ہمارا لائحہ عمل
انفرادی اصلاح سے نظام کی تبدیلی تک

ہمارا مشن: اقامتِ دین۔ ہمارا طریقہ کار: مربوط اقدام۔
ہم حکومتِ الٰہیہ کی بنیاد پر ایک قوم کی تعمیر کر رہے ہیں۔ اس کے لیے محض نیک نیتی کافی نہیں۔ اس کے لیے ایک مکمل پروگرام کی ضرورت ہے جہاں ہر قدم اگلے کی مضبوطی کا باعث بنے۔
ہمارے لائحۂ عمل کے چار بڑے بڑے اجزا ہیں جن کا تعارف بانی جماعت سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۱؍نومبر ۱۹۵۱ء کو جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام منعقدہ کراچی میں پیش کیا تھا۔
۱۔ اس کا پہلا جز تطہیر افکار وتعمیر افکار ہے۔ یہ تطہیر وتعمیر اس مقصد کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے کہ ایک طرف غیر اسلامی قدامت کے جنگل کو صاف کرکے اصلی اور حقیقی اسلام کی شاہراہِ مستقیم کو نمایاں کیا جائے، دوسری طرف مغربی علوم وفنون اور نظامِ تہذیب وتمدن پر تنقید کرکے بتایا جائے کہ اس میں کیا کچھ غلط اور قابلِ ترک ہے اور کیا کچھ صحیح اور قابلِ اخذ، اور تیسری طرف وضاحت کے ساتھ یہ دکھایا جائے کہ اسلام کے اصولوں کو زمانۂ حال کے مسائل ومعاملات پر منطبق کرکے ایک صالح تمدن کی تعمیر کس طرح ہو سکتی ہے اور اس میں ایک ایک شعبۂ زندگی کا نقشہ کیا ہو گا۔ اس طریقے سے خیالات بدلیں گے اور ان کی تبدیلی سے زندگیوں کا رُخ پھرنا شروع ہو گا اور ذہنوں کو تعمیرِ نو کے لیے فکری غذا بہم پہنچے گی۔
۲۔ اس کا دوسرا جز صالح افراد کی تلاش، تنظیم اور تربیت ہے۔ اس غرض کے لیے ضروری ہے کہ ان آبادیوں میں سے اُن مردوں اور عورتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالا جائے جو پُرانی اور نئی خرابیوں سے پاک ہوں یا اب پاک ہونے کے لیے تیار ہوں۔ جن کے اندر اصلاح کا جذبہ موجود ہو۔ جو حق کو حق مان کر اس کے لیے وقت، مال اور محنت کی کچھ قربانی کرنے پر بھی آمادہ ہوں۔ خواہ وہ نئے تعلیم یافتہ ہوں یا پرانے، خواہ وہ عوام میں سے ہوں یا خواص میں سے، خواہ وہ غریب ہوں یا امیر یا متوسط، ایسے لوگ جہاں کہیں بھی ہوں انھیں گوشۂ عافیت سے نکال کر میدانِ سعی وعمل میں لانا چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں جو ایک صالح عنصر بچا کھچا موجود ہے، مگر منتشر ہونے کی وجہ سے، یا جزوی اصلاح کی پراگندہ کوششیں کرنے کی وجہ سے کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر رہا ہے، وہ ایک مرکز پر جمع ہو اور ایک حکیمانہ پروگرام کے مطابق اصلاح وتعمیر کے لیے منظم کوشش کر سکے۔
پھر ضرورت ہے کہ اس طرح کا ایک گروہ بنانے پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ساتھ ساتھ ان لوگوں کی ذہنی واخلاقی تربیت بھی کی جائے تاکہ ان کی فکر زیادہ سے زیادہ سلجھی ہوئی ہو اور ان کی سیرت زیادہ سے زیادہ پاکیزہ، مضبوط اور قابلِ اعتماد ہو۔ ہمیں یہ حقیقت کبھی نہ بھولنی چاہیے کہ اسلامی نظام محض کاغذی نقشوں اور زبانی دعوئوں کے بل پر قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے قیام اور نفاذ کا سارا انحصار اس پر ہے کہ آیا اس کی پشت پر تعمیری صلاحیتیں اورصالح انفرادی سیرتیں موجود ہیں یا نہیں۔ کاغذی نقشوں کی خامی تو اللّٰہ کی توفیق سے علم اور تجربہ ہر وقت رفع کر سکتا ہے لیکن صلاحیت اورصالحیت کا فقدان سرے سے کوئی عمارت اٹھا ہی نہیں سکتا اور اٹھا بھی لے تو سہار نہیں سکتا۔
