جماعت اسلامی نے الئیٹ قبضے کو چیلنج کیا، نوجوان پروگرامز کا آغاز
جماعت اسلامی کے رہنما نے پیٹرولیم لیوی اور الئیٹ قبضے کی مذمت کرتے ہوئے الخدمت کے بنو قابل پروگرام کی توسیع اور نوجوانوں کے لیے نئے زی کنیکٹ اسٹارٹ اپ مبادرے کا اعلان کیا۔
جماعت اسلامی کی قیادت نے پاکستان کے معاشی ماڈل کی سخت تنقید کی ہے جو تنخواہ دار طبقے اور غریبوں پر بھاری بینہ تاثری ٹیکسز کا بوجھ ڈالتا ہے جبکہ الئیٹ معافیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ الخدمت کراچی کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی، بجلی کے فیکس چارجز، اور رجعی ٹیکسیشن عام شہریوں سے سو ارب روپے نکال لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جاگیردار اور حکمران الئیٹ کم سے کم ٹیکس ادا کرتے ہیں اور عوام کے فنڈز سے لکچری اثاثے خریدتے ہیں۔ خطاب نے اس تفاوت کو سیاسی کارٹیلز کے تحفظ میں الئیٹ قبضہ قرار دیا جو تمام بڑی پارٹیوں میں موجود ہیں۔
معاشی ناانصافی اور پیٹرولیم لیوی
خطیب نے تفصیل سے بتایا کہ ہر لٹر پیٹرول میں تقریبا 135-136 روپے حکومت کی لیویز شامل ہیں — پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، اور کسٹم ڈیوٹی — جو عالمی تیل کی قیمتیں سے غیر متعلق ہیں۔ جب ایران-اسرائیل تنازعے کے دوران بین الاقوامی قیمتیں بڑھیں، حکومت نے سبسڈی ختم کر دی اور لیوی مزید بڑھا دی۔ 이에 مقابلے میں، تنخواہ دار طبقے نے سالانہ 650-700 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ بڑے زمین کے مالکان نے مشترکہ طور پر صرف 12 ارب روپے دیے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں رپورٹڈ طور پر 1300 ارب روپے کی بدانوانی ہے، اور حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے میڈل کلاس اور غریبوں سے 1570 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
یہ دو طبقے کا نظام، خطاب کے مطابق، اس لیے برقرار ہے کیونکہ تمام بڑی سیاسی پارٹیاں لینڈ، آئی پی پی، آئل مارکیٹنگ، اور بینکنگ مافیاؤں کی مقروض ہیں جو ان کی ریلیز اور گھریلو اخراجات چلاتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے خود کو ایسی فنڈنگ سے آزاد بتایا، کارکنوں کے چندے پر انحصار کرتے ہوئے، اس لیے یہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کی رہنما ہے۔ پارٹی نے موسمی عوامی دباؤ کے ذریعے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے اور لیوی ختم کرنے پر "خوشخبری" کا اعلان کیا۔
الخدمت کے بنو قابل اور زی کنیکٹ کی توسیع
الخدمت کا بنو قابل پروگرام کراچی سے چترال، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پورے خیبر پختونخوا، پنجاب، اور بلوچستان تک پھیل چکا ہے — جس میں گوادر، لورالائی، جعفر آباد، اور کوئٹا شامل ہیں۔ ان علاقوں میں اپٹی ٹیوڈ ٹیسٹز نے خراب حالات کے باوجود پورے گراؤنڈز بھر دیے، جو تکنیکی تعلیم کی طلب کا ثبوت ہے جہاں حکومتیں ناکام رہیں۔ ملک بھر میں 16-17 لاکھ طلبہ رجسٹر ہو چکے ہیں، ملین پاس آؤٹ ہوئے ہیں، جس سے معاشی اثر نظر آ رہا ہے۔ کورسز کو مصنوعی ذہانت کی مہارتیں پر ترجیح دیتے ہوئے نئے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
بنو قابل کے ساتھ، نئے زی کنیکٹ پروگرام کا ہدف جنریشن زی ہے جس کے تین ستون ہیں: آئی ٹی کورسز، مائیکرو فائننسنگ اور ورک اسپیس کے ساتھ اسٹارٹ اپ انکیوبیشن، اور دونوں جنسوں کے لیے کھیل کی سہولتیں۔ مقصد نوجوانوں کو نوکری مانگنے والے سے Unternehmer بنانا ہے، ملازمت دینے والے بنانا۔ الخدمت نے زور دیا کہ تکنیکی مہارتیں کافی نہیں؛ اخلاقی تربیت بھی تعلیم کے ساتھ ضروری ہے تاکہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال روکا جا سکے۔ خطیب نے اسرائیل اور امریکا کو پیش کردیا جو بغیر اخلاقیات کی پیش رفتہ ٹیکنالوجی سے غزہ میں تباہی مشتہر ہیں۔
نوجوانوں کی اقتدار، Merit، اور قومی وحدت
خطاب نے سرکاری ملازمتوں میں نظامی امتیاز کی مذمت کی، بتاتے ہوئے کہ کراچی ڈوميسائل رکھنے والوں کے لیے سیکرٹریٹ اور ٹیچنگ پوسٹس کے دروازے بند ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت نے تمام نسلی گروہوں — پختون، سندھی، بلوچ، مہاجر، پنجابی، سرائیکی، کشمیری، گلگتی، بلتی، میمن، گجراتی — اور غیر مسلم طلباء کے لیے merit پر مبنی شاملیت کا عہد کیا۔ صوبائی حکومت کو "نسل پرست" قرار دیا گیا جو مواقع بند کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد اور ذاتی صلاحیت — تعلیم، کاروباری روح، اور بزرگوں کا احترام — دونوں پر کام کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
مقصددار زندگی پر زور دیتے ہوئے خطیب نے نوچوانوں کو یاد دلایا کہ پاکستان ان کا ہے جنہوں نے اس کے لیے قربانی دی — مہاجرین جنہوں نے گھر، کاروبار، اور اجدادی قبریں چھوڑی تھیں ایک عادلانہ نظام کے لیے۔ الئیٹ قبضہ تقسیم پر پلتا ہے: مہاجر برنام سندھی، پختون برنام پنجابی، فرقہ واران نعرے۔ 65 فیصد آبادی نوجوان ہے، مایوسی بےجا ہے۔ الئیٹ کنٹرول سے آزادی سیاسی اشتراک اور ذاتی ترقی سے ممکن ہے۔ تقریب الخدمت کے волنٹیئرز کے خراج تحسین اور نوجوانوں کو "چراغ سے چراغ جلانے" کی اپیل پر ختم ہوئی۔