پاکستان میں غربت اور تعلیم کی تنزلی کا جائزہ
بڑھتی ہوئی غربت اور تعلیم کی بگڑتی صورتحال، بالخصوص پنجاب میں حکومتی ناکامیوں پر ایک تنقیدی گفتگو۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میڈیا کے تمام دوستوں کی تشریف آوری کا بہت شکریہ۔ دو تین اہم معاملات پر بات کرنی ہیں اور آغاز ہم اس سے کرتے ہیں کہ جو میڈیا میں رپورٹ شائع ہو رہی ہیں ورلڈ بینک کے حوالے سے بھی اور دیگر مالیاتی اداروں کے حوالے سے کہ پاکستان میں جو غربت کی سطح ہے وہ بہت تیزی سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی جو دو شرائط بتائی جاتی ہیں، ایک ہے جو پاکستان میں خود قومی بیرومیٹر اور اسٹینڈرڈز بنایا ہوا ہے اس کے مطابق اور ایک اقوام متحدہ کے دیے ہوئے رول کی مطابقت۔
آپ خطے میں دیکھیں کہ اگر ہم چار ممالک کو لیں، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا، تو پاکستان میں حال یہ ہے کہ 23 فیصد غربت کی شرح ہے، بین الاقوامی جو اقوام متحدہ کی بتائی ہوئی لائن ہے جو اس نے ڈرا کی ہوئی ہے اس سے نیچے لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارت میں 5.3، بنگلہ دیش میں 6 اور سری لنکا میں 2.7 فیصد ہے۔ آپ اس سے اندازہ لگائیے، اسی طرح جو پاکستان کا اپنا ایک اسٹینڈرڈ ہے اگر اس پر ہم ناپیں تو وہ بھی پاکستان میں 49 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، بھارت میں 10، بنگلہ دیش میں 19 اور سری لنکا میں 4 فیصد۔ اس سے ہی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں غربت کو ختم کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ کوئی پالیسی نہیں ہے بلکہ جو اقدامات حکومتیں کر رہی ہیں وہ غربت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ بلکہ اس سے یہ بات بہت واضح طور پر پتہ چل رہی ہے کہ میڈل کلاس، متوسط طبقہ جو کسی بھی معاشرے کی سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، وہ تیزی سے پاکستان میں سکڑ رہا ہے اور وہ غربت کی طرف جاتا چلا جا رہا ہے۔
باتیں آپ اگر حکمران طبقے کی سنیں گے تو لگے گا کہ سارے حالات بہتر بنا دیے ہیں، معیشت کو بہت اڑان مل گئی ہے، یہ ہو گیا ہے اور وہ ہو گیا ہے۔ پریکٹیکل بات یہ ہے کہ گزشتہ چار سے چھ سال میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں جب ہم غربت کی شرح کا جائزہ لیتے ہیں تو سب سے زیادہ غربت میں اضافہ پنجاب میں ہوا ہے، جس کے لیے سب سے زیادہ میڈیا پہ پیسے خرچ کیے جاتے ہیں، جس کے لیے سب سے زیادہ اشتہار دیے جاتے ہیں اور ایونٹ بازی کی جاتی ہے۔ پتہ چلا کہ پنجاب میں ہی جو غربت کی شرح ہے وہ بہت تیزی سے بڑھی ہے، 41 فیصد اس میں اضافہ ہوا ہے جو پانچ سال پہلے تھی اور اب ہے۔ باقی صوبوں میں جو حال ہے وہ اپنی جگہ موجود ہے۔
اسی طرح آپ ہر شعبے میں جائزہ لے لیں، تعلیم نہ ہو تو پھر ملک کیسے آگے بڑھ سکتا ہے، کیسے ترقی کر سکتا ہے؟ پچیس کروڑ کی آبادی کا یہ ملک ہے لیکن تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ ابھی آپ نے گزشتہ دنوں دیکھا تھا کہ پنجاب جیسے صوبے میں، جس کے بارے میں یہ ہمیشہ رائے رہی ہے کہ یہاں تعلیمی نظام باقی جگہوں کے مقابلے میں بہتر ہوتا تھا لیکن سرکاری ادارے تو اپنی جگہ، مجموعی طور پر تعلیم کا یہ حال ہے کہ 52 فیصد بچے نویں جماعت میں فیل ہو گئے اور اس میں 60 فیصد سرکاری اسکول کے بچے ہیں اور 40 فیصد پرائیویٹ اسکول کے بچے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو حکومت کے کرنے کا کام ہے وہ تو وہ کر ہی نہیں رہی۔ یہ تو ایک پیمانہ ہے، دوسرا پیمانہ یہ ہے کہ اسکول ان سے چلتے نہیں ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم اسکول چلانے کے لیے اس کو آؤٹ سورس کر دیں گے۔ گیارہ ہزار اسکول مریم نواز آؤٹ سورس کر چکی ہیں اور پچیس ہزار کا ان کا ہدف ہے، گویا تعلیم دینا ان کا مقصد ہی نہیں ہے، جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
