خود ترقی اور آزادانہ تعلیم

والد کی بیماری اور وفات کی وجہ سے ان کی رسمی تعلیم میں خلل پڑا، لیکن علم کے حصول میں ان کی کوشش کبھی نہیں رکی۔ خود نظم و ضبط اور فکری تجسس کے ذریعے، وہ آزادانہ طور پر سیکھتا رہا۔ 1920 کی دہائی کے اوائل تک انہوں نے اپنی مادری زبان اردو کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور انگریزی میں بھی مہارت حاصل کر لی تھی۔