مولانا سید ابوالحسن علی ندوی

مجھے آج وہ وقت اور کیفیت یاد آتی ہے جب مئی ۱۹۵۳ء میں رائے بریلی میں ایک تقریب میں جا رہا تھا کسی نے انگریزی اخبار کے حوالے سے خبر سنائی کہ ”پاکستان کی فوجی عدالت نے مولانا مودودی کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔“ مجھے پر اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا اور دل پر اتنی چوٹ لگی کہ میں اس تقریب میں نہ بیٹھ سکا۔ وہ فضا اور کیفیت آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے انہیں اس وقت بچایا، اس سانحہ کے بارے میں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ برصغیر کا حادثہ نہیں بلکہ عالم اسلام کا حادثہ ہے۔ مجھے آپ حضرات سے زیادہ معلوم ہے کہ عالم اسلام اور خاص طور سے نوجوانوں پر مولانا نے کتنا گہرا اثر ڈالا ہے۔ ہم امید کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان سے اور کام لے گا۔ مولانا نے ” پردہ“ اور ” حقوق الزوجین“ جیسی معرکتہ الآراء کتابیں بھی ہیں۔ میں آپ کے سامنے کھلے دل سے شہادت دیتا ہوں کہ علامہ اقبالؒ کے بعد شاید کسی نے بھی جدید ذہن پر اتنا گہرا اثر نہیں ڈالا جتنا کہ مولانا مودودی نے ڈالا۔ مولانا نے جدید نسل کے ذہن و دماغ پر اسلام کے عقلی ہونے کا اعتماد پیدا کیا اور یہ اعتماد پیدا کیا کہ اسلام دورِ حاضر کے مسائل حل کر سکتا ہے،