اور یہ جو بھاری بھاری بجٹ ہوتے ہیں، نہ اس کا پراپر استعمال ہو پاتا ہے، نہ قوم کے لیے یہ کوئی چیز کر پاتے ہیں۔ جو پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ ہیں وہ بھی کیا کریں، جو بہت تھوڑی فیس کے ساتھ چلنے والے ادارے ہوتے ہیں، وہ اپنا خرچہ کیسے پورا کریں؟ پالیسی نہیں ہے ایسی کہ جو تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ہو، اور پھر جو بہت بھاری بھاری فیس والے ہیں وہ بہت تھوڑے سے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں معیاری تعلیم کا حصول چند فیصد، دو چار فیصد سے زیادہ لوگوں کے پاس ممکن نہیں۔ یہ ٹوٹل فیلئر ہے حکومت کا۔ اور یہ کہنا کہ یہ صوبائی سبجیکٹ ہے، وفاقی سبجیکٹ ہے، تو بھائی پنجاب میں تو حکومت پی ای ایم ایل این کی ہے، اور آج سے نہیں، گزشتہ چالیس پینتالیس سال سے، تھوڑے ہی وقفے میں رہا ہوگا، باقی تو پی ای ایم ایل این کی حکومت رہی ہے، بلکہ شریف خاندان کی حکومت رہی ہے، تو تیزی سے یہ تعلیم کا زوال کیوں ہو رہا ہے؟
یونیورسٹیوں کو پیسے نہیں مل رہے، کالجز پر گہری نظر ہے، ان کو بھی پرائیویٹائز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی پراپرٹی، پانچ سو ایسی شناخت کر لی گئی ہیں جن کی پراپرٹی پر نظر ہے حکومت کی کہ اس کو بیچ کر ہم اپنے خرچے پورے کریں۔ اور خرچے کیا ہیں؟ گیارہ ارب کا جہاز، خرچے کیا ہیں؟ آنیا جانیا، پروٹوکولز۔ یعنی یہ حکمران طبقہ قوم کو کتنا مہنگا پڑتا ہے، کتنا بھاری پڑتا ہے۔ آپ اس سے ان کے پروٹوکولز کا اندازہ کریں اور پھر ان کے رویوں کا۔ تو ایک طرف غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف عیاشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور یہی حال باقی تین صوبوں کا ہے۔
کل بلاول صاحب یہ فرما رہے تھے کہ کراچی میں تو ہمارا مینڈیٹ ہے، یعنی ماشاء اللہ، ہم اس کے لیے کون سا لفظ استعمال ہوتا ہے؟ یہ بات کہتے ہوئے بندے کے اندر حوصلہ تو چاہیے نا، اسے اور یہ حوصلہ ان کے اندر پورا ہے۔ بدترین طریقے سے ان کو بلدیاتی انتخاب میں شکست ہوئی، سیٹیں بھی ہار گئے، ووٹ بھی نہیں ملے۔ چوتھے نمبر پر جماعت اسلامی پہلے نمبر پر تھی، سیٹیں بھی زیادہ تھیں، سیٹوں پر قبضہ کیا، اس سے پہلے حلقہ بندیاں کروائیں اپنی مرضی کی، پھر اس کے بعد سیٹوں پر قبضہ کیا۔ پھر بھی پورا نہیں پڑا تو پچیس بندے پی ٹی آئی کے خرید لیے اور جالی میئر بنا دیا۔ پھر قومی انتخاب ہوئے تو کراچی کی سات قومی اسمبلی کی سیٹیں پیپلز پارٹی کی جالی سیٹیں ہیں۔ ہمت ہے تو بلاول فارم 45 لے کر آ جائیں جس پر تمام پولنگ ایجنٹ ہیں، اور پھر کہیں کہ ہمارا کوئی مینڈیٹ ہے۔
کراچی کے لوگ نفرت کرتے ہیں پیپلز پارٹی سے، بلکہ اب تو پورے سندھ کے لوگ کرنے لگ گئے ہیں۔ مجبوری کا سودا ہے، وڈیرہ شاہی نظام ہے، مفادات ہیں۔ اور بڑے وڈیرے، چھوٹے وڈیرے اور پھر سماجی قبضے کا ایک پورا سسٹم ہے جس میں لوگ جب کوئی چوائس نہیں دیکھتے تو اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ تو پیپلز پارٹی پر پورا ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔ ان کی اے پلس ٹیم ہے، ان کے ذریعے سے اپنے سارے کام کرواتے ہیں۔ کرپشن ہو جائے، لوٹ مار کرلیں، تباہ کردیں شہر کراچی، برباد ہو جائے حیدرآباد، لڑکانہ، سکر، نوڈیرو، رتو دیرو، جندو دیرو، کشمور، کنکوٹ برباد ہو جائے، ڈاکہوں کے حوالے ہو جائیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی پر ہاتھ رکھتی ہے اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ذریعے سے سارا سلسلہ چلتا ہے، مینجمنٹ ہوتی ہے۔
