اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی

اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی کا قیام ۴ مارچ ۱۹۶۳ء کو لاہور میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی صدارت میں ایک اجلاس میں عمل میں آیا۔ اس اجلاس میں مولانا مودودی کے علاوہ مولانا محمد ناظم ندوی، مولانا عبدالرحیم، مولانا ظفر احمد انصاری، چوہدری غلام محمد اور میاں طفیل محمد نے شرکت کی۔
مقاصد اور نوعیت
اکیڈمی کے قیام کا بنیادی مقصد عربی، انگریزی، بنگلا اور دیگر زبانوں میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا تھا۔ ایک اور اہم ہدف اسلامی نقطہ نظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے نصابی کتب کی تیاری تھا۔ گزشتہ ۶۰ برسوں میں اکیڈمی اسلامی نظریات اور تہذیب اسلامی کو فروغ دینے کے لیے علمی و فکری کاوشوں میں مصروف عمل ہے۔ اکیڈمی کی ایک اہم ذمہ داری سید مودودی کی تصانیف کی حفاظت، مستند اشاعت اور ڈیجیٹل تدوین و ترسیل ہے تاکہ ان کا علمی سرمایہ دنیا بھر کے قارئین اور محققین تک آسانی سے پہنچ سکے۔ اکیڈمی دو ششماہی تحقیقی جرائد، تحلیل اور معارف جرنل آف ریسرچ، بھی باقاعدگی سے شائع کرتی ہے، جبکہ معارف کے ذریعے عالمی جرائد میں شائع ہونے والے اہم علمی و فکری مضامین کے اردو تراجم بھی قارئین تک پہنچائے جاتے ہیں۔
شعبۂ تفہیم القرآن کے تحت درسِ نظامی، تعلیماتِ دینیہ اور دیگر اسلامی علوم کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ عربی، فارسی اور ترکی زبانوں کے مطالعے میں بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اکیڈمی جدید اور دینی علوم سے واقف نوجوان محققین کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہے تاکہ وہ عصرِ حاضر کے علمی و فکری محاذ پر مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اکیڈمی نے جدید علمی رجحانات اور مغربی تہذیبی اثرات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ موجودہ دور میں، جب نت نئے نظریات کی بھرمار ہے اور جدید تعلیم یافتہ نوجوان نسل کا ذہن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، ان حالات میں تمام علوم کو اسلام کے نقطہ نظر سے مرتب کیا جانا ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل اسلام کے بحق ہونے ہر مطمئن ہو سکےاور اسے یہ بھی اطمینان ہو کہ اسلام ہی شاہراہ حیات ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں سے اکیڈمی اسلام کو ایک جامع، زندہ اور عصرِ حاضر سے ہم آہنگ نظامِ حیات کے طور پر پیش کرنے کے لیے علمی و فکری جدوجہد میں مصروف ہے۔ بالخصوص جدید تعلیم یافتہ نسل کو درپیش فکری، سماجی اور سیاسی سوالات کے تناظر میں اکیڈمی تحقیق، تجزیے اور علمی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحقیقی موضوعات میں جدید تہذیب کا تنقیدی مطالعہ، خاندانی نظام، اسلامی تعلیم، معاشرتی مسائل اور معاصر سیاسی و فکری مباحث شامل ہیں۔