پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور لیوی کے خاتمے کا مطالبہ

مقرر نے حکومت کی کرپشن اور عیاشیوں پر تنقید کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم، میڈیا کے تمام دوستوں کی تشریف آوری کا شکریہ۔ آپ کو بہت ہنگامی طور پر بلایا گیا۔ اصل میں مسلسل پروگرام بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے دیکھا، میں کل یہاں لاہور میں تھا لیکن رات دو جلسے تھے، ایک مردان میں اور ایک پشاور میں، اور وہ دونوں جلسے بہت زبردست قسم کے تھے۔ بنیادی طور پر انہوں نے دھرنا دیا، وہی اور اسی میں وہ جلسہ بن گیا۔ یہ بہت پاورفل شو تھے، اور اس سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ کے پی ہو یا پورا پنجاب، ہو سندھ ہو یا بلوچستان، پورا پاکستان الحمدللہ زبردست مومنٹم بن گیا ہے۔ جو مارچ ہے، جو ہم کل سے شروع کر رہے ہیں، جس کا آغاز کراچی سے کر رہے ہیں، تو اس میں ان شاء اللہ تعالیٰ بہت بڑے پیمانے پر لوگ شرکت کریں گے۔

ہمارا بالکل واضح ایجنڈا ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ پیٹرولیم کی قیمت کم ہو اور اس میں جو لیوی ہے، اس لیوی کو ختم کیا جائے۔ یہ ہم اس کو بھتا ٹیکس، گنڈا ٹیکس کہتے ہیں، اور بالکل صحیح کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے کہ ان حالات میں، جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں چڑھی ہوئی ہوں، پاکستان میں مہنگائی کا عذاب مسلط ہو، لوگوں کی زندگی دوبھر ہو گئی ہو، دو وقت کی روٹی مشکل ہو گئی ہو، تو اس طرح کا بھتا ٹیکس حکومت وصول کرتی ہے اپنی ناہلی چھپانے کے لیے۔ یہ جو لیوی کا ٹیکس ہے، یہ وصولی اس لیے کی جا رہی ہے کہ حکومت کی کرپشن اور ناہلی پر پردہ ڈالا جائے۔ نام یہ آئی ایم ایف کا لیتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی وجہ سے مجبوری ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ یہ جو ٹیکس کے اہداف ہیں، ان کا ایف بی آر کا عملہ پورا نہیں کر رہا، وہ کرپشن کر رہا ہے۔ حکومت اپنے خرچے کم نہیں کر رہی اور اپنی عیاشیاں ختم نہیں کر رہی، اپنے جہاز لینے سے باز نہیں آ رہی اور اپنی گاڑیاں لینے سے باز نہیں آ رہی۔ بڑی بڑی گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں۔ علامتی طور پر آپ کچھ چیزوں کا تذکرہ کر دیتے ہیں، لیکن عملاً کوئی چیز لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور اپنی عیاشی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

تو جب یہ حکومتی مشینری پوری کی پوری چھوٹی گاڑی میں نہیں بیٹھ سکتی، سرکار کی گاڑیاں پرائیویٹ گاڑیوں کی طرح ہیں، فری پیٹرول اور فری بجلی یہ اپنے نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ اپنے جو اخراجات ہیں، اب آپ دیکھیں کہ جو وفاقی حکومت کے اخراجات ہیں، وہ ایک ٹریلین سے بڑھ گئے ہیں۔ جو آٹھ سو ارب تھے، وہ ایک ٹریلین سے بڑھ گئے ہیں۔ تو اب آپ بتائیے کہ اپنے خرچے میں پچیس، تیس فیصد اضافہ کر رہے ہیں اور قوم سے یہ کہہ رہے ہیں کہ قوم قربانی دے۔ ان حالات میں قربانی دے، جب قیمتیں اتنی چڑھی ہوئی ہیں۔