تو اس سہارے کے علاوہ پیپلز پارٹی کے پاس کیا ہے؟ تو ایک طرف یہ نون لیگ ہے، دوسری طرف یہ پیپلز پارٹی ہے، ان کا اقتدار تین صوبوں میں اور وفاق میں مل کر حکومت کر رہے ہیں، یہ پی ڈی ایم ہیں۔ تو یہ جو پورا ایک ملغوبہ ہے اور اس میں جس نوعیت کا مینڈیٹ، جس کو یہ کہتے ہیں کہ ہم بہت کر رہے ہیں، وہ تو کراچی کی بات کر رہے ہیں پورے پاکستان کی۔
میں کیا منڈیٹ ہے ان سب لوگوں کا؟ تو اس لیے بجائے اس کے کہ کچھ لوگوں کو ریلیف دیں، یہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پروگرام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم جتنی بھی تحقیقات کرتے ہیں، معلومات کرتے ہیں، پتا چلتا ہے کہ 38 سے 40 فیصد اس کا بجٹ شاید صحیح خاندانوں تک پہنچتا ہے، یعنی خاندانوں تک پہنچتا ہے، صحیح غلط تو بعد کی بات ہے۔ باقی سب مڈل مین کے ذریعے سے آپریٹ ہوتا ہے اور پہلے شناختی کارڈ کے ذریعے سے ملا کرتے تھے، پھر ای ٹی ایم ہو گیا لیکن ای ٹی ایم دیہاتی لوگ، مزارے، ہاری، کسان، غریب لوگ جن کو تعلیم نہیں دیتے، جن کو کوئی سہولت نہیں دیتے۔ تو یہ جو مڈل مین کا پورا سسٹم ہوتا ہے جو پارٹیوں کے ساتھ اور حکومتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کرپشن کرتے ہیں۔
ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں سے یہ پروگرام بنتا ہے، عام لوگوں تک ریلیف پہنچتا نہیں ہے اور جن کو پہنچ جاتا ہے، ان کو بھی کیا پہنچنا ہے۔ تین مہینے میں اگر سترہ اٹھارہ ہزار روپے خاندان کو مل جائیں تو بھیکاری بنا رہے ہیں۔ تعلیم نہیں دے رہے، فری آئی ٹی پروگرام نہیں کر رہے، دنیا کہاں جا رہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا زمانہ ہے لیکن ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے جس میں پاکستانی قوم کو یہ آگے بڑھا سکیں اور غربت کو مٹانے کے لیے کوئی کام کر سکیں۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے ان کو اجازت دے دیتا ہے۔ لیوی کے خاتمے کی بات کی جائے تو کہتے ہیں کہ جناب آئی ایم ایف کی رکاوٹ ہے، لیکن کرپشن کا جس میں دھندا چل رہا ہے، پورا اس پر اگر آئی ایم ایف اجازت دے رہا ہے تو خود یہ سوال آئی ایم ایف کے لیے بھی ہے۔
اخراجات میں حکومت کمی نہیں کرتی، ابھی بھی وزیراعظم ہاؤس کی تزئین و آرائش کے لیے سنا ہے مزید تیس کروڑ روپے لگ رہے ہیں۔ آپ ان کی گاڑیاں دیکھیں، آپ ان کے فری پیٹرول دیکھیں، آپ ان کے فری آمد و رفت دیکھیں۔ جب یہ جہازوں میں سفر کر کے باہر جاتے ہیں یا کوئی میٹنگ باہر ہوتی ہے اور اس میں پورا پورا لشکر لے کر جاتے ہیں تو یہ قوم کے اوپر کتنے بھاری اور مہنگے پڑتے ہیں۔ تو اس میں کوئی کمی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، سود کا ریٹ کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
کہتے ہیں کہ یہ جو بینک ہے، ہمارا اسٹیٹ بینک یہ اب خود مختار ہے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ پاکستان کا بینک ہو، جو پاکستان کی ریاست کا بینک ہو، وہ خود مختار ہو کیسے سکتا ہے؟ اس کا تو مطلب ہے ہماری پوری معیشت آپ نے حکومت اور ریاست کے دائرے سے باہر کر دی۔ ریاست کے اندر ایک دوسری ریاست چل رہی ہے اور اگر ایسا نہیں ہے اور جو نو افراد کی کمیٹی طے کرتی ہے اور اس کمیٹی میں سے چھ لوگ حکومت کے ہوتے ہیں، نومینیٹڈ، تو پھر یہ پالیسی ریٹ کم کیوں نہیں کرتے؟
کیوں یہ سود کی لعنت کو بڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم کم کریں گے تو مہنگائی بڑھ جائے گی، یہ بھی غلط بات ہے۔ جماعت اسلامی کی کمیٹی نے ثابت کر دیا کہ بالکل ایسا نہیں ہوتا۔ اگر یہ پالیسی ریٹ تین فیصد کم کریں تو لیوی زیرو ہو جائے، ضرورت ہی نہیں پڑے گی لگانے کی لیکن یہ کام نہیں کرتے، ایزی منی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور پھر اس میں جب شور ہوتا ہے، احتجاج ہوتا ہے تو ایک پیکج انناؤنس کر دیتے ہیں۔ بھئی، پیکج سے بے شک ساٹھ ستر لاکھ لوگ فیضیاب ہو رہے ہوں لیکن پاکستان میں پچیس کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ اور جس میں مڈل کلاس اور غریب لوگوں کی تعداد بیس کروڑ تک ہے، اس سے بھی زیادہ ہے، بائیس کروڑ تک ہوں گے۔ تو پھر آپ یہ بتائیں نا کہ ان کے لیے آپ کے پاس کیا ہے؟
