جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج کا آئین سے بالاتر ہونا پاکستان کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ آئین پر حکومت اور فوج کی بالادستی پاکستان کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو گی۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی وفات کے بعد سیاسی، عسکری اور حکمرانوں نے ملک کو بانی پاکستان کے افکار اور نظریات سے دور کر دیا ہے۔ حکمران 2026 کو قائد اعظم محمد علی جناح کا سال قرار دے رہے ہیں لیکن انہیں واضح کرنا چاہیے کہ وہ 2026 میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کریں گے اور ماضی میں ہونے والی غلطیوں کی قوم سے معافی مانگیں گے۔ قائداعظم نے ہر مرحلے پر واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا آئین قرآن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ حقانیہ المرکز اسلامی سنگوٹہ سوات میں ختم بخاری کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ قائداعظم نے واضح طور پر کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، حکمران واضح کریں کہ اس شہ رگ کو آزاد کرانے کے لیے ان کا لائحہ عمل کیا ہے۔ بانی پاکستان نے اسرائیل کو عالم اسلام کے سینے پر زخم کہا لیکن حکمران بھی دبے لفظوں میں قائداعظم کی حکمت عملی سے انحراف کر رہے ہیں۔ حکمران واضح کریں کہ 2026ء میں فلسطین کے حوالے سے ان کی حکمت عملی اور اقدامات کیا ہوں گے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیر اعظم قوم کو بتائیں کہ وہ ملک کے سیاسی مسائل کو سیاسی طور پر حل کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں بصورت دیگر یہ محض سیاسی اسٹنٹ ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کے نظام کا نفاذ ہی پاکستان کی اصل منزل ہے۔ آئین، انسانیت کا احترام، انسانی حقوق کا تحفظ، معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم، نظام انصاف کی آزادی ناگزیر ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت عوام کو نہ انقلابی نظام دے سکی اور نہ ہی کوئی فلاحی نظام۔