دوسری بات یہ کہ جو پیٹرول کی قیمت یہ سیٹ کرتے ہیں، اس میں بھی ایک اور ڈیوٹی بھی لیتے ہیں جو حکومت کے پاس جاتی ہے، اسے کسٹم ڈیوٹی کہتے ہیں۔ تو کسٹم ڈیوٹی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، پیٹرولیم لیوی یہ سب ملا کر ایک سو چھ، ایک سو سات روپے بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مزید وہ ڈیلر کے چارجز اور پھر ٹرانسپورٹیشن وغیرہ، اور پھر ریفائنریز، پھر آئل مارکیٹنگ کمپنی، اور اس میں سے صرف ایک چیز ایسی تھی جو قوم کے سامنے آئی اور وہ یہ تھی کہ یہ امپورٹڈ آئل اور جو لوکل آئل ہے، وہ ایک ہی پرائس چارج کر رہے تھے۔ تو آپ اندازہ لگائیں کہ کس کس طریقے سے لوگوں کو لوٹنے کا عمل جاری ہے۔ اپنی کرپشن اور اپنے لوٹ مار یہ ختم نہیں کر سکتے۔

جب ان سے مذاکرات ہوتے ہیں، تو یہ بالکل کہتے ہیں کہ آپ ہمیں تجویز دیں، حالانکہ تجویز دینا ہمارا کام نہیں ہے۔ ان کا کام ہے کہ لوگوں کو ریلیف دیں اور لوگوں کے اوپر سے یہ بھتا ٹیکس ختم کریں۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے ان کو تجویز بھی دیں، اور کسی بھی چیز کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اس کو رد کرنے کی۔ یہ پالیسی ریٹ جسے آپ سود کا ریٹ کہتے ہیں، یہ تین فیصد بھی کم کریں تو لیوی جتنی جمع کر رہے ہیں، اس کے برابر پیسے ہو جائیں گے۔ تو تین فیصد یہ سود کم کر دیں گے تو نہیں، یہ نہیں کر رہا ہے کیوں کہ ہم نہیں کر سکتے۔ آئی ایم ایف یہ کہتا ہے کہ بینک ہمارا انڈیپنڈنٹ ہے، فلان ہیں اور فلان، یہ سب لیم ایکس کیوزز ہیں، کچھ بھی نہیں ہیں۔ اس لیے کہ اسٹیٹ بینک آپ کا کیسے خود مختار ہو سکتا ہے؟ اس کی ہائرنگ فائرنگ گورنر کی کون کرتا ہے؟ اس کا بورڈ کون تشکیل دیتا ہے؟ حکومت دیتی ہے، حکومت ہائر کرتی ہے۔ اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے قانون کے تحت اس کو خود مختار بنایا تو وہ قانون آپ نے بنایا تھا نا؟

پارل، تو یہ باتیں کہہ کر آپ لوگوں کو لوٹیں، لوگوں کی زندگی اجیرن کردیں۔ مہنگائی بڑھتی چلی جائے، ہر آدمی کے لیے جینا مشکل ہو جائے۔ اور پھر جب زیادہ شور ہو تو آپ ایک ایسا ریلیف پیکیج دے دیں جو خود آپ کی بھی سمجھ میں نہ رہا ہو، نہ وہ ڈیلرز کی سمجھ میں رہا ہو، نہ وہ لوگوں کی سمجھ میں رہا ہو۔ یہ پاکستان ہے۔ ڈھائی کروڑ اگر موٹر سائیکلیں ہیں تو کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جن کی رجسٹریشن دو ہزار گیارہ سے پہلے ہوئی؟ ان کو نہیں ملے گا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جو کسی اپنے بھائی کی، اپنے دوست کی بائیک چلا رہے ہوتے ہیں اس لیے کہ وہ ٹرانسفر نہیں کرواتے، ایسا نظام بنا ہوا ہے یہاں کا۔ تو کتنے لوگوں کو ریلیف مل جائے گا؟ وہ بھی کتنا؟ ہفتے میں پانچ سو روپے اور یہ دے کر، خیرات دے کر آپ سمجھتے ہیں؟ تو یہ تو نہیں ہو سکتا۔