یہ لیوی کا تو کوئی پیٹرول کی قیمت سے تعلق ہی نہیں ہے، تو اس کو تو ختم ہونا چاہیے۔ اب یہ پیٹرول کی ایک بات بتاتے ہیں، سعودی عرب نے یہ اعلان کیا ہے کہ ایشیائی ممالک کے لیے ہم پانچ ڈالر فی بیرل کی رہائت دیتے ہیں۔ اب یہ ہے کہ پاکستان کی جو پیٹرولیم ڈیویژن ہے، یہ تو چل جاتا ہے، چھٹی پہ ہفتہ اتوار جمعے سے نکل جاتے ہیں اور آرام سے ہو کر آتے ہیں۔ اس دوران خطے کے دوسرے ممالک آگے بڑھ جائیں گے۔
اگر یہ چھٹیاں نہ کریں، ہم کیس کریں لیوی کے خلاف آئینی عدالت میں تو جج چھٹی پہ چلے جاتے ہیں۔ اگر کوئی اپرچنٹی پاکستان کے لیے ہو تو سرکاری ملازم اور بیورکریسی چھٹی پہ چلی جاتی ہے، اور اس کے نتیجے میں جو آگے بڑھ کر کام کرنا ہے، وہ نہیں ہوتا۔ پاکستان میں جو آئل کی ریفائنریاں ہیں، یہ اپنی آپٹیمم جو ان کی صلاحیت ہے، پیداواری اس پر کام نہیں کر رہی، خاص طور پر پاکستان میں۔
سینرجی کے نام سے جو پہلے بائی کو ہوتی تھی، ایک ریفائنری ہے جو ویسے ہی حکومت پاکستان کی نادہندہ ہے۔ اب یہ صرف بیس فیصد پر چل رہی ہے جبکہ اس کو اچھی ڈیپ سی والی پورٹ بھی ملی ہوئی ہے۔ اس کے اپنے فوائد ہیں، اگر یہ بیس فیصد والی اس کی جو افیشنسی ہے، یہ بڑھا دی جائے تو پاکستان کو یہ ستر فیصد پہ اگر آ جائے تو پاکستان کو انہتر ارب روپے سالانہ کا فائدہ ہوگا۔ یہاں سے پیسے نکلتے ہیں، صرف مینجمنٹ کا ایشو ہے، حکومتی رڈ کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی بات میں نے آپ کو بتائی ہے، چیک کرنا ہے تو کر لیں جا کے ان وزراء کو، اور ان کو تو پتہ بھی نہیں ہوتا۔ سب چیزیں بیان دینے کے لیے آ جاتے ہیں کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ تو یہ سب چیزیں ہیں جس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ریفائنریز کو اپگریڈ کرنے کے لیے اس لیوی کو استعمال ہونا چاہیے تھا۔ یہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی تھی، لیکن یہ کام نہیں کیا گیا۔ ایک سال میں پچھلے سال پندرہ سو چھپن ارب روپے کی لیوی جمع کیے۔
جماعت اسلامی کی جو پوری تحریک ہے، کل بھی میں چارصدہ گیا، بہت بڑا جلسہ تھا۔ لوگ بالکل تیار ہیں، اور لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ادھر ادھر کے پی میں نہیں جائیں گے، ہم سیدھا اسلام آباد پہنچیں گے۔ جو بٹ خیلہ، تیمرگرہ، مردان ہر جگہ جو ہے، وہ یہ دھرنے ایک بڑے بڑے جلسے ہیں۔ ہم میں اب تبدیل ہو رہے ہیں، کلوکاڑا میں بہت بڑا جلسہ ہے، لاہور میں جلسہ ہوا۔ یعنی یہ وہ اس وقت ہوئے ہیں، جب ہم نے لانگ مارچ کو پاؤس کیا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومنٹم موجود ہے۔ اپنی جگہ وزیر صاحب سے ملاقات کے لیے جو حسین اقبال صاحب نے بات کی ہے، وہ ملاقات تو اپنی جگہ ہے۔
ہم نے تو خود کہا تھا کہ آپ ملیں اور مسئلہ حل کریں لیوی کا، لیکن مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان کے وزیر صاحب یہ بیان دیتے ہیں کہ ہم لیوی تو ختم کر ہی نہیں سکتے، تو میں شہباز شریف صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ ملاقات ہم سے کس لیے کرنا چاہتے ہیں؟ وہ جو آپ نے اتنا فون کیا کہ ہم آتے ہی ملیں گے، اور پھر کوئی ریلیف دیں گے، اور یہ کریں گے، اور وہ کریں گے، تو آپ ملاقات کا ایجنڈا بتائیے۔
ٹھیک ہے، آپ کی طرف سے فون آیا ہے کہ ملاقات ہو سکتی ہے۔ ہم نے بھی کہا دو تین دن میں ہم کرتے ہیں، لیکن جب آپ کے پاس ایجنڈا یہ نہیں ہے تو ہمیں ملاقات کا کوئی شوق تو نہیں ہے کہ آپ سے ملیں، اور اس کے بعد پھر جہاں سے چلے تھے، وہیں پر شروع ہو جائیں۔ اگر آپ کے ایجنڈے میں یہ بات شامل ہے کہ آپ لیوی کا خاتمہ کریں گے،