۳۔ اس کا تیسرا جز ہے اجتماعی اصلاح کی سعی۔ اس میں سوسائٹی کے ہر طبقے کی اس کے حالات کے لحاظ سے اصلاح شامل ہے، اور اس کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہو سکتا ہے جتنے کام کرنے والوں کے ذرائع وسیع ہوں۔ اس غرض کے لیے کارکنوں کو ان کی صلاحیتوں کے لحاظ سے مختلف حلقوں میں تقسیم کرنا چاہیے اور ہر ایک کے سپرد وہ کام کرنا چاہیے جس کے لیے وہ اہل تر ہو۔ ان میں سے کوئی شہری عوام میں کام کرے اور کوئی دیہاتی عوام میں۔ کوئی کسانوں کی طرف متوجہ ہو اور کوئی مزدوروں کی طرف۔ کوئی متوسط طبقے کو خطاب کرے اور کوئی اونچے طبقے کو۔ کوئی ملازمین کی اصلاح کے لیے کوشاں ہو اور کوئی تجارت پیشہ اور صنعت پیشہ لوگوں کی اصلاح کے لیے۔ کسی کی توجہ پرانی درس گاہوں کی طرف ہو اور کسی کی نئے کالجوں کی طرف۔ کوئی جمود کے قلعوں کو توڑنے میں لگ جائے اور کوئی الحاد وفسق کے سیلاب کو روکنے میں، کوئی شعر وادب کے میدان میں کام کرے اورکوئی علم وتحقیق کے میدان میں۔ اگرچہ ان سب کے حلقہ ہائے کار الگ ہوں، مگر سب کے سامنے ایک ہی مقصد اور ایک ہی اسکیم ہو جس کی طرف وہ قوم کے سارے طبقوں کو گھیر کر لانے کی کوشش کریں۔ ان کا متعین نصب العین یہ ہونا چاہیے کہ اس ذہنی، اخلاقی اور عملی انارکی کو ختم کیا جائے جو پرانے جمودی اور نئے انفعالی رجحانات کی وجہ سے ساری قوم میں پھیلی ہوئی ہے، اور عوام سے لے کر خواص تک، سب میں صحیح اسلامی فکر، اسلامی سیرت، اور سچے مسلمانوں کی سی عملی زندگی پیدا کی جائے۔
یہ کام صرف وعظ وتلقین اور نشرواشاعت اور شخصی ربط ومکالمہ ہی سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مختلف سمتوں میں باقاعدہ تعمیری پروگرام بنا کر پیش قدمی کرنی چاہیے۔ مثلاً یہ عاملینِ اصلاح جہاں کہیں اپنی تبلیغ سے چند آدمیوں کو ہم خیال بنانے میں کام یاب ہوجائیں وہاں وہ انھیں ملا کر ایک مقامی تنظیم قائم کر دیں اور پھر ان کی مدد سے ایک پروگرام کو عمل میں لانے کی کوشش شروع کر دیں جس کے چند اجزا یہ ہیں:
بستی کی مسجدوں کی اصلاحِ حال، عام باشندوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرانا۔
تعلیمِ بالغاں کا انتظام۔
کم از کم ایک دارالمطالعہ کا قیام۔
لوگوں کو ظلم وستم سے بچانے کے لیے اجتماعی جدوجہد۔
باشندوں کے تعاون سے صفائی اور حفظانِ صحت کی کوشش۔
بستی کے یتیموں، بیوائوں، معذوروں اور غریب طالب علموں کی فہرستیں مرتب کرنا اور جن جن طریقوں سے ممکن ہو ان کی مدد کا انتظام کرنا۔
اور اگر ذرائع فراہم ہو جائیں تو کوئی پرائمری اسکول، یا ہائی اسکول یا مذہبی تعلیم کا ایسا مدرسہ قائم کرنا جس میں تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت کا بھی انتظام ہو۔
