علامہ سید سلیمان ندوی

مولانا مودودی صاحب سے علمی دنیا پورے طور پر واقف ہو چکی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ آپ اس دور کے متفکر اسلام اور ایک بلند پایہ عالم دین ہیں۔ یورپ سے الحاد و دہریت کا جو سیلاب ہندوستان میں آیا تھا قدرت نے اس کے سامنے بند باندھنے کا انتظام بھی ایسے ہی مقدس اور پاک طینت ہاتھوں سے کرایا ہے جو خود یورپ کے قدیم و جدید خیالات سے نہایت اعلیٰ طور پر باخبر و واقفیت رکھتا ہے نیز اس کے ساتھ ہی قرآن وسنت کا اتنا گہرا اور واضح علم رکھتا ہے کہ موجودہ دور کے تمام مسائل پر اس کی روشنی میں تسلی بخش طور پر گفتگو کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے ملحدوں اور دہریوں نے اس شخص کے دلائل کے سامنے ڈگیں ڈال دی ہیں اور یہ بات واضح طور سے کہی جا سکتی ہے کہ مودودی صاحب سے ہندوستان اور عالم اسلام کے مسلمانوں کی بہت سی توقعات دینی وابستہ ہیں۔