اس لیے جماعت اسلامی نے جو کیمپین شروع کی، وہ اللہ کا شکر ہے، وہ ہر دل کی آواز ہے۔ ہر شخص اس کے پیچھے کھڑا ہوا ہے، پورا پاکستان ہمارے ساتھ ہے۔ لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کی لیکن اب سب کو پتا چل گیا کہ یہ کتنا ضروری ہے کہ یہ لیوی کا بھتا ختم ہو جائے۔ اور یہ اب ہم چاہتے ہیں کہ سارے لوگ مل کر یہ دباؤ قائم رکھیں اور بڑھائیں، تاکہ اس کے نتیجے میں پاکستان کے لوگوں کو ریلیف ملے۔ ہم نے کل سے ان شاء اللہ اپنا مارچ شروع کرنا ہے۔ اس دوران ہمیں پتا چلا کہ حکومت نے پھر رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ تو باتیں تو ہم ان سے بہت کر چکے ہیں، ایک میٹنگ، دو میٹنگ، تین میٹنگ، چار میٹنگ، اور ہر طرح کی گفتگو ہو گئی ہے۔ اور ہر میٹنگ وہ یہی کہہ کر کہتے ہیں کہ ہمیں دو دن کا ٹائم دے دیں، ہم کچھ ورکنگ کر کے لاتے ہیں۔

اس سب کے باوجود ہم نے آپس میں مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ اگر حکومت کے پاس لیوی ختم کرنے کا اعلان موجود ہے اور ٹھوس طریقے سے وہ کوئی چیز ہمیں بتا سکتے ہیں تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے یہ سارے کام کرنے۔ ہم جس لیے رہے ہیں، وہ پورا کر دیجئے آپ۔ لیکن یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ لیوی کا بھتا ختم نہ کریں اور زبانی جمع خرچ کریں کہ ہم کل بتائیں گے، پرسوں بتائیں گے، دس دن بعد بتائیں گے اور ہم سے ریکویسٹ کرتے ہیں کہ آپ اپنا مارچ ختم کردیں۔ یہ نہیں ہوگا تو حکومت کی جو ٹیم اگر آتی ہے تو کسی پروپوزل کے ساتھ آئے تو بات ہوگی، اور اگر پروپوزل نہیں ہوگا تو پھر بات بھی نہیں ہوگی۔

تو لیاقت بلوچ صاحب انشاءاللہ اس کو ہینڈل کریں گے۔ اگر حکومت کی ٹیم آتی ہے اور ہماری بات بہت سیدھی سیدھی ہے کہ آپ لوگوں کے لیے یہ خیراتی ریلیف نہیں، جو آپ کو عادت پڑی ہوئی ہے۔

اصل میں اس پوری فیملی کو یا ان حکمرانوں کو عادت پڑی ہوئی ہے کہ خیراتی قسم کے چند پیکیجز کا اعلان کر دو، لوگوں کو بے وقوف بناؤ۔ پلی ٹیکسی اسکیم سے لے کر آج تک یہی سلسلہ چل رہا ہے۔ ظاہر ہے ہر چیز سے دو چار لوگ فائدہ اٹھا لیتے ہیں، دو چار پرسنٹ کو کوئی نہ کوئی ریلیف مل جاتا ہے، لیکن جو پاکستان کے کروڑوں لوگوں کا ریلیف ہے، اس پہ تو ڈاکا مار دیتے ہیں آپ۔ وہ ریلیف بھی نہیں ہے، وہ حق ہے۔

بہت شدید چینی کا کرائسز ہے اور شگر مل مالکان جو درحقیقت حکمرانوں پر مشتمل لوگ ہوتے ہیں، ان کی بھی ظاہر ہے زرداری صاحب، شریف خاندان، ترین خاندان اور بھی جتنے ان کے حکومت سے متعلق لوگ ہیں، ان کی شگر ملز ہیں۔ وہی مالکان بن کر کچھ لوگوں کو بٹھا دیتے ہیں اور وہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اب ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دیں۔ وہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ایمپورٹ کرنے کی اجازت دیں، اس میں ان کے ٹیکس فری ہو جاتے ہیں، لیوی کا بھتا ختم نہیں کریں گے۔

آئی پی پیز کا مارجن کیپیسٹی پیمنٹ جتنی بات ہو گئی، ہو گئی، اب اس سے آگے بات نہیں بڑھ رہی ہے۔ حالانکہ ہم نے مسلسل یہ مطالبہ کیا ہے، دھرنے دیے، احتجاج کیا، کچھ حکومت نے کیا بھی، اس سے فائدہ بھی ہوا لیکن اب سلسلہ رکا ہوا ہے۔ تو یہ جو کیپیسٹی پیمنٹ کے اٹھارہ سو ارب روپے ہیں، ابھی بھی قوم دے رہی ہے۔ اب یہ کیوں دیے جائیں؟ ان حالات میں یہ ریگیسیف اتنے بڑے پیمانے پر جو پیسے حصول کیے جاتے ہیں، جب گیس نہیں ہوتی تب بھی، بجلی نہیں آتی تب بھی ان کو پیسے مل رہے ہوتے ہیں۔ یہ کیوں دیے جائیں؟ یہ ٹرانسمیشن لائنوں کی کیپیسٹی پیمنٹ کیوں دی جائے؟ یہ چند لوگوں کو کیوں نوازا جائے؟ عوام کو کیوں نہیں سہولت پہنچائی جائے؟ یہ لیوی کا بھتا ختم کیا جائے اور پیٹرول کی قیمت کم کی جائے۔