اگر آپ کے ایجنڈے میں یہ شامل ہے کہ پاکستان کے عوام کو ایک ٹینجیبل ریلیف دیں گے، تو اگر آپ کے پاس ایجنڈے میں یہ چیز موجود نہیں ہے، تو پھر اس کے بعد ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
ہمیں پیٹرولیم کی قیمت کم کروانی ہے، یہ کوئی شوق نہیں تھا، یہ کوئی پارٹی بازی نہیں تھی، یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کی بنیاد پر ہم صرف اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے، میڈیا میں آنے کے لیے یہ مشقت کر رہے تھے بیالیس شہروں میں۔ ایک مہینے تک اس سے بھی زیادہ کا دھرنا دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے، بڑی بڑی پارٹیوں کی جان نکل جاتی ہے جب کوئی بڑی ایکٹیویٹیز ہوتی ہیں۔ یہ جماعت اسلامی ہے جو اب پبلک کے شوپ پر یہ کام کر رہی ہے، کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے، کوئی لیڈر کا ایجنڈا نہیں ہے، کوئی پارٹی کا ایجنڈا نہیں ہے۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اگر ان کے ایجنڈے میں ریلیف ہے اور لیوی کا خاتمہ ہے تو پھر تو ملاقات ہوگی، ورنہ کوئی شوق نہیں ہے، پھر ملاقات سڑکوں پہ ہوگی۔
اور ہم آگے بڑھیں گے، ہم پرامن لوگ ہیں اور ہم نے اپنی امن پسندی کو پچھلے دو ڈھائی مہینے میں مسلسل واضح کیا ہے، اور اس سے پہلے بھی ہمارا ٹریک ریکارڈ یہی ہے۔ لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس امن پسندی کو آپ ہماری کمزوری بنانا چاہتے ہیں، اور آپ کو بھی بدامنی چاہیے، آپ کو بھی مار ماری چاہیے، آپ کو بھی آگ چاہیے، فساد چاہیے تو جماعت اسلامی یہ کام نہیں کرے گی۔ لیکن عوامی دباؤ سے اس میں وقت تو لگے گا، ظاہر ہے جو مستقل اور پیہم کیا جانے والا کام ہے، اس میں وقت زیادہ لگتا ہے لیکن وہ پائیدار ہوتا ہے، اور انشاءاللہ عوامی دباؤ سے آپ کو مجبور کریں گے۔ یہ چوائس اب حکومت کے پاس ہے کہ عزت کے ساتھ پاکستانی عوام کے اس مسئلے کو ایڈریس کرتے ہیں یا عوامی دباؤ کے نتیجے میں مجبوری۔
ہمیں کوئی پولٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کا ایشو نہیں ہے، ورنہ بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ آپ جائیں، ہنگامہ کریں، نکل آئیں تو آپ ایک دو سال کے لیے آرام سے گھر بیٹھ جائیں اور لوگ کہتے رہتے ہیں بڑا ظلم ہو گیا آپ کے خلاف۔ پاکستان میں ایسی پولٹکس ہوتی ہے، کارکنوں کو بھی بھوکا رکھ کر لوگ آرام سے اپنی سیاست کرتے ہیں، لیکن جماعت اسلامی اس طرح کی سیاست نہیں کرتی۔ ہم ایشو کو ایڈریس کرتے ہیں اور یہ ایشو اب بہت واضح طور پر یہ دو تین دن ہیں، بارہ تاریخ کو ہم مشورہ کریں گے اور پھر اس کے بعد واضح طور پر ہم ایک لائن آف ایکشن دیں گے۔ اب یہ حکومت کے کورٹ میں بال ہے کہ ان کے ایجنڈے میں واضح ریلیف اور لیوی کا خاتمہ ہے کہ نہیں۔
گندم کا اس وقت بڑا کرائسز ہے، ابھی بوائی شروع ہونے والی ہے پندرہ اکتوبر سے، اور پچھلے چند برس میں جس طرح حکومتوں نے نالائقیوں کا مظاہرہ کیا ہے، ایک طرف کسان کو گندم کا ریٹ پراپر نہیں ملا۔ آپ کو یاد ہے دو سال پہلے حکومت پنجاب نے انتالیس سو روپے گندم کا ریٹ طے کیا اور اس سے مکر گئی تھی، اور یہ بدترین مثال گورننس کی بھی اور حکومت کی بھی کہ جو حکومت ایک ریٹ طے کرے اور اس سے پھر جائے۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس کا پوری معیشت پر اور زراعت پر کیا اثر پڑتا ہے، اور پھر پچھلی مرتبہ بھی انہوں نے ریٹ طے کیا لیکن اس کے مطابق ہر جگہ پر پیسے نہیں ملے۔ کسانوں کو تین ہزار روپے تک ایوریج پیسے ملے، کہیں کہیں اس سے بھی کم۔ لیکن اس وقت مارکیٹ میں آٹا اگر پانچ ہزار چار سو پچاس روپے کا مل رہا ہے ایوریج، تو آپ یہ بتائیے کہ یہ درمیان کے جو ڈھائی ہزار ہیں، یہ کس کے پاس ہیں؟ ٹرانسپورٹیشن میں، ذخیرہ کرنے میں، سپلائی کرنے میں کتنا پیسہ لگتا ہے؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حکومت سے ملے ہوئے لوگ ہیں، جو کسان کو بھی پیسے پورے نہیں دیتے اور عوام کو بھی روٹی سستی نہیں دیتے، وہ مافیا ہے جو ہماری پوری زراعت کو بھی تباہ کر رہا ہے، اور حکومت کے ساتھ مل کر کر رہا ہے، پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کر رہا ہے، مریم نواز کی حکومت کے ساتھ مل کر کر رہا ہے۔ تو اس کا جواب تو دینا پڑے گا حکومت کو۔
پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال تین سو روپے کا ڈی اے پی میں اضافہ ہو گیا ہے، ایسا ہی ہے۔ چودہ ہزار دو سو تھے اور اب سترہ ہزار ہو گئے ہیں، تین ہزار روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی طرح یوریا میں، میں کل کے پی سے آیا ہوں، وہاں بلیک میں یوریا مل رہی ہے۔ جب بلیک میں مل رہی ہے تو ان کو قانونی طریقے سے کیوں نہیں مل رہا؟ پھر یہاں پر کیا آپ نے اس کو مینج کیا ہوا ہے؟ یہاں بھی مہنگی مل رہی ہے۔ تو جب آپ یوریا مہنگا دیں، ڈی اے پی مہنگا دیں، آپ کسان کو پیسے پورے نہیں دیں تو پھر یہی ہوگا جو ہو رہا ہے۔ پاکستان ایک شعبے میں بہتر تھا اور نون لیگ کی اور پی ڈی ایم کی اس حکومت نے اس شعبے میں بھی پاکستان کو برباد کیا ہوا ہے۔ باقی تو آپ تعلیم میں میں نے آپ کو بتا دیا، صحت کی چیزیں آپ کے سامنے ہیں، پی ایس ڈی پی کا فنڈ رکھتے ہیں۔ ایم این اے کو رشوت دینے کے لیے قوم کو ریلیف نہیں دیں گے۔ ایم این اے کو رشوت دیں گے، تو یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہماری ورکنگ بھی ہے، ہماری کمیٹی بھی بالکل الرٹ ہے اور ہمارے ورکرز بھی بالکل تیار ہیں۔
اور میں ایک مرتبہ پھر جماعت اسلامی کے تمام ورکرز سے اور جو لوگ بھی سپورٹ ہمیں کر رہے ہیں، ان سے یہ کہہ رہا ہوں کہ بالکل تیاری مکمل رکھیں۔ حکومت کی طرف سے اگر کوئی واضح چیز سامنے نہیں آتی تو انشاءاللہ لانگ مارچ بھی شروع ہوگا اور سیدھا سیدھا اسلام آباد کی طرف سفر شروع ہوگا اور پھر انشاءاللہ عوامی دباؤ سے حکومت کو مجبور کریں گے۔
دیکھیں، ایک فیکٹر یہ ضرور موجود ہے کہ ملک میں ایک افراتفری ہے اس وقت اور ان سرٹینٹی ہے، اور یہ گورنر راج کی باتیں ہیں اور ایمرجنسی کی باتیں بھی چل رہی ہیں، جو ظاہر ہے کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی بھی اس میں کوئی کنٹریبیوٹ کرے۔ ہم تو عوام کے ریلیف کے لیے نکلے، ہمارے کسی ایک کا فائدہ اٹھا کر اگر حکومت اپنا کوئی ایجنڈا پورا کرے تو ہم نہیں چاہتے تھے کہ یہ کام ہو۔ اسی لیے ہم نے ایک ایسا معقول راستہ اختیار کیا تھا جس میں ہم نے وزیراعظم کی بات بھی رکھی تھی اور ہم پاکستان کو اس انتشار سے بچانا بھی چاہتے تھے۔ لیکن اس کو اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ اس کو انہوں نے ہینڈل کر لیا ہے اور جب یہ مسئلے کو ایڈریس نہیں کریں گے تو پھر ہمیں نہیں پتا کہ آپ کے مذاکرات پی ٹی آئی سے کیا ہو رہے ہیں، وہ آپ کیجئے، اور مذاکرات کے لیے تو ہم کہتے ہیں کہ مذاکراتی مسئلہ کا حل ہے اور پراپر طریقے سے کریں۔ اور جو ریلیف دینا ہے، وہ دیں۔ ظاہر ہے مسئلہ اگر خان صاحب کی رسائی کا ہے اور ان کی صحت کا ہے تو ظاہر ہے کوئی غلط ڈیمانڈ نہیں ہے، اس کو پورا ہونا چاہیے۔ لیکن اس کو بنیاد بنا کر آپ عوام کے ساتھ یہ ظلم کرتے رہیں، یہ تو نہیں ہوگا نا۔ تو اس لیے بہت وقت دے دیا ہے، اب اگر سیدھا ایجنڈا سامنے نہیں آتا تو پھر اس کے بعد ہم سٹارٹ کریں گے۔ دیکھیں، جماعت اسلامی کے کیس میں ایک بات آپ سمجھ لیں، ہمیں کوئی ایسی
