذائی قلت کا شکار ہیں، ایسی لیویز برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ حکومت اپنی نااہلی اور کرپشن کو چھپانے کے لیے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہی ہے بجائے اس کے کہ معاشی بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کیا جائے۔
سپیکر نے مزید الزام لگایا کہ حکومت اکثر آئی ایم ایف کی شرائط کا بہانہ بناتی ہے، لیکن یہ محض ایک پردہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر کا عملہ کرپشن کی وجہ سے ٹیکس کے اہداف پورا نہیں کر رہا۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے حکام کے لیے پرتعیش گاڑیوں اور جہازوں پر پیسے خرچ کر رہی ہے، جبکہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔
حکومتی اخراجات پر تنقید
قیادت نے عوامی قربانی کے مطالبات اور وفاقی حکومت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان واضح تضاد کی نشاندہی کی۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ وفاقی اخراجات 800 ارب سے بڑھ کر ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ مقرر نے سوال اٹھایا کہ جب حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں اور مفت بجلی و پیٹرول جیسی سہولیات چھوڑنے کو تیار نہیں، تو قوم سے قربانی کی توقع کیوں کی جا رہی ہے؟
معاشی بدانتظامی اور کارپوریٹ مفادات
پارٹی نے ایندھن کی قیمتوں کے پیچیدہ ڈھانچے، بشمول کسٹم ڈیوٹی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی، پر تشویش کا اظہار کیا، جس سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔ یہ الزام لگایا گیا کہ موجودہ نظام صرف چند بااثر افراد اور کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ خاص طور پر شوگر مل مالکان اور آئی پی پیز کے آپریٹرز کا ذکر کیا گیا، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حکمران خاندانوں سے وابستہ ہیں اور ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سپیکر نے نشاندہی کی کہ آئی پی پیز کے لیے 1800 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹ کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں، حالانکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ ادائیگیاں عوام کی سہولت کے بجائے چند لوگوں کو نوازنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت عوامی ضرورتوں کے بجائے "بینک مافیا" اور انرجی کارٹلز کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔
عوامی احتجاج اور مذاکرات کی حکمت عملی
جاری احتجاج کے حوالے سے پارٹی نے بتایا کہ 42 شہروں میں 35 دن سے دھرنے جاری ہیں۔ قیادت نے واضح کیا کہ اب ان دھرنوں کو ایک منظم مارچ میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو اسلام آباد کی طرف بڑھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام احتجاج پرامن رہے ہیں اور یہ کسی ذاتی یا پارٹی ایجنڈے کے بجائے ایک حقیقی عوامی مسئلہ ہے۔
حکومتی مذاکرات کی کوششوں پر ردعمل دیتے ہوئے قیادت نے کہا کہ پہلے بھی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ حکومت سے صرف اس صورت میں بات کریں گے اگر پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی کوئی ٹھوس تجویز پیش کی جائے۔ مقرر نے حکومت کو خبردار کیا کہ راستے روکنے یا کسی بھی قسم کے ایڈونچر سے گریز کرے کیونکہ مارچ عوامی حمایت کے ساتھ جاری رہے گا۔
آخر میں، اسپیکر نے حالیہ حکومتی ریلیف پیکیجز کو ناکافی اور محض دکھاوے کے لیے قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ پیکیجز آبادی کے بہت چھوٹے حصے کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور مہنگائی کے اصل مسئلے کو حل نہیں کرتے۔ پارٹی نے دہرایا کہ عوام کو حقیقی ریلیف صرف لیوی کے خاتمے اور پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے ہی مل سکتا ہے۔
مکمل تقریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں