جماعت اسلامی کا بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کا مطالبہ

جماعت اسلامی نے مقامی حکومتوں کے انتخابات کی بحالی اور عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لیے قومی ایجنڈے کی ضرورت پر زور دیا۔

جماعت اسلامی نے پاکستان کے گورننس بحران کے حل کے لیے ایک جامع قومی ایجنڈے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران، پارٹی نے ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کو متاثر کرنے والی نظامی ناکامیوں کی نشاندہی کی اور قومی ترجیحات کے تعین اور آئین کے تحفظ کے لیے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

بلدیاتی نظام اور جمہوری اصلاحات کی وکالت

جماعت اسلامی کا ایک بنیادی تحفظ صوبوں اور اسلام آباد میں بااختیار مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی ہے۔ پارٹی نے نشاندہی کی کہ پنجاب پندرہ سال سے مقامی حکومتوں کے انتخابات سے محروم ہے، جبکہ اسلام آباد کے عوام کو بار بار قانون سازی میں تبدیلیوں کے ذریعے انتخابات کے حق سے دور رکھا جاتا ہے۔ بلوچستان میں، خاص طور پر ضلع کوئٹہ میں، یہ کہا گیا کہ اداروں کی مدت مکمل ہونے کے باوجود عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق نہیں ملا۔

پارٹی کا موقف ہے کہ موجودہ ہائبرڈ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، اور پارلیمنٹ، سیاست اور جمہوری عمل پر مخصوص اداروں کی بالادستی پاکستان کے لیے مسلسل بحران کا سبب بن رہی ہے۔ جماعت اسلامی کا ماننا ہے کہ پارلیمانی نظام کی ساکھ کی بحالی کے لیے ایک طاقتور اور آزاد الیکشن کمیشن کے تحت غیر جانبدار انتخابات ضروری ہیں۔ انہوں نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو آئینی طریقہ کار پر عمل کرنے کی دعوت دی۔

سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے قومی ایجنڈا

ملک کے سیاسی بحرانوں کے خاتمے کے لیے امیر جماعت اسلامی پاکستان، سید سرج الحق نے اتفاق رائے اور استحکام پر مبنی ایک قومی ایجنڈے کی تجویز دی ہے۔ جماعت اسلامی آئینِ پاکستان کو ایک مضبوط عمرانی معاہدہ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ اور بدنیتی پر مبنی ترامیم کو ختم کرنے کی حمایت کرتی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک آزاد عدلیہ 25 کروڑ عوام کے لیے انصاف کی فراہمی کی بنیادی شرط ہے۔

معاشی محاذ پر، جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ خود انحصاری اور حکمرانوں کی سطح پر کرپشن کا خاتمہ ہی معاشی استحکام کا واحد راستہ ہے۔ پارٹی پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر لیوی کے مکمل خاتمے کے لیے مہم چلا رہی ہے تاکہ پیداواری لاگت میں کمی آ سکے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب تک مقامی زرعی اور صنعتی شعبوں کو سہارا نہیں ملے گا، عام آدمی کو حقیقی معاشی ریلیف نہیں ملے گا۔

دہشت گردی کا مقابلہ اور قومی یکجہتی

پارٹی نے سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی بات کی اور بیرونی مداخلت اور دہشت گردی کے خطرات کی نشاندہی کی۔ جماعت اسلامی نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ایک متفقہ قومی ایکشن پلان کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیکیورٹی فورسز بڑی قربانیاں دے رہی ہیں، لیکن عوام اور اداروں کے درمیان بے اعتمادی کی خلیج کو پُر کرنا ملک میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔

عوامی تحریک اور سپر لونگ مارچ

جماعت اسلامی اس وقت کراچی اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں اور عوامی رابطہ مہم چلا رہی ہے۔ پارٹی عوام کو معاشی ریلیف دلوانے کے لیے ملتان سے اسلام آباد تک ایک "سپر لونگ مارچ" کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں لاکھوں شہریوں سے دستخط اور پٹیشنز جمع کی گئی ہیں تاکہ آئی پی پیز (IPPs) کے بوجھ اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف عوامی آواز اٹھائی جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی نے واضح کیا کہ وہ معمولی رعایتوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا مطالبہ عوام کے لیے مکمل ریلیف اور پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے پرامن احتجاج کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم ان کی اپنی جدوجہد کا مقصد معاشی پہیے کو دوبارہ چلانا اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