اسی طرح مثلاً جو لوگ مزدوروں میں کام کریں وہ ان کو اشتراکیت کے زہر سے بچانے کے لیے صرف تبلیغ ہی پر اکتفا نہ کریں، بلکہ عملاً ان کے مسائل کو حل کرنے کی سعی بھی کریں۔ انھیں ایسی مزدور تنظیمات قائم کرنی چاہئیں جن کا مقصد انصاف کا قیام ہو نہ کہ ذرائعِ پیداوار کو قومی ملکیت بنانا۔ ان کا مسلک جائز اورمعقول حقوق کے حصول کی جدوجہد ہو نہ کہ طبقاتی کشمکش… ان کا طریقِ کار اخلاقی اور آئینی ہو نہ کہ توڑ پھوڑ اور تخریب۔ ان کے پیشِ نظر صرف اپنے حقوق ہی نہ ہوں بلکہ اپنے فرائض بھی ہوں۔ جو مزدود یا کارکن بھی ان میں شامل ہوں ان پر یہ شرط عائد ہونی چاہیے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اپنے حصے کا فرض ضرورادا کریں گے۔ پھر ان کا دائرۂ عمل صرف اپنے طبقے کے مفاد تک ہی محدود نہ ہونا چاہیے بلکہ یہ تنظیمات جس طبقے سے بھی تعلق رکھتی ہوں اس کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی حالت کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔
اس عمومی اصلاح کے پورے لائحۂ عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو شخص جس حلقے اور طبقے میں بھی کام کرے مسلسل اورمنظم طریقے سے کرے اور اپنی سعی کو ایک نتیجے تک پہنچائے بغیرنہ چھوڑے۔ ہمارا طریقہ یہ نہ ہونا چاہیے کہ ہوا کے پرندوں اور آندھی کے جھکڑوں کی طرح بیج پھینکتے چلے جائیں۔ اس کے برعکس ہمیں کسان کی طرح کام کرنا چاہیے جو ایک متعین رقبے کو لیتا ہے، پھر زمین کی تیاری سے لے کر فصل کی کٹائی تک مسلسل کام کرکے اپنی محنتوں کو ایک نتیجے تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔ پہلے طریقے سے جنگل پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے طریقے سے باقاعدہ کھیتیاں تیار ہوا کرتی ہیں۔
۴۔ اس لائحۂ عمل کا چوتھا جز نظامِ حکومت کی اصلاح ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کے موجودہ بگاڑ کو دُور کرنے کی کوئی تدبیر بھی کام یاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ اصلاح کی دوسری کوششوں کے ساتھ ساتھ نظامِ حکومت کو درست کرنے کی کوشش بھی نہ کی جائے۔ اس لیے کہ تعلیم اور قانون اور نظم ونسق اور تقسیمِ رزق کی طاقتوں کے بل پر جو بگاڑ اپنے اپنے اثرات پھیلا رہا ہو اس کے مقابلے میں بنائو اور سنوار کی وہ تدبیریں جو صرف وعظ اور تلقین اور تبلیغ کے ذرائع پر منحصر ہوں، کبھی کارگر نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا اگر ہم فی الواقع اپنے ملک کے نظامِ زندگی کو فسق وضلالت کی راہ سے ہٹا کر دینِ حق کی صراطِ مستقیم چلانا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ناگزیر ہے کہ مسندِ اقتدار سے ہٹانے اور بنائو کو اس کی جگہ متمکن کرنے کی براہِ راست کوشش کریں۔ ظاہر ہے کہ اگر اہلِ خیر وصلاح کے ہاتھ میں اقتدار ہو تو وہ تعلیم اور قانون اور نظم ونسق کی پالیسی کو تبدیل کرکے چند سال کے اندر وہ کچھ کر ڈالیں گے جو غیر سیاسی تدبیروں سے ایک صدی میں بھی نہیں ہو سکتا۔