پیٹرول کی قیمت کا اضافہ بھی خطے میں تین، چار، پانچ گنا ہے۔ تو بھئی، یہ سب کیا تماشا ہے؟ تو یہ تماشا اگر اسی طرح چلنا ہے اور لوگوں کو بالکل ہی مار دینا ہے تو پھر اس کے بعد حالات کہاں جائیں گے؟ اس لیے ہمارا یہ ایک بہت سنجیدہ اور عوامی مسئلہ ہے۔ ہم اس پر احتجاج کر رہے ہیں، آج دھرنوں کا پینتیسواں دن ہے، ابھی بھی اس وقت بھی پاکستان بھر میں کم از کم بیس پچیس دھرنے جاری ہیں۔

اور ہم نے جب یہ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تو ظاہر ہے کہ ایک اسٹریٹیجی بنائی ہے۔ ہم نے ابھی پلان اے کا اعلان کیا ہوا ہے، میں کراچی جا رہا ہوں، آج بڑا جلسہ بھی ہوگا۔ وہاں اور پھر اس کے بعد کل سے مارچ شروع ہوگا، اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس سارے پلانز موجود ہیں۔ حکومت سے میں یہ چاہوں گا کہ جماعت اسلامی نے یہ پینتیس دن آج ہیں دھرنوں کے، پرامن رہے ہیں۔ ہم اور تاریخ رقم کی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اس طرح نہیں ہوا کہ بیالیس شہروں میں دھرنے چل رہے ہوں اور مسلسل جلسے ہو رہے ہوں، بڑے بڑے احتجاج ہو رہے ہیں اور کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہے، بلکہ لوگ ایک راحت محسوس کرتے ہیں کہ کوئی ہماری آواز بنا ہوا ہے۔

تو جب ہم پرامن ہیں تو کوئی بھی ایڈونچر حکومت نہ کرے۔ کوئی بھی ایڈونچر خود حکومت کو بھاری پڑے گا، وہ افورڈ نہیں کر سکیں گے۔ دھمکاؤ، راستے روکے جا سکتے ہیں، تو یہ شوق بھی پورا کر کے دیکھ لیں۔ تو مارچ کریں گے اور پوری قوت سے کریں گے، انشاءاللہ، اور عوام کی حمایت سے کر رہے ہیں۔ عوام کے لیے کر رہے ہیں، ذاتی ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، پارٹی کا نہیں ہے، لیڈر کا ایجنڈا نہیں ہے۔ ہمارا ایجنڈا عوام کا یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے، اس کو ہم نے اٹھایا ہے، اس پر ہم نے سنجیدہ ورکنگ کی ہے اور آپ پیچھے نہیں ہٹ سکتے، اس لیے ہم یہ احتجاج کریں گے۔

آپ کے پاس پروپوزل ہے حکومت کے پاس، تو لے آئیے پروپوزل۔ اگر ایسا ہوگا جس سے عوام کے لیے فائدہ ہے اور یہ بھتا ختم ہوتا ہے تو ٹھیک ہے۔ اگر یہ پروپوزل اس طرح کا نہیں ہوگا تو بس ٹھیک ہے، ہم اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھیں گے۔ انشاءاللہ، اور اللہ نے چاہا تو حکومت اگر طریقے سے نہیں مان رہی ہے تو پھر عوامی دباؤ کے نتیجے میں مانے گی۔ ماننا تو اس کو پڑے گا، انشاءاللہ۔ یہ تو آپ جس کے پاس یہ تضاد ہے اس سے پوچھیں۔