جلدی نہیں ہے کہ ہم جا کر کوئی ایونٹ بنانا چاہتے ہیں۔ ہم مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں، بس یہ بات آپ اچھی طرح سمجھ لیں۔ دیکھیں، بات یہ ہے کہ ہمارا ان تمام جماعتوں سے رابطہ بھی ہے اور آپ نے دیکھا کہ جب ہم یہ پیٹرولیم لیوی کی تحریک لے کر چل رہے تھے، دھرنے جس وقت جاری تھے، تو میں نے تمام جماعتوں سے رابطہ بھی کیا تھا، ملاقاتیں بھی کی تھیں، فون پر بات بھی کی تھی۔ سب نے حمایت کی تھی۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ ہے، تو اپوزیشن کے لوگ ہمارے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم اے پی سی بلائیں گے اور ہم نے تو غیر مشروط اے پی سی کی حمایت کی۔ بعض پارٹیوں کے بارے میں انہوں نے کہا تو پھر اس کے بعد یہ بات آئی تھی کہ ایک قومی ایجنڈا بھی اس اے پی سی کے لیے بن جائے تو ہم اس کے لیے بھی ظاہر ہے تیار ہیں اور ہم نے پہلے کنٹریبیوٹ کیا بھی ہے۔ لیکن ظاہر ہے پارٹیوں کی اپنی اپنی پالیسیز ہوتی ہیں اور ان کا نظام ہوتا ہے۔
اس سارے عمل میں ہم یہ تو نہیں کر سکتے کہ جو چیز لے کر چل رہے ہیں جس سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے تو ہم اس کو چھوڑ دیں اور پتہ چلے کہ کوئی اور مسئلہ بن گیا، اس لیے جماعت اسلامی نے بہت سوچ سمجھ کر اس راستے کا انتخاب کیا ہے۔ ہمارے طویل تجربات ہیں ان اتحادوں کے اور مشترک جدوجہد کے، ان سب کے تناظر میں بھی اور وقت کے تقاضے کے مطابق بھی اور عوام کے حالات کو دیکھتے ہوئے بھی ہم نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے، میں سمجھتا ہوں وہی ایک ایسا راستہ ہے جس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملے گا۔ یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے، اگر ہم اللہ کی مدد سے اور عوام کے تعاون سے عوام کو یہ ریلیف دلانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان میں سیاست بھی تبدیل ہو جائے گی اور پاکستان میں عوام کے حالات بھی انشاءاللہ بدلیں گے، اس لیے کہ ابھی تک جو سیاست ہو رہی ہے وہ عوام کے مسائل پر نہیں ہو رہی، ان کی بھوک پر نہیں ہو رہی، ان کی حالتِ زار پر نہیں ہو رہی بلکہ پارٹیوں کے ایجنڈے پر ہو رہی ہے، شخصیات پر ہو رہی ہے، خاندانوں پر ہو رہی ہے۔ تو اس لیے ہم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ راستہ منتخب کیا ہے اور اللہ کا شکر ہے ہم اس پر چل رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ انشاءاللہ بات آگے بڑھے گی۔
ان سے ہی پوچھیں جس طرح کے بیانات وہ دیتے ہیں اور جب ان لوگوں کو ملنا ہوتا ہے یہ مل جاتے ہیں۔ جب سٹیٹ بینک کو آزاد کرنا ہوتا ہے یہ سب مل کر کرتے ہیں، جب جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینی ہوتی ہے تو یہ ساری پارٹیاں آپس میں ملتی ہیں، سنجرانی کو اگر سینٹ کا چیئرمین بنانا ہو تو فوجی عدالتوں کا قیام کرنا ہو، یہ سارے کھٹے ہوتے ہیں۔ مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے یہ اختلاف ہے کیا ان لوگوں کا؟ تو یہ تو آپ انہی سے پوچھیں جنہوں نے بیان دیا ہے۔ ہم سے تو یہ پوچھتے ہیں تو ہم کہیں گے سیاسی قیدی کوئی بھی نہیں ہونا چاہیے، ہم تو یہ کہتے ہیں خان صاحب کو رہا ہونا چاہیے اور اگر جن الزامات پر انہوں نے ان کو اندر کیا ہوا ہے تو اس پر باقی سب کو بھی اندر ہونا چاہیے اور خواتین کو تو کم از کم فوری ریلیز کرنا چاہیے۔
ابھی میں پوری رات سفر کر کے چار بجے آیا ہوں اور اس سے پہلے آپ نے دیکھا سارے جلسے بھی چل رہے ہیں، ہماری سگنچر کیمپین بھی چل رہی ہے، پورے پاکستان میں لوگ ایکٹیو ہیں۔ موڈ ہوتا ہے نا کس وقت کون سا کام کرنا ہے، تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ بیالیس شہروں میں لگاتار دھرنے چل رہے ہیں اور احتجاج جاری ہے اور اس وقت بھی احتجاج جاری ہے ہر جگہ۔ تو اس لیے ہر چیز کا ایک موڈ ہوتا ہے اور وہی والی بات میں پھر دہرا رہا ہوں کہ ایونٹ بازی نہیں کرنا چاہتے کہ جس میں کارکنوں کو بھیڑ چڑھا کے ہم ایک دو سال کی سیاست اپنی زندہ کر لیں، یہ تو نہیں کرنا چاہتے، ہم مسئلہ ایڈریس کرنا چاہتے ہیں۔ اب یہ حکومت کے پاس ہے، انہوں نے فون کیا تھا، ان سے ملاقات ہوگی۔ ملاقات تو کوئی ایشو نہیں ہے نا، مسئلے کو ایڈریس ہونا چاہیے۔ اب اگر ان کے پیٹرولیم کے وزیر صاحب یا کوئی اور وزیر ملاقات سے دو دن پہلے تین دن پہلے یہ کہیں کہ لیوی تو ختم ہونی ہے، تو اگر ایجنڈا واضح نہیں ہوگا تو ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور پھر لانگ مارچ ہوگا، پھر سڑک پر بات ہوگی۔