یہ تبدیلی کس طرح ہو سکتی ہے؟ ایک جمہوری نظام میں اس کا راستہ صرف ایک ہے اور وہ ہے انتخابی جدوجہد۔ رائے عام کی تربیت کی جائے۔ عوام الناس کے معیار انتخاب کو بدلا جائے۔ انتخاب کے طریقوں کی اصلاح کی جائے اور پھر ایسے صالح لوگوں کو اقتدار کے مقام پر پہنچایا جائے جو ملک کے نظام کو خالص اِسلام کی بنیادوں پر تعمیر کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہوں اور قابلیت بھی۔
فروری ۱۹۵۷ء کے تیسرے ہفتہ میں جماعت اسلامی پاکستان کے ارکان کا ماچھی گوٹھ میں اجتماع ہوا جس سے مولانا مودودیؒ نے طویل خطاب کیا۔ اس میں ایک قراد اد بھی پیش کی گئی جس میں جماعت کے آئندہ لائحہ عمل پر بھرپور دوشنی ڈالی گئی۔
جماعت اسلامی کا لا ئحہ عمل [تطہیر و تعمیر افکار ، صالح افراد کی تلاش، تنظیم اور تربیت ، اصلاحِ معاشرہ ، اصلاحِ نظام حکومت ]جس اسکیم پر مبنی ہے، اس کی کامیابی کا سارا انحصار ہی اس کے توازن پر ہے۔ اس کا ہر جز دوسرے اجزا کا مدد گار ہے، اس سے تقویت پاتا ہے اور اس کو تقویت بخشتا ہے۔ آپ کسی جز کو ساقط یا معطل کریں گے تو ساری اسکیم خراب ہو جائے گی۔ اور اس کے اجزا کے درمیان توازن برقرار نہ رکھیں گے تب بھی یہ اسکیم خراب ہو کر رہے گی:
کامیابی کی صورت یہ ہے کہ ایک طرف دعوت وتبلیغ جاری رکھیے تاکہ ملک کی آبادی زیادہ سے زیادہ آپ کی ہم خیال ہوتی چلی جائے ۔
دوسری طرف ہم خیال بننے والوں کو منظم اور تیار کرتے جائیے تا کہ آپ کی طاقت اسی نسبت سے بڑھتی جائے جس نسبت سے آپ کی دعوت وسیع ہو۔
تیسری طرف معاشرے کی اصلاح وتعمیر کے لیے اپنی کوششوں کا دائرہ اتنا ہی بڑھاتے چلے جائیے جتنی آپ کی طاقت بڑھے تا کہ معاشرہ اس نظامِ صالح کو لانے اور سہارنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیار ہو جائے جسے آپ لانا چاہتے ہیں۔
اور ان تینوں کاموں کے ساتھ ساتھ ملک کے نظام میںعملاً تغیر لانے کے آئینی ذرائع سے بھی پورا پورا کام لینے کی کوشش کیجیے تا کہ ان تغیرات کو لانے اور سہارنے کے لیے آپ نے معاشرے کو جس حد تک تیار کیا ہو اس کے مطابق واقعی تغیر رُونما ہو سکے۔
ان چاروں کاموں کی مساوی اہمیت آپ کی نگاہ میں ہونی چاہیے۔ ان میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کا غلط خیال آپ کے ذہن میں پیدا نہ ہونا چاہیے۔
ان میں سے کسی کے بارے میں غلو کرنے سے آپ کو پرہیز کرناچاہیے۔ آپ کے اندر یہ حکمت موجود ہونی چاہیے کہ اپنی قوت عمل کو زیادہ سے زیادہ صحیح تناسب کے ساتھ ان چاروں کاموں پر تقسیم کریں۔ اور آپ کو وقتاً فوقتاً یہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ ہم کہیں ایک کام کی طرف اس قدر زیادہ تو نہیں جھک پڑے ہیں کہ دوسرا کام رک گیا ہو، یا کمزور پڑ گیا ہو۔ اسی حکمت اور متوازن فکر اور متناسب عمل سے آپ اس نصب العین تک پہنچ سکتے ہیں جسے آپ نے اپنا مقصدحیات بنایا ہے…