تو خود جمہوریات کی اور آئین میں جو آزادیاں حاصل ہیں اس کی نفی ہے۔ تو ہم تو بالکل اسٹریٹ ہیں اور ہم خود پرامن رہنے کی ضمانت دے سکتے ہیں، وہ ہم دیتے ہیں، وہ ہم موجود ہیں۔ باقی ہے کہ ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا بھی نہیں ہے، ہم تو پبلک کے ایک جینون ایشو پر بات کر رہے ہیں۔ تو یہ سوال تو جس سے پوچھنے کا، اس سے پوچھیں۔ اب ان کا کیا پلان ہے، مجھے نہیں معلوم۔ ہمارا پلان تو بہت واضح ہے کہ ہم مارچ شروع کریں گے اور اس مارچ کو شروع کر کے آگے بڑھائیں گے۔

میں جو وقت لگتا ہے، وہ لگے گا اور اس کے ساتھ عوام ساتھ ملتے جائیں گے۔ چاروں صوبوں کے عوام ساتھ ملتے جائیں گے اور ہم اسلام آباد میں پہنچیں گے، انشاءاللہ۔ ہمارا پلان ہمارے پاس ہے، جو پلان ہے وہ بتائیں گے اور ظاہر ہے یہ حکومت کا کام ہے کہ کیوں لوگ احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں؟ جب آپ ان کو آزادیاں نہیں دیتے، جب آپ آئینی طور پر حق نہیں دیتے تو پارٹیاں احتجاج کرتی ہیں۔ کم از کم جماعت اسلامی کے کیس میں تو آپ کو پتا ہے نا کہ ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، ہم تو ایک جینون عوامی ایشو پر ہیں۔

آپ نے کہا کہ حکومت سے، تو میں نے آپ سے واضح کہا کہ بھئی، کوئی پروپوزل ہوگا تو بات ہوگی۔ انہوں نے بہت ساری نصیحتیں کر لی ہیں، اپنی مجبوری بتائی کہ ہم یہ نہیں کر سکتے، یہ نہیں کر سکتے۔ دلیل کوئی نہیں ہے، یہ کہہ دینے سے تو کچھ نہیں ہوتا کہ نہیں کر سکتے۔

اب آپ دیکھیں نا کہ یہ پیٹرولیم مصنوعات کا کیا ہوتا ہے۔ آج ٹرانسپورٹر نے سات فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ صرف پیٹرول جو ہم بائیک میں ڈلواتے ہوتے ہیں، بس اس کا مسئلہ ہے؟ ٹرانسپورٹرز اگر سات فیصد اضافہ کرتے ہیں تو آٹا مہنگا ہوتا ہے، چینی مہنگی ہوتی ہے، دالیں مہنگی ہوتی ہیں۔ اوپر سے آپ اس طرح کا بوجھ مسلط کر کے رکھیں۔ اور حد درجہ یہ ہے کہ آپ لیوی کو نہیں چھوڑیں گے، کیوں نہیں چھوڑیں گے؟ بھائی، آپ سود کا ریٹ کم کیوں نہیں کرتے؟ آپ کیش ریزرو ریشو کیوں نہیں بڑھاتے؟ آپ اپنی عیاشیاں ختم کیوں نہیں کرتے؟ کچھ نہیں، کچھ نہیں۔ اب تو مریم نواز جہاز بھیج دیں گی گیارہ ارب کا۔

اس کی کر دیں جو کچھ ہو چکا ہے۔ اس کے بعد تو انہیں کم از کم یہی کرنا چاہیے۔ دیکھیں سیدھی بات ہے نا، یہ منٹ سیٹ کا اظہار کرتا ہے۔ ایک جہاز تو ایک علامت بن گیا نا، اب سب کو پتہ چل گیا۔ ورنہ یہ جہاز تو پہلے بھی چل رہے تھے۔ اچھا جہاز چاہیے تھا، اس لیے لے لیا انہوں نے۔ تو یہ تو سب سلسلہ چل رہا ہے، لیکن یہ تو ذرا ایکسپوز ہوا تو پتہ چلا کہ ایک وزیر اعلیٰ کا ایک دورہ قوم کو کتنے کا پڑتا ہے، تو وزیراعظم کا کتنے کا پڑتا ہوگا۔ اور پھر میں نے تو آپ کو بتایا تھا۔

