مہنگائی کے خاتمے کے لیے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ
جماعت اسلامی نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے اپنی ملک گیر تحریک کو تیز کر دیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
جماعت اسلامی نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف اپنی ملک گیر مہم تیز کر دی ہے، جس میں خاص طور پر پیٹرولیم لیوی اور دیگر غیر ضروری ٹیکسوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ پیٹرول، بجلی اور گیس کی آسمان چھوتی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، جس کے لیے ریاست کی جانب سے ٹھوس اقدامات اور عوام کو حقیقی معاشی ریلیف کی ضرورت ہے۔
ناجائز پیٹرولیم لیوی کے خلاف مہم
جماعت اسلامی ملک بھر میں ایک بھرپور تحریک چلا رہی ہے جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ حیدرآباد میں دھرنے کا انتالیسواں دن مکمل ہو چکا ہے، جو پارٹی اور عوام کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس مقصد کو مزید تقویت دینے کے لیے ایک دستخطی مہم شروع کی گئی ہے جس کا ہدف دو کروڑ شہریوں تک پہنچنا ہے، جس کے بعد پوری طاقت کے ساتھ اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔
پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور کسٹم ڈیوٹی عوام پر ایک غیر منصفانہ بوجھ ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ ان ٹیکسوں کا عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ حکومت کی نااہلیوں اور شاہ خرچیوں کو چھپانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ حکومت عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر عام شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا بند کرے۔
معاشی بدانتظامی اور بینکنگ مفادات کا خاتمہ
جماعت اسلامی نے آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کے تعلقات اور بینکنگ سیکٹر کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت عوامی بہبود کے بجائے بینکنگ مافیا اور آئی پی پیز (IPPs) کے منافع کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جہاں ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، وہیں بینکنگ سیکٹر میں ناجائز طریقوں سے آمدنی کا سلسلہ جاری ہے۔
پارٹی نے بجلی کے شعبے میں موجود نقصانات کی بھی نشاندہی کی، جہاں پاکستان کی بجلی کی ڈیزائن کیپیسٹی 40 ہزار میگا واٹ ہے جبکہ اصل کھپت اس سے بہت کم ہے۔ اس کے باوجود حکومت مہنگا ایندھن امپورٹ کر رہی ہے اور آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹس ادا کر رہی ہے، جس کا بوجھ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی صورت میں صارفین کے بلوں پر پڑتا ہے۔ جماعت اسلامی نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایندھن کی درآمدات میں کمی اور پائیدار توانائی کی طرف منتقلی کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی استحکام اور مذاکرات کی اپیل
معاشی مسائل کے علاوہ، جماعت اسلامی نے صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی بازیابی میں حکومت کی سستی اور غیر ذمہ داری پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور جانی نقصان پر حکومت کی مذمت کی۔ پارٹی نے گورنر رول یا قومی ایمرجنسی کے کسی بھی تصور کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عوام کو ریاست سے مزید دور کریں گے اور ملک کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔
قومی خیر سگالی کے طور پر، جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ بامعنی اور مقصد پرست مذاکرات کرے تاکہ سیاسی تناؤ کو ختم کیا جا سکے۔ جماعت اسلامی نے اس سلسلے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو پرامن، جمہوری اور آئینی احتجاج کا حق حاصل ہے اور اسے قانون کے دائرے میں رہ کر یقینی بنایا جانا چاہیے۔