انشاءاللہ دو باتیں ہیں، جو آپ نے بین الاقوامی حالات کی بات کی ہے تو پاکستان ایک دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جیسے یہ معاہدہ ہوا تھا ہم نے اس کا خیر مقدم بھی کیا تھا اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا تھا اور اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ اس میں ایران کو بھی شامل کر لیا جائے، یہ کام اگر کر لیا جائے تو بین الاقوامی سطح پر مسلم ممالک میں ایک زبردست قسم کی یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی۔ جہاں تک آپ نے یمن کی بات کی ہے تو پاکستان کی حکومت نے اس کی وضاحت کی ہے کہ ہمارے فوجی ہیں یا ہمارے جو ایئر کرافٹ ہیں یا ہمارے لوگ ہیں وہ استعمال نہیں ہوئے ہیں یمن میں بمباری پر، تو ظاہر ہے فیس ویلیو پر ہم ان کی بات کو مانتے ہیں لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ دفاعی معاہدہ ہے وہ اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتا ہے، جیسے ترکیہ نے بھی بہت واضح طور پر اس میں بات کی ہے۔ پاکستان کی گورنمنٹ کو بھی اس معاہدے کا احترام کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے ایسے قضیے میں جو مسلمانوں کے درمیان ہو، اس میں نہیں جانا چاہیے، نہیں کودنا چاہیے، اس کے نتیجے میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا نقصان ہوگا اور جس طرح سے وزارت خارجہ نے کہا ہے بس اسی پر قائم رہنا چاہیے۔
جہاں تک اس کا تعلق ہے آپ نے دیکھا جو آپریشن یا دہشت گردی کا مسئلہ ہے وہ تو ایک قومی مسئلہ ہے۔ جب نیشنل ایکشن پلان بنا تھا تو اس میں دو طرح کی چیزیں طے ہوئی تھیں، ایک کائنیٹک ایکشن طے ہوا تھا، تو پہلے تو یہ فوجی ریجیم بھی اور سیاسی ریجیم بھی جتنی بھی رہی ہیں، پہلے تو یہ بات آئی کہ نون کائنیٹک ایکشن کیا گیا اور تعلیمی ادارے تباہ ہیں، صحت کی سہولتیں نہیں ہیں، ان سب علاقوں کے اندر بدترین حالات ہیں، تو ایسے حالات میں آپ عوام کو کیسے ساتھ لے کر چل سکتے ہیں؟ کوئی بھی آپریشن جو دہشت گردی کے خلاف ہو وہ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ تو اس میں تو بہت پہلے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو اپنی سیاست کو چھوڑ کر قوم کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے تھا اور اس میں وفاقی حکومت کو زیادہ اچھا کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ بہرحال اب بھی وقت ہے کہ یہ سب ایک پیج پر آئیں اور اس مسئلے کو ایڈریس کریں۔ اور یہ ظاہر ہے لوکل مسئلہ نہیں ہے، امریکہ اس میں انوالو ہے، اس میں بعض ہمارے پرانے دوست ممالک بھی انوالو ہیں، اس میں مغربی طاقتیں انوالو ہیں، اس میں اسرائیل انوالو ہے اور ہمارے جو پڑوس میں بھی ایک ایشو ہے کہ افغان حکومت کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے اور ہم ان سے بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ تو یہ سب اتنے بڑے فیکٹرز جہاں موجود ہوں وہاں ہم اپنی چھوٹی لڑائی لڑ کر عوام کا بھی نقصان کریں، فوج کے جوانوں کا بھی نقصان کریں، قوم کا بھی نقصان کریں، یہ قابلِ قبول نہیں ہے۔
قبول نہیں ہے، تو ایک پیچ پر آ کر اس مسئلے کو جامع طریقے سے ایڈریس ہونا چاہیے۔ بہت شکریہ۔