کہ ایک پی ٹی سی اے نامی ادارہ ہے جس کے چھبیس فیصد شیئرز خریدے گئے تھے اتنے سالات میں، لیکن ابھی بھی حکومت کے میجر شیئرز ہیں۔ بارہ فیصد اس میں غالباً پبلک شیئرز ہیں اور باقی حکومت کے۔ اس کی ایک میٹنگ کی وضاحت جب انہوں نے کی تو یہ غالباً ٹریبیون میں چھپا تھا اور اس کی ابھی تک کوئی تردید نہیں ہوئی ہے۔ اس نے رپورٹ کیا تھا کہ سوال ان سے کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جو چیئرمن ہیں، ان کے بورڈ کے جو آئی ٹی کے سیکرٹری بھی ہوتے ہیں، ایک میٹنگ کے اور جو کمپنی سیکرٹری ہے، اس نے پانچ ہزار ڈالر لیے۔ جو ممبرز ہیں، ان کو ایک میٹنگ کے ایک ہزار ڈالر ملے۔ تو آپ اندازہ لگائیں، آٹھ ہزار ڈالر کتنے ہوتے ہیں؟ تو ایک میٹنگ پہ یہ کروڑ روپے، دو دو کروڑ روپے لگاتے ہیں۔ پھر اگر ان کو باہر جانا ہو تو ان کو بزنس کلاس دی جاتی ہے، وہاں پر گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ یعنی یہ تو سیکرٹریز کا عالم ہے۔ تو یہ شہوت کا ایک نظام چل رہا ہے، ایک طبقہ ہے کہ یہ تو نہیں ہونا چاہیے نا۔

جہاں تک میں نے تو آپ کو بتایا ہے کہ پیٹرول اور بجلی اور یہ جو انرجی ہوتی ہے، اس کی کوسٹ اگر بڑھ جائے تو زندگی کی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ اور پھر جبکہ مافیاز پہلے سے موجود ہوں، اب آپ دیکھیں کہ کسان کو پیسے پورے نہیں دیتے گندم کے، اور عوام کو روٹی سستی نہیں دیتے اور آٹا سستا نہیں دیتے۔ درمیان میں ہزاروں روپے پر من کا جو مارجن ہے، وہ کس کے پاس جاتا ہے؟ کسان محنت کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے، اس کے لیے دوائیں مہنگی، ڈی اے پی مہنگی، یوریا مہنگا۔ وہ محنت کر کے فصل لگا دے اور اس کو ریٹ پورا نہ ملے، اور پاکستان کے عوام کو روٹی سستی نہ ملے، آٹا مہنگا ترین ہو، درمیان میں دو تین ہزار، چار ہزار کا جو بیچ کا مارجن ہے، وہ گیارہ کمپنیاں بنا کر آپ ان کو گندم بکوا دیں اور پھر وہ اپنی مرضی سے مارکیٹ میں لے کر آئیں۔ تو اس کا مطلب کیا ہوا کہ چند سو یا بارہ سو لوگ ہوں گے کل ملا کے، جن کی وجہ سے آپ پچیس کروڑ لوگوں کو عذاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا آدھا تو تقریباً زراعت سے متعلق ہے۔ گندم بہت بڑے پیمانے پر لگتی ہے، تو آپ سوچیں نا کہ یہ حکومت چند لوگوں کو نواز رہی ہے، اور وہ چند لوگ کیا ہوتے ہیں؟ ان کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں۔

شگر، چینی مہنگی ہوتی رہتی ہے۔ پہلے وہ امپورٹ کی اجازت مانگتے ہیں، پھر ایکسپورٹ کی اجازت مانگتے ہیں، ٹیکس ان کو فری کر دیے جاتے ہیں۔ یہ بھی چند سو لوگ ہوں گے، آپ ہزار لوگ ہوں گے سب ملا کے، تو یہ چند ہزار اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو آٹے سے بھی منسلک ہوتے ہیں، یہی چینی سے بھی منسلک ہوتے ہیں۔ یہی آئی پی پیز والے بھی ہوتے ہیں، یہی بینک مافیا ہوتا ہے، اسی طرح کے لوگ ریفائنریز میں ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے لوگ، ہم تو احتجاج کریں گے، واقعی حکومت کے اوپر ہے، وہ جو چاہے کرے۔ ہم تو عوام کے لیے ترجمانی کریں گے، انشاءاللہ۔

