مہنگائی برقرار رہی تو ملک گیر دھرنے ہوں گے، پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کی جائے: حافظ نعیم الرحمٰن

حافظ نعیم الرحمٰن کی ملک گیر دھرنوں کی وارننگ

لاہور، 10 جولائی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر نہ کی اور مہنگائی سے فوری ریلیف فراہم نہ کیا تو جماعت اسلامی ملک بھر میں دھرنے دے گی اور اہم شاہراہیں بند کرے گی۔

پٹرول، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ

جمعہ کے روز لاہور کے علاقے اچھرہ میں فیروزپور روڈ پر مہنگائی کے خلاف ایک بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ معاہدے ختم کیے جائیں، بجلی کے نرخ کم کیے جائیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اب حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر حکومت نے عوام کو حقیقی ریلیف نہ دیا تو پورا ملک سڑکوں پر نکل آئے گا۔

نوجوانوں کو پرامن احتجاجی تحریک کے لیے تیار رہنے کی اپیل

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حکومت ایک طرف عام شہریوں اور تنخواہ دار طبقے پر بھاری ٹیکس عائد کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف غیر ضروری سرکاری اخراجات اور فضول خرچی جاری ہے۔

انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ملک گیر احتجاجی تحریک کے لیے تیار رہیں اور جب بھی جماعت اسلامی کی جانب سے کال دی جائے تو پرامن انداز میں اپنی موٹرسائیکلوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں۔

پٹرولیم لیوی اور حکومتی اخراجات پر تنقید

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام سے فی لیٹر 118 روپے پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں وصول کر رہی ہے، جبکہ اس تمام بوجھ کو تنخواہ دار طبقہ اور عام شہری برداشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب اقتدار میں موجود افراد عوام کے ٹیکسوں پر شاہانہ مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، حالانکہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہییں۔

پنجاب حکومت پر سخت تنقید

حافظ نعیم الرحمٰن نے پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں طرزِ حکمرانی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کی درجنوں سڑکوں پر مناسب پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں، کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں، صحت کی سہولیات ناکافی ہیں اور پنجاب میں تقریباً ایک کروڑ بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے سوال کیا کہ اگر ترقی کے دعوے درست ہیں تو سرکاری اسکول کیوں فروخت کیے جا رہے ہیں اور لاکھوں بچے تعلیم سے کیوں محروم ہیں؟

توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا مطالبہ

حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک بار پھر بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل آنے والی حکومتوں نے آئی پی پیز (IPPs) کو اربوں روپے ایسی بجلی کی مد میں ادا کیے جو کبھی پیدا ہی نہیں کی گئی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی اور گیس عوام کو سستی فراہم کی جائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ایران۔امریکہ تنازع سے پہلے والی سطح پر واپس لائی جائیں۔

مرکزی شوریٰ کا ہنگامی اجلاس اور آئندہ حکمت عملی

امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ انہوں نے ہفتہ کے روز منصورہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں مہنگائی، ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں جماعت کی آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک مسلسل جمہوری تحریک کے لیے تیار رہیں۔

احتجاجی جلسے میں دیگر رہنماؤں کی شرکت

احتجاجی جلسے سے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری، سیکرٹری لاہور اظہر بلال اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی وسطی پنجاب بابر رشید نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر نائب امراء خالد احمد بٹ، انجینئر اخلاق، چوہدری محمد شوکت، صدر جماعت اسلامی یوتھ لاہور جبران بٹ، نائب سیکرٹری لاہور امیر نثار خان، شاہد نوید ملک، مرزا عبدالرشید، احمد سلمان بلوچ، سردار نور احمد ڈوگر، شیخ محمد انور، زاہد عمران کروٹانہ سمیت جماعت اسلامی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