ایک بڑی غلط فہمی :اس توازن کی بحث میں غلط فہمی کی ایک اور وجہ بھی ہے جسے نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ عموماً جب کوئی صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جماعت کے کام میں لائحۂ عمل کے چاروں اجزا کا توازن قائم نہیں رہا ہے تو ان کی گفتگو سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس کے ہر جز پر عمل صرف وہی ہے جو اس خاص جز کے نام سے کیا جائے۔ مثلاً دعوت کا کام وہ صرف اس کو شمار کریں گے جس پر ’ دعوت ‘ کا عنوان لگا ہوا ہو، اور اصلاحِ معاشرہ کا کام ان کے خیال میں صرف وہ ہو گا جو اس مخصوس نام کے ساتھ کیا گیا ہو۔ رہے وہ کام جن پر ’سیاست ‘ کا عنوان چسپاں ہو تو وہ اسے ’سیاسی کام ‘ کے خانے میں ڈال دیں گے اور یہ تسلیم نہ کریں گے کہ اس عنوان کے تحت دعوت ، توسیع نظام اور اصلاحِ معاشرہ کا بھی کوئی کام ہوا ہے۔
اس طرح بعض لوگوں نے مختلف عنوانات کے خانوں میں جماعت کے کام کو تقسیم کر رکھا ہے اور زیادہ تر یہی چیز ان کے اس دعوے کی بنیاد ہے کہ جماعت کا سیاسی کام اس کے دوسرے کاموں سے بہت بڑھ گیا ہے۔ حالاںکہ ہم جو اپنے لائحہ عمل میں چار عنوانوں پر کام کو تقسیم کر کے بیان کرتے ہیں تو وہ صرف یہ سمجھانے کے لیے ہے کہ زندگی کے کن کن گوشوں میں ہمیں کن مقاصد کے لیے سعی کرنی ہے۔ اس کا یہ مطلب کبھی نہیں ہوتا، اور نہیں ہو سکتا کہ عملاً بھی یہ الگ کام ہوں گے ۔ واقعہ کے اعتبار سے تو ان میں سے ہر کام ایسا ہے جس میں آپ سے آپ بقیہ سارے کام بھی شامل ہوتے ہیں ۔جب آپ دعوت کا کام کریں گے تو وہ مذہبی واعظوں کے طرز پر صرف دعوت ہی نہ ہو گی بلکہ توسیع نظام اور اصلاحِ معاشرہ کا مقصد بھی اس کے ساتھ خود بخود پورا ہو گا اور یہی آپ کا سیاسی کام بھی ہو گا۔ دوسری طرف جب آپ سیاسی کام کرنے اٹھیں گے تو یہ دوسری سیاسی پارٹیوں کے طرز پر محض سیاسی کام ہی نہ ہوگا، بلکہ اس کا افتتاح ہی دعوت دین سے کیا جائے گا ، اور اس کے اندر لازماً توسیع نظام اور اصلاحِ معاشرہ کے عناصر بھی شامل ہوں گے۔ (تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل ،ص۱۳۰-۱۳۳)
۱. تطہیر و تعمیرِ افکار: ذہنوں کو حق قبول کرنے کے لیے صاف کرنا۔
۲. تنظیم و تربیت: قیادت کے لیے صالح افراد کی تربیت کرنا۔
۳. اجتماعی اصلاح: معاشرے کو اسلامی نظامِ زندگی کے لیے عملی اور اخلاقی حیثیت سے تیار کرنا
۴. نظامِ حکومت کی اصلاح: ریاستی سطح پر نظامِ الٰہی کا قیام۔
ہماری جدوجہد کی منطق
یہ چاروں عناصر لازم و ملزوم ہیں۔ آپ بدعنوان افراد کے ساتھ ایک بدعنوان نظام کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔ آپ ریاستی اختیار کو نظر انداز کر کے اسلامی نظام کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ نظام کی تبدیلی کے بغیر دیگر تمام کوششیں ادھوری رہتی ہیں۔ اس لیے ہمارا لائحہ عمل صرف شاخوں کوہی نہیں بلکہ جڑوں پر بھی توجہ دیتا ہےژ۔
اس تحریک کا حصہ بنیئے۔ تبدیلی کا استعارہ بنیئے۔