دیکھیں، میں نے یہ عرض کیا تھا کہ پی ٹی آئی جو احتجاج کر رہی ہے، اس کی ہم نے حمایت کی ہے کہ ان کا یہ آئینی جمہوری حق ہے کہ وہ پرامن احتجاج کریں۔ انہوں نے بھی ہمارے احتجاج کی حمایت کی کہ یہ عوامی مسئلہ ہے، اور جماعت اسلامی جو احتجاج کر رہی ہے، وہ ہماری حمایت کر رہے ہیں۔ ابھی تک بات اتنی ہی ہے۔ انہوں نے ریلیف اپنے طور پر اننونس کیا، یہ 26-27 ارب روپے کا ماہانہ ریلیف ہے، جبکہ یہ لیوی قیمت میں 150 ارب روپے جمع کر رہے ہیں۔ تو یہ ریلیف تو ہے ہی نہیں، یہ تو بہت چھوٹا ریلیف ہے، اور اس سے چند لوگوں کو تو یقیناً تھوڑا بہت فائدہ ہو رہا ہے، ہم نہیں کہتے کہ زیرو ہے، لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہونا، بلکہ دیکھیں، ڈیلرز کہہ رہے ہیں کہ ہم مینج نہیں کر پا رہے۔ سوائے بڑی کمپنیوں کے، جو باقی ڈیلرز ہیں، جو پیٹرول پمپس ہیں، ان میں مشکلات ہو رہی ہیں۔ پھر 2011 سے پہلے کی رجسٹریشن والے کو نہیں لے رہے، 800 سی سی سے اوپر کون لوگ ہیں؟ مڈل کلاس کے لوگ ہوتے ہیں نا، تو اب کتنی بڑی تعداد کو اس وقت بھی ایڈریس نہیں کر رہے۔ پھر جو لوگ اب ڈیزل پہ تو کوئی ریلیف نہیں ہے، نہ پیٹرول پہ، اور ٹرانسپورٹ کے کرائے مہنگے ہو رہے ہیں، تو ان میں کون ریلیف دے گا؟ تو یہاں تو کوئی بھی ریلیف نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چند فیصد لوگوں کا بھی اتنا سا چھوٹا سا ریلیف آپ نے دیا ہے، تو آپ آگاہی مہم اتنی بڑی چلا رہے ہیں، وہ کروڑوں اربوں روپے کی ہو گئی ہے، اتنا ریلیف نہیں ہوتا جتنی مہمات چل جاتی ہیں۔

یہی ہمارا مطالبہ ہے کہ آپ لیوی کو ختم کریں گے، یہ مسئلہ ایڈریس ہو جائے گا۔ پھر عالمی مارکیٹ دیکھیں، دھرنا ہے، بہت سارے دھرنے اب ہم ایک ایک کر کے کال آف بھی کر رہے ہیں اور مارچ میں کنورٹ بھی کر رہے ہیں اس کو، تو یہ تو ہماری اسٹریٹیجی کا حصہ ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا نا کہ آپ ایک ہی چیز پر چلتے رہیں۔ تو دھرنے ہم نے پہلے بڑھائے، اس وقت بھی جاری ہیں، کچھ کو ظاہر ہے کہ اب ہمیں مومنٹم کرنا ہے، شہروں کے اندر بھی ظاہر ہے پورا ایک مومنٹم بنانا ہے، تو ہم کال آف بھی کرتے جا رہے ہیں، لیکن وہ ایک ڈسپلین کے تحت ہو رہا ہے۔ تو یہ سب ہم نے اسٹریٹیجی کے تحت کیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ حکومت کا فیس سیونگ کا مسئلہ نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ ان کو ریلیف دینا چاہیے، عوامی ریلیف بس یہ والی بات ہے۔ ان کو اور کیا کہنا چاہئے، جب بہت چھوٹے سے تھے نا تو خبرنامے آیا کرتے تھے پی ٹی وی پر تو یہی ہوتا تھا کہ ہم جو ہیں وہ بدعنوانی کرنے والوں کو حکومت آہنی ہاتھوں سے روکے گی اور ہم کسی کو میلی آنکھ سے یہاں نہیں دیکھنے دیں گے، وہاں نہیں دیکھنے دیں گے، تو یہ باتیں تو ظاہر ہے اسی طرح ہوتی ہیں، وزراء کو ایسی کہنا چاہئے۔